×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اسلم گِل۔آپ بھی بھولے بادشاہ ہو
Dated: 07-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ بات مجھے اس وقت بھی کھٹکتی تھی اور مجھے اس خبر کی صداقت پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی نے اسلم گِل کو ٹکٹ ایوارڈ کر دیا ہے ۔ دراصل موجودہ حالات میں ایک کارکن کی ایسی پذیرائی کی توقع تو نہیں کی جا سکتی ،شاید محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوتیں تو وہ ایک جاگیردار ،سرمایہ دار ،کارخانہ دار کے بیٹے کی بجائے ایک کسان کے بیٹے اور جیالے ورکر کو ٹکٹ دے دیتیں۔شہید بھٹو اورمحترمہ کے زمانے میں ایسے بے شمار لوگ جو معمولی اور مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے نہ صرف قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبر بنے بلکہ ایک بڑی تعداد سینیٹ کی ممبر بھی بنی۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ جاگیردار اور سرمایہ دار جن کے مقابلے میں یہ پارٹی تشکیل دی گئی تھی بارش کے بعد کھمبیوں کی طرح جگہ جگہ پارٹی میں نظر آنے شروع ہو گئے۔جیسے ہی مجھے اسلم گل کی ٹکٹ کے متعلق کنفرم ہوا تو میں نے انہیں فون کیا اور مبارک باد دی اور دعا دی کہ اللہ انہیں کامیاب کرے مگر ساتھ ہی تنبیہہ بھی کی کہ ایک کارکن کو ٹکٹ ملنا بے شمار لغاریوں ،مزاریوں اور مخدوموں کو ہضم نہیں ہوگا اور یہ کہ اسلم گل اس کا پہلے سے بندوبست کر لیں۔دراصل پیپلزپارٹی موجودہ حالات میں جن ہاتھوں کے حصار میں قید ہے وہ پارٹی کے اندرونی نظام پر اس حد تک اثر رکھتے اور قابض ہیں کہ کوئی پھڑ پھڑا نہیں سکتا ۔آج اگر شہید بی بی زندہ ہوتیں جنہیں پارٹی کے اعلیٰ عہدے دار چاہے وہ یو سی ،تحصیل ،ضلع ،ڈویژن ،پنجاب کونسل ،فیڈرل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ہر شخص کو وہ ذاتی طور پر جانتی تھیں اور اپنے سامنے آنے والے ہر کارکن کو جب وہ اس کا نام لے کر پکارتی تھیں تو جیالے کا سیروں خون بڑھ جاتا تھا ۔آج محترمہ خود بھی آ جائیں تو انہیں پارٹی کے اندر پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر قابض لوگوں کو پہچاننے میں یقینا دِقت ہو گی۔آج پیپلزپارٹی کی پہچان جو چہرے بنے بیٹھے ہیں وہ کل تک پیپلزپارٹی کی پچھلی صفوں میں بھی کہیں نظر نہیں آتے تھے اور ان عہدیداران کی ایک بڑی تعداد ’’مرحومہ ق لیگ‘‘ سے پیپلزپارٹی کو جہیز میں ملی ہے۔محترمہ شہید کے دور میں پارٹی کے اندر ایک ڈسپلن اور مختلف موقعوں پر کمیٹیاں تشکیل دی جاتی تھیں جب کہ آج سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر پنجاب میں تو کم از کم ایسی کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ میں نے خود مختلف چینلز پر مختلف اراکین صوبائی اسمبلی کے ٹی وی کمنٹس دیکھے اور مجھے حیرانگی ہوئی کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے متعدد اراکین کو اپنے ان امیدواروں کے ناموں تک کا پتہ نہیں جن کو انہیں ووٹ دینا ہے۔ محترمہ کے دور میں ٹکٹ دینے کے لیے کمیٹیاں بنتی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے 2008ء کے الیکشن سے پہلے لاہور میں پیپلزپارٹی پنجاب کے فنانس سیکرٹری اور حلقہ 121سے امیدوار قومی اسمبلی اورنگ زیب برکی کے گھر جب کہ محترمہ جلاوطنی پر تھیں محترمہ ناہیدخان اور صفدر عباسی کی قیادت میں سات دن تک میلے کا سا سماں تھا ۔پورے پنجاب میں سے امیدواران کو اطلاع کی گئی ان سے درخواستیں وصول کی گئیں اور ان کی سکروٹنی کی گئی پھر ہر تحصیل، ہر ضلع اور ہر ڈویژن کے صدور سے ان کے متعلق رائے لی گئی اورپھر اسی پر بھی اکتفا نہ کیا گیا اور محترمہ نے سکروٹنی کے بعد بقیہ امیدواران کو لندن طلب کیا جہاں بی بی نے ایک دفعہ پھر ہفتہ بھر امیدواران کے انٹرویوکیے اور شارٹ لسٹ کرکے پاکستان واپسی کا پلان بنایا ۔ محترمہ ٹکٹیں دینے کے مسئلہ پر اس قدر محتاط تھیں کہ انہوں نے نومبر کے دوسرے ہفتے میں چک شہزاد والے محترمہ ناہید خان کے فارم ہائوس پر ایک تیسری دفعہ امیدواران کو پھر مدعو کیا اور ان کے انٹرویو کرکے حتمی امیدواران کا اعلان کیا۔اس سارے پراسیس میں امیدواران کا جوش دیدنی تھا اور یہ بھی ایک قسم کی الیکشن کمپین کے مصداق تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے ہمیشہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا یہی وجہ ہے کہ محترمہ نے اپنی آٹھ سالہ جلاوطنی کے دور میں پارٹی کی فیڈرل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کے مشترکہ اجلاس بڑے تواتر اور باقاعدگی سے دوبئی اورانگلینڈ میں منعقد کیے۔جبکہ اب ایک کورکمیٹی ہی ہر جگہ نظر آتی ہے جس کی پارٹی آئین کے مطابق کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔یہ شہید محترمہ کا ویژن تھا کہ فیصلہ بے شک وہ خود کرتیں لیکن کارکن ،عہدیداران ،امیدواران اس بات پر مطمئن نظر آتے کہ شہید محترمہ نے انہیں اعتماد میں تو لیا ہے اور جب محترمہ فیصلہ کر لیتیں تو پارٹی کی فیڈرل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی بھی اس کی توثیق کر دیتی تو پھر سینیٹ الیکشن ہو یا کوئی اور کسی امیدوار کی جرأت نہ ہوتی کہ وہ پارٹی فیصلے سے انحراف یا غداری کرے ۔حالانکہ ان دنوں پیپلزپارٹی اقتدار سے مکمل طور پر باہر تھی۔ مگر اب کیا وجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی مرکز میں چار سال سے اقتدار میں ہے ۔ملک میں پہلی دفعہ وزیراعظم، صدر اور سینیٹ کے چیئرمین کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے جبکہ سندھ،بلوچستان،آزاد کشمیر،گلگت بلتستان ،خیبر پی کے کے علاوہ پنجاب میں بھی ساڑھے تین سال کوالیشن پارٹنر رہی اور اس کے باوجود پیپلزپارٹی عوام میں جڑیں اپنی مضبوط نہ کر سکی اور خصوصی طور پر پنجاب کے معاملے میں تو پاکستان پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب کے صوبے کی حمایت کرکے سینٹرل پنجاب کو لاوارث چھوڑنے والی بات کی ہے۔ شاید پیپلزپارٹی کی قیادت یہ بھول گئی ہے کہ یہ پنجاب ہی ہے جہاں سے پاکستان پیپلزپارٹی کو مرکز میں حکومت بنانے کے لیے 80سے 90سیٹیں ہر دفعہ مل جاتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی تقسیم پنجاب کی حمایت دراصل جس شاخ پہ وہ بیٹھی ہے اسے ہی کاٹنے کے مترادف ہے۔ملک میں پانی، بجلی، گیس، پٹرول، کھاد،زرعی ادویات کا فقدان ہے ہی اوپر سے پنجاب کا اسی فیصد دارومدار زراعت پر اور پنجاب کا کسان سسک رہا ہے ۔ شوگر مل اونر اس سے گنا نہیں خرید رہا جبکہ ٹیکسٹائل مل اونر اس سے کپاس نہیں خریدرہا ،ان حالات میں پیپلزپارٹی کے پاس وہ کون سا الٰہ دین کا چراغ ہے کہ جسے آئندہ الیکشن کے موقع پر وہ روشن کرکے عوام کی نظریں چندیا سکے گی؟کارکنان پیپلزپارٹی کا اس حد تک استحصال جاری ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے خصوصی تعلق رکھنے والوں کو بظاہر ایسا باور کرایا جاتا ہے کہ جیسے یہ تعلق گالی ہو ۔کیا پیپلزپارٹی کی قیادت کارکنان پیپلزپارٹی کو بتانا پسند کرے گی کہ ان کے ساتھ گذشتہ چار سالوںسے جو رویہ اپنایا گیا اس کا ذمہ دار کون ہے ؟کیا اسلم گل کے ساتھ ہونے والے حادثے کو پارٹی قیادت بے نقاب کرے گی ؟اور ان غدار اراکین صوبائی اسمبلی اور خفیہ ہاتھوں کو منظرعام پر لائے گی؟ یا پھر صرف پارٹی کی مرکزی قیادت اسلم گل کو کوئی معمولی تنظیمی عہدہ یا چھوٹاموٹا سرکاری عہدہ دے کر اس سانحہ کا مداوا کرے گی۔ اگر ایسا ہوا توکیا یہ ایک ’’لالی پوپ‘‘ کی طرح نہیں جو بچے کو دے کر بہلایا جاتا ہے ۔اسلم گل کی شکست کے بعد میرے پاس پارٹی کارکنوں کا تانتا بندھا رہا اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ پارٹی قیادت یاد رکھے صدا اقتدار اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہی ہے پارٹی ماضی میں بھی متعدد دفعہ اقتدار سے باہر کی گئی پھر کم بیک کرکے واپس آئی مگر اس وقت پارٹی کی قیادت کی نیک نیتی اور خلوص پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا تھا اگر خدانخواستہ آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کو شکست ہو گئی تو اب کی بار یہ توقع رکھنا کہ اب شاید پیپلزپارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی دیوانے کی بھڑ ہے۔ اسلم گل جیسے جیالوں اور کارکنوں کو اب آنکھیں کھولنی ہو ں گی اور سمجھ جانا ہوگا کہ یہ پیپلزپارٹی اب شہید محترمہ کی پارٹی نہیں رہی ؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus