×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تجھے روئے گا زمانہ برسوں
Dated: 04-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج شہید ذوالفقار علی بھٹو قائدعوام دلوں پر راج کرنے والے اس شہنشاہ کا یومِ شہادت ہے جسے 4 اپریل 1979ء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔آج برسی ہے اس انصاف کی جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک شکلیں بدل کر پھانسیوں پر چڑھتا رہا ہے، اس انصاف کی، جس کی توہین قابل تعزیر جرم ہے۔4 اپریل 1979ء کو اسلامی سربراہ کانفرنس کے چیئرمین پاکستان کے سابق وزیر خارجہ، صدر اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کے مطابق قتل کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی اور رات کی تاریکی میں راولپنڈی سے لاڑکانہ لے جا کر خاموشی سے دفن کر دیا گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کوئی غلطیوں سے مبرا انسان نہیں تھے لیکن اس پاکستان کے لئے ان کی بے شمار خدمات تھیں۔ وہ چین کے ساتھ دوستی کے معمار تھے، انہوں نے مسلمان ملکوں کی برادری میں پاکستان کو ایک ممتاز مقام دلوایا۔ ایک ہاری ہوئی جنگ کے بعد بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدی واپس لائے اور ہاتھ سے کچھ دیئے بغیر 5 ہزار مربع میل علاقہ خالی کروالیا۔ وہ اس ایٹمی پروگرام کے بانی تھے جس پر آج پوری قوم فخر کرتی ہے اور جس پر ناراض ہو کر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے انہیں کہا تھا: ’’ہم تمہیں عبرت کی مثال بنادیں گے۔‘‘ 1977ء کے انتخابات کے بعد ایک سیاسی ایجی ٹیشن شروع ہوا تھا۔ بھٹو صاحب اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لے آئے تھے اور بات چیت کامیاب بھی ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو معاہدے کا اعلان ہونے والا تھا لیکن اس سے چند گھنٹے پہلے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق نے فوجی ایکشن کیا اور بھٹو صاحب اور ان کے اہم ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے 90 دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا اور بعد میں گیارہ سال تک اس ملک پر حکمران رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پہلی گرفتاری کے بعد 23 روز مری میں نظر بند رکھنے کے بعد 28 جولائی کو رہا کیا گیا۔ ضیاء الحق مرحوم کے حامی اور بھٹو صاحب کے مخالف سیاستدانوں کا خیال تھا کہ بھٹو سیاسی طور پر ختم ہو چکے ہیں لیکن رہائی کے بعد لاہور اور دوسرے شہروں میں ان کا استقبال دیکھ کر یہ سوچ بدلنی پڑی اور طے کیا گیا کہ بھٹو کو قتل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس مقصد کے لئے نواب محمد احمد خان کے قتل کے سلسلہ میں کراچی سے دوبارہ گرفتار کر لئے گئے۔ 13 ستمبر کو جسٹس صمدانی نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔ یہ ایک ’’ناپسندیدہ‘‘ فیصلہ تھا جس کے جواب میں 17 ستمبر کو بھٹو مرحوم کو المرتضیٰ لاڑکانہ سے مارشل لاء کے ضابطہ 12 کے تحت پھر گرفتار کر لیا گیا۔ بیگم بھٹو نے 20 ستمبر کو سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی جو چیف جسٹس یعقوب علی خان نے سماعت کے لئے منظور کرلی۔ اس جسارت پر جسٹس یعقوب علی خان کو 23 ستمبر کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا اور بھٹو صاحب کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جو مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی سزائے موت دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ان کے نزدیک اصل مقدمے سے قطع نظر ملزم کے اس جرم کی سزا ہی موت تھی کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں مولوی صاحب کو چیف جسٹس بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ جسٹس مولوی مشتاق حسین نے 9 اکتوبر کو بھٹو صاحب کی ضمانت منسوخ کی اور 11 اکتوبر کو مقدمۂ قتل میں باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی تو محض ایک دکھاوا تھی۔ فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا اور سارے انتظامات مکمل تھے۔ وعدہ معاف گواہ کے طور پر مسعود محمود موجود تھے۔ مقدمے کے دوسرے ملزموں کو، جو ایف ایس ایف سے تعلق رکھتے تھے، میری معلومات کے مطابق خود چیف جسٹس اور جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر میاں طفیل محمد یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ وہ اقبال جرم کرلیں۔ بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ (بھٹو صاحب کے بعد جب جنرل ضیاء الحق نے بعض مجبوریوں کی وجہ ان اقبالی مجرموں کو پھانسی دینے کا حکم دیا تو موت کے سامنے ان مظلوموں اور ان کے لواحقین کا واویلا قابل دید تھا۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ وہ جنرل صاحب کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے پھانسی چڑھے، تاہم بعد میں ان کے لواحقین کو ’’خون بہا‘‘ ادا کر کے خاموش کرا دیا گیا)۔ لاہور ہائیکورٹ میں ہونے والی ساری کارروائی کا مقصد صرف بھٹو صاحب کی تذلیل تھا۔ جیل میں انہیں ایک بدبودار کوٹھڑی میں رکھا گیا، جس کے اردگرد عادی مجرم اور پاگل بند تھے جو دن رات شور مچاتے اور بھٹو صاحب کی کوٹھڑی کی چھت پر اچھل کود کرتے تھے۔ عدالت کا سلوک یہ تھا کہ ان کے لئے لکڑی کا ایک کٹہرہ خاص طور پر بنوایا گیا۔ شروع میں انہیں کٹہرے میں کرسی پر بیٹھنے کی اجازت تھی۔ فیصلہ سنانے سے پہلے آخری دو پیشیوں میں یہ کرسی بھی چھین لی گئی اور انہیں کھڑا رہنے پر مجبور کیا گیا۔ مولوی مشتاق حسین کے انتقامی جذبے کی انتہا یہ تھی کہ ایک مرحلے پر بھٹو صاحب کو چیمبر میں پیش ہونے کے لئے طلب کیا گیا۔ اندر بنچ کے پانچوں جج موجود تھے۔ ایس پی ظفر اللہ، بھٹو صاحب کے ساتھ تھے۔ سامنے دو کرسیاں خالی تھیں۔ ایک کرسی پر ایس پی بیٹھ گئے، دوسری کرسی کی موجودگی کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ بھٹو صاحب کے لئے رکھی گئی تھی۔ وہ اس پر بیٹھ گئے، لیکن فوراً ہی چیف جسٹس کی آواز سنائی دی: ’’تم ایک ملزم ہو تم نہیں بیٹھ سکتے۔‘‘ یہ ایک سوچی سمجھی کارروائی تھی ایک ایسی عدالت کی طرف سے، جسے انصاف کرنے، ہر ذاتی جذبے اور تعصب سے بالاتر ہو کر انصاف اور صرف انصاف کرنے کی طاقت دی گئی تھی۔ جیلوں، پھانسی کی کوٹھڑیوں اور انصاف کی اعلیٰ عدالتوں کی یہ کہانی بہت طویل ہے اور یہی اس ملک کا المیہ ہے جس میں ’’Role of Law‘‘ کی بات کرنا ایک فیشن ہے، جس میں اصول صرف توڑنے کے لئے بنائے جاتے ہیں، جس میںقانون طاقتور کا غلام ہے، جہاں ہرچیز دولت سے خریدی جاسکتی ہے، جہاں انصاف فیصلہ کرنے والے کی صوابدید کا نام ہے اور احتجاج توہین عدالت ہے۔ وقت گزرتا ہے،گھڑیاں بیتی ہیں،دن ماہ و سال میں تبدیل ہو جاتے ہیںاوریوں لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو کہ سچ بولنے اور جھوٹ کے ساتھ مصلحت نہ کرنے پر ایک غیر نمائندہ حاکم، غاصب حکمران اور ظالم وجابر، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے آگے سر نہ جھکانے پر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا پھندا قبول کرناپڑا۔پھانسی کاپھندا اس شخص کے گلے میں ان لوگوں نے ڈالا، جنہیں وہ بھارت کی قید سے آزاد کرا کے لایا تھا جو تربیت یافتہ سپاہی ہوتے ہوئے بھی 90ہزار کی تعداد میں دشمن کی قیدمیں چلے گئے تھے۔ بھٹو ہم میں نہیں رہے تھے لیکن ان کے کارنامے یادوںکی شکل میں اب بھی ہمارے سامنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دشمن اخبارات و جرائد کو بھی یہ قبول کرنا پڑا تھا کہ نچلے طبقے کی زیادہ تر عورتیں بھٹو کے لئے بین کر رہی ہیں۔وہ بھٹو کی موت پر کیوں آنسو بہارہی تھیں؟بھٹو نے ان کے اور ان جیسے لاکھوں لوگوں کے دل میں کیسے گھر کیا یہ سب کچھ باتوں سے نہیںہوا۔ باتیں تو دوسری جماعتوں کے لیڈر بھی کرتے تھے وہ کھالیں بھی وصول کرتے تھے، بتیس برس سے اس ملک کے کونے کونے میں ان کے دفاتر تھے لیکن عوام میں سے وہ ایک فرد کا دل بھی نہیں جیت سکے اس لئے کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ جماعتیں سرمایہ داروں کی گماشتہ ہیں اوران کے حقوق کی حفاظت کر رہی ہیں۔غریب عوام نہتے تھے تحریکوں کے لئے روپیہ اکٹھانہیں کر سکتے تھے اسی لئے قائد عوام کی موت پر آنسو بہانے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ ان غریبوں نے قائد عوام کو بچانے کے لئے خود سوزیاں بھی کیں لیکن آگ میں کھلنے والے یہ گلاب اپنی زندگیاں ہارنے کے سوا کر بھی کیا سکتے تھے ان نہتے عوام نے اس لئے آنسو بہائے کہ بھٹو نے اس پسے ہوئے طبقے کو نئی زندگی دی تھی۔ نئی سوچ بخشی تھی۔ان کو زبان دی تھی کہ وہ اپنے حقوق مانگ سکیں۔ بُرے بھلے کی تمیز کرسکیں اب وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ امارت اور غربت خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ خدا تو سب کو ایک جیسا پیدا کرتا ہے، پیدا ہوتے وقت یہ کبھی نہیں ہوا کہ امیرآدمی کا بچہ مٹھی میں اشرفی لے کر پیدا ہوا ہو۔ اور غریب کا بچہ خالی ہاتھ سے آئے۔ یہ اونچ نیچ اور عزت ذلت سب اس نظام کی دین ہے سرمایہ دارانہ نظام کی دین دائیں بازو کے ملا اور دانشور اس نظام کی بقا کے لئے سینہ سپر ہیں۔ بھٹو نے سرمایہ داروں اور ان کے پٹھوئوں کوہلا کر رکھ دیا تھا۔ بھٹو نے دیہات میں بے زمین مزارعین کو زمین دی۔رہنے کو پانچ مرلے کے گھردیئے اس وقت آپ کسی بھی گائوں میں چلے جائیں آپ کو کھیت مزدور کسی جاگیردار کے احاطے میں رہتا ہوا نظر نہیں آئے گا بلکہ وہ اپنے مکان میں رہ رہا ہو گا۔ اور جاگیردار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہوگا۔ بھٹو نے کسی گائوں میں کمّی نہیں رہنے دیا۔ ایک گائوں کے مزارع نے بتایا کہ اب ہر کمّی زمیندار کے سامنے اکڑ کر بات کر سکتا ہے اب ہمارے گائوں میں کسی کو کمّی نہیں سمجھا جاتا۔ حال ہی میں جب ایک گائوں میں ایک لڑکی پر زیادتی کی گئی تو ساری دنیا پر شورمچ گیا ورنہ بھٹو سے قبل زمیندار مزارعین پر ہر قسم کا ظلم روا رکھنا اپنا حق سمجھتا تھا۔وقت کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔خدا ظالموں کی رسی دراز کر دیتا ہے لیکن پھر اتنے ہی زور سے جھٹکا دیتا ہے کہ پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ یہی کچھ ظالم و جابر حکمران جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ہوا خدا نے دس سال تک اس کی رسی دراز کی اور جب زور کا جھٹکا دیا تو اس کی ہڈی تک بھی سلامت نہیں رہی اور وہ اپنے ساتھ تیس دوسرے افسروں کو لے کر خاکستر ہو گیا۔ صلیب پر مسیحا لٹکا ہوا تھا۔مسیحا کا خون دھرتی پر سو رہا ہے۔سناٹوں پر سنگینوں کے پہرے لگے رہے مگر صدیوں کی بھوک میں لپٹے ہوئے گھروندوں میں دھواں اگلتی اور مزدروں کو نگلتی ہوئی مشینوں پر آس پاس کارندوں میں ہل چلاتے ہوئے بے زمین کسانوں میں، آنسوئوں میں ڈوبی ہوئی، مائوں بہنوں کے دلوں میں مستقبل سے مایوس طالب علموں کی نگاہوں میں، روٹی کپڑا اور مکان تعلیم روزگار کی خواہشات کے ہاتھوں میں انقلاب کے پھریرے کھلنے کو ہیں۔ صلیب مسیحا کے قاتلوں کی راہ دیکھ رہی ہے۔ اور دھرتی پر سویا ہوا خون آتش فشاں بن کر سناٹوں کے دروازے پر دستک دینے کو ہے۔ اس دستک میں سرخ شگوفوں کے ان گنت الائو ہیں۔ ان الائو میں آنے والے اچھے دنوں کی خوشیاں ہیں ان خوشیوں میں سب کے لئے روٹی کپڑا مکان ہے تعلیم ہے روزگار ہے۔اس دستک میں موت ہے ان کے لئے جو سرمائے کے بل پر معصوم ہاتھوں سے کتابیں چھینتے ہیں اور کل کا انسان جہالت کے اندھیروں میں بھٹکے پر مجبور ہے۔بھوک کے جہنم میں جلنے پر مجبور ہے۔اس دستک میں موت ہے ان کے لئے جو ذہنوں کو جذباتی دھندلکوں میں دھکیل کر سرمایہ داروں کی لوٹ کھسوٹ کی دلالی کرتے ہیں خبروںکو بیچتے ہیں قلم کی تجارت کرتے ہیں۔شہر ستم کے ان حکمرانوں اوردلالوں کی موت ہی خلق خدا کے لئے زندگی کی بشارت ہے۔ آج پھر 4اپریل کا دن ہے بھٹو کو شہید ہوئے عشرے بیت گئے ۔ بھٹو کا نام لینے والے اب بھی کروڑوں کی تعداد میں دنیا میں موجود ہیں ۔ آج بھی پیپلزپارٹی اگر اقتدار میں ہے تو بھٹو اور بھٹو کے خون کے طفیل ہے مگر شہید قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی شہید بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے چاہنے والوں پر اپنے اور بیگانوں کی طرف سے جو مسلسل ستم ڈھائے گئے ہیں اسی ہی کی وجہ کہ گذشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب ایگزیکٹو کا اجلاس ہوا ۔ ہر سال کی طرح بھٹو کی برسی میں شرکت کے لیے قافلے لے جانے کی بات ہوئی مگر کیا بات ہے آج ہر چہرہ پژمردہ تھا عہدیداران آپس میں لڑ رہے تھے اور یہ حقیقت سب کے چہرے اور زبان سے عیاں تھی کہ اس دفعہ کوئی بھی قافلہ لے جانے کے حق اور پوزیشن میں نہیں تھا سبھی ایک دوسرے سے کہتے ہوئے سنے گئے کہ ہم تو صرف بھٹو کی سالگرہ کا کیک کاٹنے اور برسی منانے کے قافلے لے جانے کے لیے ہی رہ گئے ہیں ۔ اقتدار میں حصے داری تو ایک مخصوص طبقہ کرتا ہے جو اپوزیشن کے دنوں میں ہمارے سے بہت دور بستا ہے مگر جیسی ہی اقتدار کی بُو اس تک پہنچتی ہے وہ سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے ۔ آج بھی پیپلزپارٹی کی نام نہاد کورکمیٹی میں کتنے چہرے ہیں جن کو شہید بھٹو یا محترمہ بے نظیر بھٹو جانتے اور پہچانتے ہیں ۔ میرا ایمان ہے کہ بھٹو ازم اس ملک کے اندر ایک مسلک کی طرح سرایت کر گیا تھا مگر اب اپنوں کے ہاتھوں پارٹی جیالوں،کارکنان اور دوسرے درجے کی لیڈرشپ کی جو درگت بنی ہے اس کو دیکھ کر یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ جسے آمر ،ڈکٹیٹر نہ مار سکے وہ فلسفہ اپنوں کے ہاتھوں دم توڑ دے گا اور شاید خدا نہ کرے ایسا وقت آئے کہ بھٹو کی برسی پر چند شمعیں جلانے کے لیے بھی کارکن اور جیالے موجود نہ ہوں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus