×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چیف جسٹس کی گاڑی سے وزیراعظم کی گاڑی تک کا سفر
Dated: 24-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com 9اپریل 2007ء کا دن تھا جب اسلام آباد سے ایک قافلہ چلا تھا عدلیہ کو انصاف دلانے ،جمہوریت کی بحالی اور ڈکٹیٹر شپ سے نجات اس کی منزل تھی ۔اس وقت کے معزول چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری قافلے کو لیڈ کر رہے تھے اور بیرسٹراعتزاز احسن اس گاڑی کو ڈرائیو کر رہے تھے۔جس میں چیف جسٹس ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے ۔ اس طرح اس قافلے کے دو ہیروز تھے اور اعتزاز احسن کو عوام میں کافی پذیرائی ملی۔جی ٹی روڈ سے یہ قافلہ 24گھنٹے سے زائدکی تاخیر سے لاہور پہنچا تو عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ اورتین سو کلومیٹر لمبی یہ ’’انصاف کی برات‘‘جسے راستے میں جگہ جگہ عوام سے والہانہ پیار ملا ۔دو سال کے بعد چیف جسٹس بحال ہوئے تو آہستہ آہستہ اعتزاز احسن گوشہ گمنامی میں چلے گئے جنہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ چیف جسٹس کے سامنے بحیثیت وکیل پیش نہ ہوں گے مباداکہ ان پر وہ الزام آئے کہ وہ عدالت پر اثرانداز ہوئے ہیںمگر وقت گزرنے کے ساتھ بے شمار ایسے مواقعے آئے کہ اعتزاز احسن کی ذات موضوع بحث رہی کہ وہ متنازعہ اور مشکل کیسوں کی بھاری فیسیں سمیٹ رہے ہیں۔اور بے شمار وہ لوگ جو چیف جسٹس کے سامنے اپنا کیس نہ لے جانا چاہتے تھے وہ اعتزاز احسن کو اپنا وکیل مقرر کرکے عدلیہ سے آنکھ مچولی کرتے رہے۔ اعتزاز احسن کو جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں اس سے پہلے جب گجرات سے سابق ایم پی اے اورصوبائی وزیر انور سماں قتل ہوئے تو اس ضمنی الیکشن میں اعتزاز احسن جیت کر آئے۔ جب 77ء کے الیکشن ہوئے تو پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر اعتزاز احسن دوبارہ جیت کر آئے اور صوبائی وزیر بنے۔77ء کے الیکشن کو قومی اتحاد کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور بعدازاں قومی اتحاد نے ایک بھرپور احتجاجی تحریک چلائی۔ اعتزاز احسن پنجاب کی کابینہ میں پہلے وزیر تھے جنہوں نے پیپلزپارٹی کے اقتدار کے ڈوبتے ہوئے جہاز سے چھلانگ لگائی اور اپنی سیاسی راہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو سے جدا کر لیں۔پھر جب 12اکتوبر1999ء کو فوج نے جنرل پرویز مشرف کی معیت میں اقتدار پر قبضہ کیا اور میاں نوازشریف پابندسلاسل ہوئے اس سے پہلے میاں نوازشریف کے دوسرے وزارتِ عظمیٰ کے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری پر مقدمات بنائے گئے تھے اور اعتزاز ان مقدمات میں سے کچھ مقدموں کے وکیل تھے۔مگر بعد میں جب میاں نوازشریف زیرعتاب آئے تو سابق صدر رفیق تارڑ جو کہ اعتزاز احسن کے قریبی عزیز ہیں نے میاں نوازشریف صاحب اور اعتزاز احسن کے درمیان ایک ڈیل کروا دی اور اعتزاز احسن نے میاں نوازشریف فیملی کی طرف سے عدالت میں اپنا وکالت نامہ پیش کر دیا۔جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید شدید برہم اور خفاہوئیں جس کا میں چشم دید گواہ ہوں ۔ محترمہ بھی ان دنوں جلاوطن تھیں اور لندن میں پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ میری بحیثیت مرکزی رکن یہ پہلی میٹنگ تھی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین گوا ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اعتزاز احسن سے خفا رہیں اور باہم گفتگو سے گریز کیا۔ اسی طرح اعتزاز احسن صاحب کا مردِ صحافت مجید نظامی صاحب سے بڑا تعلق تھا اورہر موقع پر ،ہر مشکل وقت میں مجید نظامی صاحب اوران کے ادارے کااعتزاز احسن کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے ۔ نوائے وقت جیسے موقر جریدے نے ہمیشہ اعتزاز احسن صاحب کو نامساعد حالات میں بھی کوریج دی مگر ایک دن اچانک مجید نظامی صاحب کو پتہ چلا کہ اعتزاز احسن صاحب نے صرف چند ٹکوں کی خاطر پرانی دوستی ،پرانے تعلق کو ملحوظ خاطر تک نہ رکھا اور جناب مجید نظامی صاحب کے خلاف ان کے مخالفین کے وکیل بن گئے۔مندرجہ بالا واقعات سے ثابت ہوا کہ محترم اعتزاز احسن صاحب کسی بھی دھڑے، کسی بھی دوست کو کسی بھی وقت داغ مفارقت دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔میں چونکہ ان کے ماضی کو جانتا ہوں اس لیے ان کے 19جنوری کو پرائم منسٹر یوسف رضا گیلانی کی گاڑی میں بیٹھنے اور بحیثیت وکیل ان کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے پر چنداں حیران نہیں ہوا۔سیاست کی الف ب سمجھنے والا بھی یہ سمجھتا ہے اور جان گیا تھا جب 27دسمبر2011ء کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی صدارتی تقریر کے بعد مسکراتے ہوئے اعتزاز احسن کو دعوت خطاب دیا ، صدر مملکت کی اس پراسرار ہنسی میں سب کچھ پنہاں تھا اور عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے۔بہرحال موجودہ حالات میں ایک دفعہ پھر اعتزاز احسن پوری طرح خبروں میں اِن ہیں مگر وہ لوگ جو کل تک ان کے لیے جان نچھاور کرنے کو تیار تھے اور ان کے لیے نعرہ مستانہ لگاتے تھے اب وہی لوگ سڑکوں پر ان کے خلاف ’’زرداری کا جو یار ہے وہ غدار ہے غدار ہے ‘‘ اور چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار ۔اعتزاز تیرے ضابطے ہم نہیں مانتے‘‘جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔احاطہ عدالت میں فلک شگاف نعروں کی ان گونج میں اعتزاز احسن کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑکر جانا پڑا اور بقول شخصے ’’اتنا مہنگا وکیل کرکے وزیراعظم نے اپنے گلے سے پھندا اتار کر صدر آصف علی زرداری کے گلے میں ڈال دیا ہے یہ تو اس طرح ہے کہ کسی شخص سے قتل ہو گیا اس نے مشہور اورمہنگے ترین وکیل کی خدمات حاصل کیں مگر اسے پھانسی کی سزا ہو گئی جس پر اس ملزم کے جاننے والے ایک نوجوان وکیل نے کہا یار جو سزا آپ نے پانچ لاکھ روپیہ دے کر حاصل کی ہے میں وہ آپ کو پانچ ہزار میں دلوا سکتا تھا۔‘‘اب وزیراعظم توہین عدالت کی کارروائی صدر مملکت کے آئینی استثنیٰ میں بدل گئی ہے۔ صدر مملکت نہیں چاہتے تھے کہ استثنیٰ کی کلیرنس عدلیہ سے لی جائے مگر وزیراعظم کی پھرتیوں سے یہ پھندا ان کے گلے سے صدر مملکت کے گلے میں منتقل ہو گیا ہے اگر اعتزاز احسن یہ سمجھتے ہیں کہ بحیثیت وکیل وہ دوست دشمن کسی کا بھی کیس لے سکتے ہیں تو یہ موصوف یہ بھول گئے ہیں کہ وہ وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاست دان بھی ہیں اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی مرکزی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ شاید اعتزاز احسن میں بروقت فیصلہ نہ کرنے کی حِس نے انہیں اکثر ٹرینیں مِس کروائی ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں چیف جسٹس اور ان کی ٹیم کے خصوصی ممبر اعتزاز احسن کو اپنے پیار سے نوازا لیکن لاکھوںپاکستانیوں کی طرح میں بھی یہ سمجھتا ہوں اعتزاز احسن نے وہ ’’روزہ‘‘عصر کے وقت توڑ دیا ہے وگرنہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں اعتزاز احسن کا کردار جو ابھر کر سامنے آیا تھا اس سے ان کو پاکستان بھر کے ہر طبقہ ہائے فکر کی طرف سے پذیرائی ملی تھی۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد کافی سینئر لوگ پیپلزپارٹی چھوڑ گئے اور کچھ سینئرز کو پارٹی نے نکال دیا۔ ایک جذباتی طبقہ اور جیالوں کا ٹولہ اس پر خوش تھا کہ شاید کسی دن اعتزاز احسن ان کی امیدوں اور آس کی آواز بنے گا۔پتہ نہیں اعتزازاحسن صاحب نے محض چند ٹکوں اور سینیٹر کی سیٹ کی خاطر لاکھوں کارکنوں کے دل دکھائے ہیں یا معاملات کچھ اس سے بھی آگے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus