×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لمحہ بہ لمحہ بدلتی ملکی صورت احوال اور سیاسی اسٹاک ایکسچینج
Dated: 10-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ دنوں سینٹ الیکشن کے دوران سیاسی درجہ حرارت کچھ اس قدر تیز ہو گیا تھا کہ اکثر ٹی وی چینلز نے خصوصی ہنگامی سیل قائم کر دیئے تھے ۔پورے ملک کا کاروبار ٹھپ تھا،ہر شخص چاہے وہ سائیکل ،موٹرسائیکل،کار یا چنگ چی پر سوار تھا اپنے موبائل سے کسی بریکنگ نیوز کے انتظار میں تھا اور اسی دوران ابھی میموگیٹ اور سانحہ ایبٹ آباد کی دھول پوری طرح نہ چھٹی تھی کہ بابر اعوان توہین عدالت کیس اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس بھی اس سیاسی گھڑدوڑ میں شامل ہو گئے اور اس دوران سالوں کی چپ سادھے اعتزاز احسن نے بھی سہ پہر کے وقت روزہ توڑ دیا اور اقتدار کی بندربانٹ میں اپنا حصہ سمیٹنے کے لیے آ داخل ہوئے۔ کچھ بھی ہو صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے سخت ترین ناقدین اور اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہنمایہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ صدر مملکت Most Criminal Minded ہیں اور جیل کے گیارہ سالوں نے ان کی جو سیاسی قانونی اور مجرمانہ تربیت کی ہے اور جیل سے ملنے والی تعلیمات ہی کا نتیجہ ہے کہ ایک زرداری سب پہ بھاری ہے۔ 27دسمبر2007ء کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی تو سیاسی یتیم ہوئی ہی تھی مگر دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے دوسرے درجے کی قیادت کے ساتھ میدانِ سیاست میں کھیلنے پر مجبور ہوئیںاور اس دوسرے درجے کے سیاستدانوں میں آصف علی زرداری کو موقع مل گیا کہ وہ Boom Boom زرداری بن کر چوکے اور چھکے لگا سکیں۔ سیاسی پچ کے چاروں اطراف اور حتیٰ کے ’’وائیڈ اور نوبالوں‘‘ کو کھیلتے ہوئے پیپلزپارٹی کی قیادت نے گذشتہ چار سالوں میں قومی سطح پر جو غلطیاں کیں اور سیاسی بدحواسیاں دکھائیں اس کی نظیرپاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جب کہ دوسری طرف نام نہاد اپوزیشن کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ انہوں نے متعدد سیاسی کیچ ڈراپ کرکے ’’نوراکشتی ‘‘کا ماحول پیدا کیا ۔ گذشتہ تین سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک کی معزز عدلیہ جس سے ملک بھر کے بڑے ، بوڑھے، نوجوان ،مردو خواتین، مزدور، طالب علم اورکسان یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ وہ اس ملک کے غریبوں کے بدن سے رستے ہوئے خون اور ان کی کمر پر برسنے والے کوڑوں کا مداوا کریں گے مگر عدلیہ نے متعدد موقعوں پر سوموٹوایکشن لیے اور ملک کا ماحول اس حد تک سیاسی طور پر گرم کر دیا کہ اس ملک کا ہر شہری سونے سے پہلے اور جاگنے کے بعد کسی بریکنگ نیوز کے انتظار میں رہنے لگا، ایسے لگ رہا تھا کہ زرداری حکومت ایک ہی وقت میں متعدد محاذوں پر عدالتی ’’بائونسروں‘‘ کا سامنا کر رہی ہے اور بس ایمپائر کسی بھی وقت انگلی کھڑی کرکے زرداری کے آخری دسویں کھلاڑی کو آئوٹ قرار دینے والا ہے مگر پتہ نہیں اس سیاسی لڈو کا کھیل کھیلتے ہوئے عوام کے نصیب کو کیا ہوا ہے کہ جب بھی عوام کی خواہشیں 99پر پہنچتی ہیں تو انہیں ناامیدی کا سانپ ڈس لیتا ہے۔ عدالتوں نے مشرف ،بگٹی کیس سے لے کر این آر او، سانحہ ایبٹ آباد کیس اور میموگیٹ سکینڈل،حج سکینڈل،رینٹل پاور اور دوسرے مقدمات کی جس خصوصی طور پر سماعت کی اور بیس کروڑ عوام کی راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام کیامگر آج تک نتیجہ وہی ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘۔ اسی طرح ملک کی عسکری قیادت جس کو ملک کے کروڑوں عوام رحم بھری نظروں سے دیکھ اور کہہ رہے ہیں کہ ’’جب نہ چاہتے تھے تو چلے آتے تھے اور اب سب مر جائیں گے تو تب آئو گے؟‘‘ لیکن کیا کریں شاید اس ملک کی عسکری قیادت کی بھی کچھ مجبوریاں ہیں اور شاید وہ سیاسی کرپٹ حکمرانوں سے بلیک میل ہو رہی ہے؟ یا شاید پھر اس وقت ملک کے خفیہ ادارے اور عسکری قیادت امریکہ، یورپی یونین کی وجہ سے دبائو کا شکار ہیں جب کہ ایک سرپھرا محب وطن کہہ رہا تھا کہ جس ملک کے کورکمانڈر ’’کروڑ کمانڈر‘‘ بن جائیں اور فولادی سینے رکھنے والی عسکری قیادت پرتعیش بنگلوں میں زندگی گزارنا سیکھ لیں تو اس ملک کی عوام پھر مجبور ہوتی ہے کہ وہ انہی سانحات کو نصیب سمجھ کر زندگی گزاریں۔تیسرے نمبر پر ہم تجزیہ کریں تو یہ سامنے آتا ہے کہ حکومت کی ہر غلطی ، ہر ایکشن، ہر قدم پراپوزیشن کو ایکشن لینا ہوتا ہے۔ دراصل اپوزیشن کا کردار ناصرف چیک اینڈ بیلنس کا ہوتا ہے بلکہ اپوزیشن کا رول ایک متوازی گورنمنٹ کا سا ہونا چاہیے مگر شومئی قسمت کہ ہمارے ملک کی اپوزیشن کل کی ’’اپوزیشن ‘‘سے خائف ہے اور اسی خوف کا نتیجہ ہے کہ شاید ہماری اپوزیشن نے فرینڈلی اپوزیشن کا روپ دھار لیا ہے اور باری کی سیاست کا رواج ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شاید یہ اسی کمپرومائز کی ہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک میں گڈ اور بیڈگورنس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قوم پر پر لوڈشیڈنگ، گیس کی کمی، نقلی دوائیوں کی بھرمار، پانی اور بجلی کی کمی، زرعی ادویات کی نادستیابی جیسے مسائل عذاب کی صورت میں مسلط ہیں۔ ریکوڈک ،رینٹل پاور، جعلی ادویات، سٹیل مل، پی آئی اے،ریلوے سمیت تمام ادارے اسی فرینڈلی اپوزیشن کی وجہ سے آج ہمارا منہ چڑچڑا رہے ہیں مگر صاحب اقتدار طبقہ اور حزب اختلاف اقتدار کے ’’بوہڑ‘‘ کے گہرے سائے تلے یوں گھوڑے بیچ کے سوئے ہوئے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں تیار پانے والی شاید تیسری قوت تحریک انصاف کے سربراہ جو اپنی مرضی کی بجائے سلیکٹرز کے منتخب کردہ کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر کھیلنے پر مجبور ہیں، ان کے پاس بھی شاید مسائل کا حل نہیں۔ عمران خان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار دیا جائے تو اپنی صلاحیتوں کو متعارف کرائیں گے مگر موصوف بھول جاتے ہیں کہ انہیں اقتدار کے سنگھاسن کے قریب آنے کون دے گا؟شاید عمران خان اتنے بھولے ہیں کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اقتدار چھینا جاتا ہے جیتا نہیں جاتا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے باہمی گٹھ جوڑ سے اسٹیبلشمنٹ کی پچ پر کھیلنے والے عمران خان کے لیے اب یہ آسان نہیں رہا کہ وہ اقتدار کے گھوڑے پر جمپ مار کر بیٹھ سکیں۔شاید اسٹبلشمنٹ نے تحریک انصاف اور عمران خان کو تیار ہی اس لیے کیا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے معاملات طے کر سکے ؟مگر یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس ملک کی یوتھ جو کہ اس ملک کا مستقبل ہے اس سارے ڈرامے میں جس بُری طرح استعمال اور مایوس ہوئی ہے اس نے ہمارے ملک کے سیاسی مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے کیونکہ جس ملک کی یوتھ ناامید ہو جائے اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ملک کی روز بروز بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے جس کو ہم سیاسی اسٹاک ایکسچینج کہہ سکتے ہیں اور ہمیں اپنی معیشت اور سیاسی اسٹاک ایکسچینج کو سنبھالنا ہوگا وگرنہ ہمارا جغرافیائی اسٹاک ایکسچینج مدوجزر کا شکار ہو جائے گا۔ ہمیں اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنے کے لیے نظریہ پاکستان پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے دشمن مگرمچھ کی مانند منہ کھولے ہمیں ہڑپ کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ اور اب ڈی جی آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کا ڈرامہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات کے ڈرامے سے قطعی مختلف نہیں ہے۔ سارا شوروغل شاید ’’بیرونی‘‘ تنقید سے بچنے کا ایک بہانہ ہے ورنہ سیاسی کھچڑی کی دیگ تو تیار پڑی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus