×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارتی آبی دہشت گردی کی انتہا۔ جنگ ہی آپشن ہے
Dated: 17-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آبی و انسانی حیات اور زراعت کا پانی کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ وطن عزیز میں صنعتوں کا جال بچھا لیکن آج بجلی و گیس کی قلت اور تیل کی قیمتوں کے آسمان سے باتیں کرنے کے باعث صنعت زوال پذیر ہے۔ زبوں حالی معیشت کو اگر کہیں سے کوئی سہارا ملا ہے تو وہ زراعت سے ہی ملا ہے۔ حکومتوں کی عدم توجہی ، ناقص بیج، غیرمعیاری ادویات اور مہنگی کھادوں کے باوجود بھی خدا کے فضل سے گندم، گنے، چال اور کپاس کی پیداوار سنبھلے نہیں سنبھل رہی۔ خدانخواستہ زراعت کی حالت بھی صنعتی شعبے جیسی ہوئی تو ملک میں بھوک ناچ رہی ہوتی۔ اگر کسان کو مطلوبہ سہولیات آسانی کے ساتھ دستیاب ہوں، پانی وافر مقدار میں ملے تو فصلوں کی پیداوار دُگنا ہو سکتی ہے۔ آج بدحال کسان ملک و قوم کو خوشحال بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ کسان کی بدحالی میں حکومت کی کوتاہی تو ہو سکتی ملک و قوم کو خوشحال بنانے کی جستجو میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ یہ صرف موجودہ حکومت پر ہی موقوف نہیں سابقوں کی روایت بھی یہی رہی ہے۔ حضرت قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا کس لیے؟ اس لیے کہ کشمیر سے آنے والے دریائوں کا پانی ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔ یہ شہ رگ ساڑھے 6دہائیوں سے دشمن کے آہنی پنجوں میں ہے۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد سے آج تک یہ شہ رگ کبھی کسی نے چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ موجودہ حکومت اس حوالے سے زیادہ ہی بے نیازی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس نے ایک طرف پاکستان کے انتہائی کارآمد اور سودمندمنصوبے کالاباغ ڈیم کو مردہ منصوبہ بنا کر رکھ دیا دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے بہہ کر آنے والے پانیوں پر بھارت کے تسلط پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بھارت ان دریائوں پر نئے نئے منصوبے تعمیر کرکے پاکستان آنے والے پانی کے آخری قطرے پر بھی کنٹرول حاصل کرکے اس کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے۔ بھارت نے خود یہ راز افشاں کیا کہ 2020ء تک بھارت پاکستان کے حصے کا پانی مکمل طور پر روکنے کے قابل ہو جائے گا۔ گویا وہ پاکستان کو خشک سالی، قحط سالی اور بدحالی سے دوچار کرکے ریگستان میں بدل سکتا ہے اور ساتھ ہی ایک بار مقبوضہ وادی میں تمام ڈیموں کے گیٹ کھول کر پاکستان کو سیلاب میں ڈبو بھی سکتا ہے۔ جس کی ایک جھلک 2010ء کے سیلاب میں اس نے دکھا بھی دی۔ جس میں پاکستان کے دوتہائی علاقے ڈوب گئے تھے۔ اب ہندو بنیے کی جو پلاننگ سامنے آئی ہے اس کے مطابق 2020ء سے بہت پہلے وہ پاکستان کو قحط سالی سے دوچار کرنے اور سیلاب میں ڈبونے کے قابل ہو جائے گا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے 2002ء کے اٹل بہاری واجپائی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 30دریائوں کو باہم ملا دیا جائے گا، اس کا مقصد طغیانی والے دریائوں کا پانی ان دریائوں کی طرف موڑا جا سکے گا جن میں پانی کی کمی ہو گی ۔500کھرب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ 2016ء میں مکمل کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2016ء میں بھارت پاکستان آنے والے پانی پر مکمل کنٹرول کر لے گا۔ اس کے علاوہ بھارت نے شمالی اور مغربی دریائوں کو ملانے کے لیے ریورلنک منصوبہ تیار کیا ہے جس کی بھارتی حکومت نے گذشتہ ماہ باقاعدہ منظوری بھی دے دی ہے اور بھارتی وزارت خزانہ نے منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 20کروڑ بھارتی روپے مختص کیے ہیں۔ بتایا گیا کہ دریائے چناب کو دریائے بیاس سے ملایا جائے گا۔ بھارت منصوبے کی تکمیل کے لیے دریائے چناب پر برسر اور جسپا نام سے دو ڈیم بھی تعمیر کر رہا ہے جن میں مجموعی طور پر 34لاکھ ایکڑ پانی ذخیرہ ہو سکے گا۔ پاکستان کو بھارتی ریورلنک منصوبے سے خط کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ منصوبے سے بھارت مجموعی طور پر 76ملین ایکڑ اراضی سیراب کرے گا اور 35ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جبکہ دریائے چناب سے 50فیصد پانی کا بہائو کم ہو جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے کی شق نمبر3،4اور7کی رو سے مغرب کی جانب سے آنے والے دریا مثلاً چناب،جہلم اور سندھ پر بھارت کسی قسم کے ڈیم تعمیر نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان دریائوں سے نکلنے والی نہروں یا معاون دریائوں کا رخ موڑ سکتا ہے۔ بھارت اس بات کا بھی پابند ہے کہ پانی سے متعلق کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان کو باقاعدہ طور پر مطلع کرے لیکن جان بوجھ کر وہ ایسانہیں کرتا۔ ہماری غفلت کا عالم یہ ہے کہ پاکستان کو ان ڈیموں کی تعمیر کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ مکمل یا ان پر 80فیصد کام مکمل کرچکا ہوتا ہے۔ بھارت نے اس دوران دریائے چناب پر 24،دریائے جہلم پر 52اور دریائے سندھ پر 18آبی منصوبے تعمیر کیے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی زراعت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اب اس نے دریائے چناب اور بیاس کو ملانے کے بارے میں اپنے منصوبے سے پاکستان کو آگاہ کیا ہے لیکن حکومت کی طرف سے نہ صرف 30دریائوں کو باہم ملانے کے بھارتی منصوبے پر خاموشی ہے بلکہ جس منصوبے سے بھارت نے باقاعدہ آگاہ کیا ہے اس پر بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ ہماری حکومت نے بھارتی آبی دہشت گردی اور جارحیت کے آگے سر تسلیم ختم کر لیا ہے جو اپنی نسلوں کے ساتھ ظلم ہے۔ بھارت کی آبی دہشت گردی ان لوگوں کے لیے تو قابل قبول ہو سکتی ہے جو حکمرانی کے لیے پاکستان آتے اور ملک و قوم کی ہڈیوں سے گودا تک کشید کرکے اپنی تجوریاں بھر لیتے ہیں۔ عام پاکستانی کا کائنات میں آشیانہ صرف پاکستان ہے وہ ایسی صورت حال پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ اقتدار خدا کی دین ہے جو خلق خدا کی فلاح اور بھلائی کے لیے ہی استعمال ہونا چاہیے ہر چیز کا ایک منطقی انجام ہوتا ہے بھارت کی آبی دہشت گردی کا بھی یقینا منطقی انجام ہونا ہے۔ جب بھی زمامِ اقتدار کسی محب وطن اور قومی و ملی غیرت کے حامل بندہِ خدا کے پاس آئی تو نہ صرف پاکستان کے حصے کا پانی واگزار ہوگا بلکہ مقبوضہ کشمیر بھی آزاد ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ آئندہ جنگیں پانیوں کے تنازعات پر لڑی جائیں گی۔ میرا ایمان ہے کہ پانی کے مسئلہ پر پہلی جنگ پاکستان اور بھارت کے مابین ہو گی اور وہ بھی ایٹمی جنگ ہو گی کیونکہ بھارت کی آبی دہشت گردی تمام حدوں کو پار کر گئی ہے اب جنگ کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus