×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہماری ناکام داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے اسباب
Dated: 13-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com انگریز سے آزادی اور تقسیم ہند کے بعد سے بھارت اس لحاظ سے خوش قسمت رہا ہے کہ اسے اپنے حصے میں آنے والی سرزمین میں نوابوں، لغاریوں، مزاریوں، مخدوموں، جاگیرداروں، وڈیروں سے واسطہ نہ پڑا۔ صرف مشرقی پنجاب کی حد تک بھارت نے آزادی کے بعد زرعی اصطلاحات کرکے ناصرف زمین کی تقسیم بلکہ معاشی عدم توازن کو ختم کیا۔ بھارت میں اس وقت غریب اور امیردونوں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جس سے بھارت کے موجودہ سسٹم میں برادری اور اقرا پروری کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس سے ایک بڑا فائدہ ملکی سطح پر بھارت کو یہ ہوا کہ اس کے ہاں شرح ناخواندگی اس حد تک بڑھی کہ ایک مثبت تعلیمی مقابلہ سازی سے تعلیم کے شعبے میں ایک صحت مند رجحان پیدا ہوا اور اس تعلیمی دوڑ میں مقابلہ سازی کی وجہ سے ناصرف ہم سے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بھی بھارت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک بڑی افرادی قوت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین سمیت امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزلینڈ اور انگلینڈ میںایک محتاط اندازے کے مطابق پانچ کروڑ بھارتی ٹیکنیشنز، سافٹ اور ہارڈ ویئر انجینئرز خدمات انجام دے رہے ہیں اور زرمبادلہ اپنے ملک کو بھجوا رہے ہیں اور یہ اسی شعور کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت جو کبھی سماجی برائیوں کا گڑھ تھا جہاں پر انسانوں کی تقسیم طبقات سے ہوتی تھی وہاں پر آج دنیا کی سب سے بڑی تعلیم یافتہ کھیپ موجود ہے۔ اس طرح بھارت نہ صرف داخلی اور خارجی محاذوں پر کامیابیاں حاصل کرتا چلا گیا بلکہ آج اس کی تعلیم کی بنیاد پر قائم اساس دیوار چین کی طرح مضبوط ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کے نام نہاد شرفا و امراء کی سازشوں کی وجہ سے پاکستان جو نہ صرف دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اپنی منزل سے دور ہٹتا چلا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد ہی سے لے کر حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے سانحے سے ہم پوری طرح نکل نہیں پائے تھے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی کی شہادت کا سانحہ پیش آگیا جس کے پیچھے اندرونی اور بیرونی سازشیں کارفرما تھیں۔ اس طرح نومولود مملکت عزیز کو اپنے قیام کے صرف تین سال کے دوران عظیم سانحات سے واسطہ پڑا۔ جس سے ہماری اندرونی اور بیرونی خارجہ پالیسی متاثر ہوئی اور دوسری طرف ہمارے صاحب حیثیت طبقے نے بیوروکریسی سے مل کر املاک کی تقسیم اور اشتمالِ اراضی کے دوران چھینا جھپٹی اور حقوق غضب کرکے ایسی فضا قائم کر دی جس کو جدید لغت میں کرپشن کہتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک ہمارے تین وزیراعظم لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو سڑکوں پر شہید کر دیئے گئے جبکہ ملک کے پہلے گورنر جنرل حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ انتہائی شدید علالت کے دوران جب زیارت سے کراچی پہنچے تو کئی گھنٹے ان کی ایمبولینس گاڑی سڑک پر خراب حالت میں پڑی رہی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے بانی پاکستان ہم کو داغِ مفارقت دے گئے جبکہ 1988ء میں آمر، ڈکٹیٹر اور وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق سمیت دیگر دو درجن اعلیٰ عسکری قیادت ایک فضائی حادثے میں مار دی گئی اور صرف ساٹھ سال کے عرصے میں اتنے بے شمار سانحات اور اس پہ مستزاد 1971ء کا سانحہ سقوط ڈھاکہ جس کے علیحدہ ہونے سے ہمارا جسم آدھے سے بھی کم رہ گیا۔ یہ سانحہ عظیم ہمارے لیے آج تک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے؟ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کے سامنے آنے کے باوجود اور اب ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کیس ری اوپن ہونے کے بعد ابھی بھی ملک میں سانحہ کارساز، سانحہ ایبٹ آباد، سانحہ مہمند ایجنسی اور میمو گیٹ سکینڈل کیس، وزیراعظم یوسف رضا گیانی و بابراعوان توہین عدالت کیسز اور این آر او کیسز کا ابھی تک کو ئی فیصلہ نہ ہو پاناہماری قومی غیرت اور داخلہ و خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی بات ہے جب انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انگلینڈ کے اس وقت کے وزیراعظم سر ونسٹن چرچل کو اطلاع دی کہ ہٹلر کی افواج ایک بڑا حملہ لندن شہر پر کرکے انگلینڈ کی کمر توڑنا چاہتے ہیں تو سر ونسٹن چرچل نے اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور اپنے وزراء اور رفقاء سے پوچھا کیا ہمارے ملک کی عدالتیں انصاف کر رہی ہیں؟ تو مشیروں نے جواب دیا ہاں ہمارے ملک میں انصاف ہو رہا ہے۔ جس پر سرونسٹن چرچل نے کہا کہ آنے دو ہٹلر کو پھر اس سے بھی نمٹ لیتے ہیں۔ جس طرح وطن عزیز میں انصاف کی رفتار خاصی سست ہے اس طرح وطن عزیز میں ترقی کی رفتار بھی انتہائی کم ہے کیونکہ مشہور محاورہ ہے کہ انصاف کو لیٹ کرنا انصاف نہ دینے کے برابر ہوتا ہے۔ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی کے اسباب پر غور کیا جائے تو اس میں ایک بڑی وجہ یہ بھی کہ ہمارے ملک میں جمہوریتوں کو پائیدار نہ ہونے دیا گیا ۔ متعدد دفعہ طالع آزمائوں نے جمہوریت پر شب خون مارا ،محترمہ بے نظیر بھٹو 1988ء میں جب ساڑھے گیارہ سالہ آمریت کے بعد پہلی دفعہ اقتدار میں آئیں تو صرف اٹھارہ ماہ کے بعد ہی ان کی حکومت پر شب خون مار کر انہیں اقتدار سے نہ صرف علیحدہ کر دیا گیا بلکہ جمہوریت کے حق میں ان کی خدمات کو فراموش کرکے اسٹبیلشمنٹ کی جانب سے عالمی میڈیا کے سامنے انہیں ایک انتہائی کرپٹ اور ناپسندیدہ خاتون کے طور پر پیش کیا گیا۔پاکستان میں حکومتیں اور حکمران خزاں کے زرد پتوں کی طرح گرتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ بھارتی وزیراعظم آنجہانی اندراگاندھی نے کہا تھا کہ میں اتنی ساڑھیاں تبدیل نہیں کرتی جتنے پاکستان میں وزیراعظم تبدیل ہوتے ہیں۔پھر پاکستان میں بیوروکریسی کو لگام دینے والا کوئی نہیں تھا۔جاگیرداراورسرمایہ داری کی کوک سے جنم لینے والایہ وہ گروہ ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ آج بھی پاکستان کی انتہائی اعلیٰ عہدوں پر انہی خاندانوں کے افراد براجمان ہیںجس کی ہم عوام کو خبر تک نہیں ۔ ہماری داخلہ و خارجہ ناکامیوں کی وجہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی ہے جو تمام دکھوں کا مداوا خود کو سمجھنے لگی ہے اور یہ موقع بھی آیا کہ اس کے کورکمانڈر کروڑ کمانڈر کہلانے لگے ، آج بھی بدتر حالات میں جب ملک کے عوام پاک افواج کی جانب دیکھتے ہیں انہیں کوئی جنبش محسوس نہیں ہوتی تو عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے ۔یہ حکمران ہی ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنے پسندیدہ جرنیلوں کوآگے لانے کے لیے بہت سوں کو سُپر سیڈ کرنے کا رواج ڈالا، ورنہ کیا کاکول ملٹری اکیڈمی ، کوئٹہ ’’وار‘‘اور سٹاف کالج سے فارغ التحصیل سبھی طالب علم ایک ہی جیسے لائق اور کوالیفائیڈنہیں ہوتے ہیں؟ تو پھر کیا ایک جنرل کو دو یا تین دفعہ مدت ملازمت میں توسیع دینا کرپشن کی انتہائی سطح تو نہیں؟اب ڈی آئی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا نے خودتوسیع لینے سے انکار کیا وگرنہ حکمران تو انہیں توسیع دینے کے لیے بے قرار تھے۔آج ملک میں بے یقینی کی صورت حال ہے سرمایہ داراورکارخانہ دار ملک چھوڑ کر اپنا سرمایہ باہر منتقل کر رہا ہے مگر اس ملک کا ایک مخصوص طبقہ اس ملک کے جسم سے آخری ’’ماس‘‘ تک نوچنے کے لیے بے تاب ہے۔نام نہاد سیاستدانوںاور لٹیرے حکمران کی وطن سے محبت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز پاکستان جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا جبکہ نیوکلیئر کلب کا ساتواں رکن ہے اور اس کے علاوہ اسلامی بلاک کا پہلا نیوکلیئر پاور کا حامل ملک ہے اس کے موجودہ وزیرخارجہ نہ صرف ناتجربہ کار ہے بلکہ ایک ایسی خاتون کو وزیرخارجہ بنا دیا گیا ہے جس نے ہوٹل مینجمنٹ میں ڈپلومہ لیا ہوا ہے، اسی طرح ملک کے وزیر داخلہ کا حال بھی چنداں مختلف نہیں۔ تو جس ملک میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ غیرمتعلقہ اور غیرپروفیشنل لوگوں کو لگایا جائے گا اس ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی کا انجام پاکستان سے بہتر نہیں ہوگا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus