×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارت سے بجلی۔۔یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
Dated: 31-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان کادل کوئی کارخانہ یا لمیٹڈ کمپنی نہیں کہ اسے غیر واضح عوامی مینڈیٹ کے حامل لوگ جس طرح مرضی چلائیں اور دردِ دل رکھنے والے پاکستانی اس پر خاموش تماشائی بنے رہیں۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے۔ اس کو مملکت خداداد کایوں اعزاز حاصل ہے کہ مدینہ النبیؐ کے بعد یہ دوسری نظریاتی ریاست ہے۔ رمضان المبارک کی دیگر مہینوں پر فضیلت تسلیم شدہ ہے ۔ دنوں کا سردار جمعتہ المبارک اور جمعتہ الوداع، ہزاروں راتوں سے افضل رات لیلتہ القدر کو پاکستان کا دنیا کے نقشے پر ابھرنا اس عظیم وطن پر خدائے بزرگ و برتر کی خصوصی عنایت کا ثبوت ہے۔ ان اسباب و وجوہات کے باعث ہی پاکستان دشمنوں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ عالم اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کی دنیا میں کمی نہیں لیکن اگر کسی کے لیے پاکستان ناقابل برداشت ہے تو وہ سب سے بڑھ کر ہندو بنیئے کے لیے ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اس نے پاکستان کو نقصان سے دوچار کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں ہونے دیا۔ ہماری تاریخ کا ایک ایک لمحہ ہندو کی پاکستان دشمنی سے لبریز ہے۔ اس نے تقسیم ہند کے ہر ضابطے اور اصول کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے وادیٔ کشمیر پر قبضہ جما لیا۔ پاکستان نے اسے طاقت سے چھڑانے کی سعی کی۔ وہ اس میں کامیابی حاصل کر رہا تھا کہ بھارت یو این او چلا گیا۔ اس دوران جہادیوں نے وہ حصہ بھارت کے پنجہ استبداد سے واگزار کروا لیا تھا جو آزاد کشمیر کے نام سے خطہ ارض پر موجود ہے۔ بھارت کے واویلے پر اقوامِ متحدہ نے کشمیر میں جنگ بندی کروا دی اور مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کے لیے استصواب رائے کو قرار دیا۔ بھارت نے یو این او کی اس تجویز کو تسلیم کیا لیکن 64سال میں اس پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہوا۔ وہ اس پر مذاکرات تو کرتاہے ساتھ ہی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بھی قرار دیتا ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ 1956میں اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے صوبے کا درجہ دے دیا۔ اس کے باوجود بھی اس کا مذاکرات کرنا منافقت اور ہمارے حکمرانوں کا مذاکرات کے لیے برابر بیٹھ جانا حماقت نہیں تو کیا ہے؟ ایک طرف بھارت کی مذاکرات کی منافقت دوسری طرف مظلوم کشمیریوں پر مظالم، سات لاکھ بھارتی سفاک سپاہ کے ہاتھوں نہتے لوگوں کو قتل و غارت، چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی انسانیت کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ کشمیریوں کو پاکستان سے محبت اور پاکستانی بننے کی آرزو رکھنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر اسے پاکستان کا حصہ بنانے کی کوشش کی اور معمار پیپلزپارٹی قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کی آزادی کی خاطر ہزار سال تک جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس کے سوا کشمیر اور کشمیریوں کی آزادی کے لیے کسی حکومت اور حکمران نے بھی کوشش نہیں۔آج شہید ذوالفقار علی بھٹو کے جانشینوں کو بھٹو خاندان کے شہدا کے خون کے صدقے ایوانِ اقتدار میں براجمان ہونے کا موقع ملا ہے تو وہ بھارت کی پاکستان سے دشمنی کو نظرانداز کرکے بھارت کے ساتھ دوستانہ مراسم کے لیے اتنا آگے چلے گئے ہیں کہ بعض حلقے ان کی حب الوطنی پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں؟ کیا یہ لوگ بھول گئے کہ 1965ء میں بھارت نے یلغار کرکے پاکستان توڑنے کی سازش کی جس میں ناکامی ہوئی تو 1971ء میں غدار جرنیلوں اور سیاستدانوں کو ساتھ ملا کر پاکستان کو دولخت کر دیا۔ سیاچن اور سرکریک پر قبضہ اس کی پاکستان دشمنی کی مثالیں ہیں۔ اس کے دہشت گرد پاکستان میں سیکڑوں پاکستانیوں کو خاک اور خون میں ملا چکے ہیں۔ بلوچستان میں ’’را‘‘ کی مداخلت اور علیحدگی پسندوں کی مدد مسلمہ امر ہے۔ کارگل میں اس کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے پاک فوج کے سپوتوں کا بہنے والا خون اس کی جارحیت کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ ممبئی حملوں کے تناظر میں سے سرجیکل سٹرائیک کی تیاری کر رکھی تھی۔ ایسے دشمن کو پسندیدہ قرار دینا تحریک آزادی، مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی برپا کی گئی جنگوں کے شہدا کے خون کے ساتھ بے وفائی نہیں تو کیا ہے؟کیا پاکستانی کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کے موجودہ حکمران سوچنے اور سمجھنے اور عقل سے نابلد ہیں کہ وہ ایسے دشمن کو اپنی شہ رگ پیش کر رہے ہیں جو ڈریکولا کی طرح ان کے خون کا پیاسا ہے۔امن کی آشا کے نام پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے اربوں روپے بٹورنے والے ایک میڈیا گروپ کی چلائی ہوئی یہ سازش اگر کامیاب ہو گئی تو نہ صرف پاکستان ہمیشہ کے لیے ایک دفعہ پر محکوم ہو جائے گا بلکہ عالم اسلام کی اصل طاقت پاکستان کے محکوم ہو جانے سے دنیا بھر کے ڈیڑ ھ ارب مسلمان بھی ہمیشہ کے لیے بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے غلام بن جائیں گے۔بھارت سے دوستی اپنی جگہ ہم پیغمبر اسلام محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والے ہیں دنیا میں امن پھیلانے ،امن بانٹنے اور امن کے خواہاں ہیں مگر جاگتی آنکھوں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس فراڈ کو کیسے یکسر فراموش کر دیں ؟ بلاشبہ بھارت ہمارا ہمسایہ ہے۔ ہمسایوں کے ساتھ مثالی نہیں تو اچھے تعلقات ضرور ہونے چاہئیں لیکن بھارت ایسا ہمسایہ نہیں جس کے ساتھ اس کے باوجود بھی دوستی کی جائے کہ وہ پاکستان کا صریحاً دشمن، سازشی او رکشمیریوں کو غلام بنائے ہوئے ہے۔ اس سے بھلائی کی امید رکھنا احمقانہ پن ہے۔ اس نے اپنے ہر اقدام سے پاکستان دشمن ثابت کیا ہے۔ کیا ہمارے حکمران نادان ہیں کہ ہندو بنیئے کی مکاری کو سمجھ نہیں رہے یا کسی بیرونی دبائو کا شکار ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑے اور بُرے دشمن کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہیں؟ بھارت پاکستان کو کبھی تیل کی فراہمی کی پیشکش کرتاہے اور کبھی بجلی کی۔ حالانکہ وہ انرجی کے ان دونوں شعبوں میں خود کفیل نہیں ہے۔ وہ محض پاکستان کی معیشت کو جکڑنے کے چکر میں ہے جس میں ہمارے حکمران آ رہے ہیں۔ خود مشرقی پنجاب جہاں سے بجلی درآمد کرنے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے خود ہی بجلی میں خود کفیل نہیں ہے وہ مشرقی پنجاب میں ہونے والی لوڈشیڈنگ اس بات کا کھلا ثبوت ہے۔گذشتہ دنوں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سیول میں بھارتی وزیراعظم سے مخصوص ملاقات ہوئی جس میں منموہن نے پاکستان کو 5ہزار میگاواٹ بجلی کی فراہمی کی پیشکش کی جو بھٹوز کے جانشین نے قبول کر لی۔ یہ وہ بجلی ہے جو بھارت پاکستان آنے والے دریائوں کے پانیوں پر ڈیم پہ ڈیم تعمیر کرکے بنا رہا ہے۔ گویا یہ بجلی ہماری رگوں سے کشید کرکے ہمیں فروخت کرے گا۔ اور اس پیسے سے اسلحہ خرید کر ہمارے ہی سینے پر آزمائے گا۔ اسے پاکستان سے اتنی ہی محبت ہے تو کشمیر کو آزاد اور پاکستان کے حصے کا پانی واگزار کر ردے۔ ہمارے حکمران غیرت مند بنیں کشمیرہمارا ہے۔ اس میں بنے ڈیموں کی بجلی خریدنے کے بجائے اس وادی کے حصول کے لیے تن من کی بازی لگا دیں۔ مکار دشمن سے بجلی سے چلنے والے کارخانے محبت وطن پاکستانی اپنے خون اور دل سے جلائیں گے۔ ہم اپنے گھر روشن کرنے کے لیے اپنے خون کے دیپ تو جلا لیں گے دشمن سے بجلی خریدنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ حکمران یہ بات ذہن میں رکھیں کہ پاکستان کا دشمن انتہائی چالاک، مکار اور عیار ہے۔ اس کے جھانسے میں نہ آئیں وہ بجلی فراہم کرکے بھی اپنی کسی سازش کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اس سے محتاط رہیں ۔ یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus