×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لندن، پیرس، نیویارک
Dated: 03-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اور یہ جاننے کے لیے کہ یہ ایک منظم، متحد، سلجھی ہوئی اور باوقارقوم ہے ،کسی پی ایچ ۔ ڈی کی ضرورت نہیں بلکہ اس ملک کا ٹریفک کانظام ہی اس قوم کا عکاس ہوتا ہے۔ میں نے اکثر اپنے کالموں میں خادمِ پنجاب جو اب شہبازِ پاکستان کا خطاب بھی پا چکے ہیں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی تھی کہ پنجاب کا تیزی سے بگڑا ہوا سفری سہولتوں کا نظام اور انفراسٹرکچر تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ خصوصاً لاہور میں لاکھوں موٹرسائیکلوں اور چنگ چی رکشوں کی موجودگی میں بیچارے چند سو ٹریفک وارڈن ناکافی ہیں۔ خادمِ پنجاب جو کہ چھاپے مارنے کے لیے خاصے مشہور ہیں کسی دن اپنے ہی آفس کے پچھواڑے چند گز دور دن کے وقت آفس ٹائم میں بغیر کسی پروٹوکول اور پیشگی اطلاع کے لارنس روڈ سے گزرتے ہوئے پنجاب ایجوکیشن بورڈ اور گنگام رام ہسپتال سے ہوتے ہوئے صفانوالہ چوک کراس کرکے دکھائیں جہاں پر پارکنگ مافیا نے سڑک کے اوپر ہزاروں موٹرسائیکلوں کو پارک کروا رکھا ہوتا ہے اور وہاں سے گاڑی سے گزرنا تو درکنار پیدل گزرنا بھی پُل صراط سے کم نہیں ہوتا۔پنجاب کے چھوٹے بڑے سبھی شہروں میں موٹرسائیکل سواروں کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق باقی نہیں رہ گیا جس کا دل کرے وہ موٹرسائیکل خرید کر چار چار سواریاں بٹھا کر سڑک پر آ جاتا ہے کوئی اس سے لائسنس بنانے والا یہ نہیں پوچھتا کہ کیا اسے ٹریفک کے قوانین کا بھی اتہ پتہ معلوم ہے یہی حال چنگ چی رکشوں کی بھرمار کا ہے جن کی وجہ سے لاہور اس کے مضافات میں ٹریفک کے بگڑتے ہوئے نظام کو سنبھالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کسی ایک چنگ چی کی بھی رجسٹریشن تو دور کی بات ٹریفک قوانین کے مطابق اس کی تیاری ہی نہیں ہوتی۔ ایک سیکنڈ ہینڈ موٹرسائیکل کو کاٹ کر چنگ چی ٹانگہ بنا لیا جاتا ہے اور پھر سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کیا خادم اعلی پنجاب یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی چنگ چی رکشے والے ڈرائیور کے پاس لائسنس نہیں ہوتا؟ اور اگر ہوتا ہے تو کیا وہ لائسنس چند سو روپے دے کر حاصل تو نہیں کیا گیا؟اورجب لاہور شہر کا اور پنجاب کے دوسروں شہروں کا شاہرات تعمیر کرنے کا منصوبہ بن رہا تھا تو موٹرسائیکل، چنگ چی رکشوں اورٹیوٹا ہائی ایکس ویگنوں کے لیے پارکنگ یا متبادل ٹریک نقشے میں دکھایا گیا تھا؟ جبکہ پنجاب کی سڑکیں نیٹو کے کنٹینرز جیسی ہیوی کارگو ٹرالوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمارے مکار دشمنوں نے ہمیں سرد اور گرم جنگوں میں اس قدر پھنسائے رکھا کہ ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی شاہراہوں ،پُلوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر توجہ ہی نہیں دے سکے۔ ہمارے ملک کے عیش و عشرت پسند حکمرانوں نے ہمیشہ غریب عوام کا خون نچوڑنے کو ترجیح دی۔ ہر سال ہزاروں کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر خرچ کی مد میں ملک کا خزانہ لوٹ لیا جاتا ہے اور اس گورکھ دھندے میں چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ افسران اس طرح چمٹے ہوئے ہیں کہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی پراجیکٹ بھی پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ پاتا۔ اس ملک میں موجود بے شمار کنسٹرکشن کمپنیاں بیوروکریسی سے مل کر ہر سال کھربوں روپے ڈکار لیے بغیر ہضم کر جاتی ہیں۔ مشرف دور میں عروج پانے والی ایک کنسٹرکشن کمپنی نے لاہور کے دل میں سینکڑوں کنال اراضی پر کلب بنا کر قبضہ کر رکھا ہے بلکہ پاکستان میں صرف وہی ٹینڈر ان کو نہیں ملتا جنہیں وہ خود ہی نہیں لینا چاہتے۔ گذشتہ الیکشن 2008ء کے بعد جب پیپلزپارٹی وفاقی حکومت تشکیل دے رہی تھی انہی دنوں وزیراعظم محترم کے بیٹے کی شادی تھی اور جس دن وزیراعظم صاحب نے وزارتِ اعظمیٰ کا حلف اٹھایا اسی شام ان کے بیٹے کی دعوتِ ولیمہ جس فارم ہائوس پر رکھی گئی وہ اس ملک کی سب سے بڑی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک کا تھا اور ایک اطلاع کے مطابق کنسٹرکشن کمپنی کے مالک نے ولیمے میں شریک ہونے والے ہزاروں مہمانوں کا خرچہ برداشت کیا تھا۔ ان حالات میں اس ملک کے منتخب وزیراعظم اور کنسٹرکشن کمپنی کے مالکان سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے کرپشن کی اس گنگا میں ڈبکی نہیں لگائی ہو گی؟ ہمیں یہ بھی پتہ کرنا ہوگا کہ مشرف دور میں وہ کون سے سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ عہدے دار تھے جنہوں نے آنے والے دنوں میں پاک سرزمین سے گزرنے والے ہزاروں لاکھوں کنٹینرز کو راہداری مہیا کی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس نیٹو کی بھاری بھرکم کارگو ٹریفک گزرنے سے ہماری سڑکیں، پُل تو تباہ ہوئے ہی ہیں ان سڑکوں کے ٹوٹنے کے بعد ہماری گورنمنٹ ٹرانسپورٹ اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو سپیئر پارٹس درآمد کرنے کی مد میں تقریباً پینتالیس ارب ڈالر ضائع کرنے پڑے جبکہ صرف مٹھی بھر سول و ملٹری بیوروکریسی صرف چند سو ملین ڈالروں کی کمیشن وصول کرکے عیش و عسرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ خادم اعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ سڑکوں کی اس توڑ پھوڑ میں پنجاب کے حصے کے نقصان کا مرکز سے تقاضا کریں۔ مگر اس کے ساتھ خادمِ اعلیٰ یہ بھی یاد رکھیں کہ پنجاب صرف لاہور تک محدود نہیں ہے اور نہ ہی کسی بدخواہ کے چاہنے سے جنوبی پنجاب اور سرائیکی صوبہ کی صورت میں پنجاب کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ گذشتہ دنوں مجھے ڈسکہ اور اس کے مضافات میں جانے کا موقع ملا تو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور خستہ حال پُل اور بے ہنگم اور ٹوٹے پھوٹے نہروں کے کنارے جنہوں نے سڑکوں کا نام و نشان مٹا یاہوا تھا، پنجاب کی ترقی کا منہ چڑچڑاتا ثبوت تھا۔ پچھلے چند سالوں میں درجنوں مسافر ویگنیں نہر میں گرنے سے کئی گھروں کے چراغ گُل اور امیدیں دم توڑ گئیں مگر نہ سڑکیں بنیں اور نہ نہروں کے کنارے۔ خادم پنجاب صاحب جلو موڑ سے ٹھوکر نیاز بیگ تک نہر کی دونوں اطراف سڑکیں متعدد پُل ،انڈر پاسزاور جنگلے لگا کر اربوں روپے صرف کیا گیا ہے جبکہ میرے گائوں میترانوالی جو کہ ڈسکہ ،وزیرآباد، گکھڑ، راہوالی، نندی پور، سمبڑیال کے وسط میں ہر مقام سے دس سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔وزیراعلیٰ صاحب آپ دنیا کی سب سے آرام دہ گاڑی میں بھی وہاں پہنچ کر دکھائیں اگر ’’کمر‘‘ نہ ٹوٹی تو کمر کی درد ضرور نکل آئے گی۔ کیا خادمِ اعلیٰ پنجاب نے حلقہ این اے 112،113،114سے منتخب ممبران قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے کبھی یہ پوچھنے کی جسارت کی ہے کہ متعلقہ اراکین نے اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے لیے کبھی کوئی گرانٹ اور فنڈز کیوں نہیں مانگے؟ کیا ڈسکہ، سمبڑیال اور پسرور یہ سب لندن، پیرس اور نیویارک ہیں؟ کیا ڈسکہ، پسرور سمبڑیال کے علاقے پاکستان کے ترقی یافتہ ترین علاقے ہیں جہاں ترقیاتی کاموں کی ضرورت نہیں؟خادم اعلیٰ ان علاقوں سے منتخب اراکین اسمبلی کو بلوا کر ذرا پوچھیں تو کہ آخر کب تک وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے صرف میاں برادران کی خدمت، قید جلاوطنی اور قربانیوں کے نام پر عوام کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔ خادم اعلیٰ پنجاب صاحب! پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی حقیقت اپنی جگہ مگر یہ سب ایک سسٹم، ایک پروگرام کے تحت کیا جانا چاہیے۔ میاں شہبازشریف صاحب! بے شک آپ کا ظرف اور ویژن اعلیٰ ہے مگر سیانے کہتے ہیں کہ اگر کچھ اور نہ ہو تو دیوار سے بھی مشورہ کر لینا چاہیے۔ بے شک سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور گورنمنٹ سرپرستی میں ٹریفک کے نظام کی بحالی کا آغاز لاہور ہی سے کیوں نہ کیا جائے مگر اس کے ثمرات ڈسکہ، پسرور اور سمبڑیال بھی پہنچنے چاہئیں۔ وگرنہ اس ملک کے لوگ ’’علی ظفر‘‘ کی نئی فلم لندن، پیرس، نیویارک ہی دیکھ کر گزارا کر لیں گے اور پھر کبھی ملک کو لندن ،پیرس، نیویارک بنانے کے سیاستدانوں کے کھوکھلے نعروں پر یقین نہیں کریں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus