×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سانحہ سیا چن اور حکمرانوں کی بے حِسی
Dated: 17-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دنیا کے بلند ترین اور برف سے ڈھکے پہاڑی سلسلے سیاچن پر دنیا کی سب سے مہنگی ترین جنگ لڑی جا رہی ہے۔ نقطہ انجماد سے بھی کئی درجے نیچے سردی میں جہاں جسم کا کوئی حصہ ایک خصوصی یونیفارم سے اگر باہر رہ جائے تو سڑ کر گر جاتا ہے اور محتاط اندازے کے مطابق ایک سولجر کی یونیفارم پر تقریباً 40ہزار ڈالر خرچہ آتا ہے اور جبکہ ہر یونیفارم صرف چار سے پانچ ماہ تک کارآمد ہوتی ہے۔ جب سے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں جب بھارت نے دوتہائی سیا چن کی سرزمین پر قبضہ کر لیا تھا تو آمر ضیاء الحق نے ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مصداق پر کہہ کر بات کو ٹالنے کی کوشش کی کہ یہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی تو ہمیں سیاچن کے لیے اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جب کہ ڈکٹیٹر کو جو بذات خود ایک سولجر تھا یہ بھول گیا کہ وطن کی مٹی اور ایک انچ سرزمین پر بھی دشمن کا غاصبانہ قبضہ برداشت نہیں کیا جاتا۔ قیام پاکستان کے 64برس بعد ہم کشمیر اور مقبوضہ سرزمین کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر بیٹھے ہیں اور اس سلسلے میں اب تک چار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ سیاچن اور کارگل کی ہزاروں میٹر اونچی پہاڑی چوٹیوں پر ہمارے فوجی جوان وفائوں کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہم گہری نیند اور بے خبر سوتے ہیں، میٹھے خواب دیکھتے ہیں جبکہ پاک وطن کے جوان دن رات جاگ کر سنگلاخ پہاڑوں پر دلدل میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے مادرِ وطن کی نہ صرف حفاظت کر رہے ہیں بلکہ دنیا میں ایک غیرت مند قوم کی حیثیت سے ہمارا امیج بلند کر رہے ہیں۔ لاکھوں مائیں اپنے بیٹے ، بہنیں اپنے بھائی، بیٹیاں اپنے باپ اور سہاگنیں اپنے سہاگ محاذ جنگ پر بھیج کر اپنے سینہ اور سر فخر سے بلند کرتی ہیں۔ مشہور یورپی دانشور پیٹر گرھارڈ کہتا ہے کہ ’’جنگیں اسلحے اور انسانوں کے ہجوم اکٹھا کرنے سے نہیں جیتی جا سکتی۔ جنگی محاذ پر جذبے لڑتے ہیں اور جذبے جواں ہوں تو ہمت خود بخود آ جاتی ہے اور ہمت آ جائے تو پھر جیتنا کوئی مشکل نہیں رہتا۔‘‘ ابھی ماضی قریب کی ہی بات ہے جب ہمارے مکار دشمن بھارت نے ستمبر1965ء رات کی تاریکی میں ہم پہ جنگ تھوپ دی تھی جبکہ ہم بے خبری میں سوئے ہوئے تھے ہم پر حملہ کرکے ہم پاکستانیوں کی غیرت کو للکاراتھا اور صبح کا ناشتہ بھارتی فوج نے لاہور میں کرنے کا سوچا تھا مگر ہمارے دلیر اور بہادر جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور ناشتے کا خواب دیکھنے والی بھارتی فوج کو انہی کے علاقے میں میلوں پیچھے دور تک دھکیل دیا۔ پھر چھمپ جوڑیاں کے محاذ پر دشمن کو شکست فاش ہوئی۔ چونڈہ کے محاذ پر جہاں دشمنوں نے ٹینکوں کی بڑی کھیپ کے ساتھ حملہ کرکے پاکستان کو درمیان سے کاٹنے کی سازش کی تھی یہ جنگوں کی تاریخ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی تو ہماری پاک افواج کے بہادر سپاہیوں نے خوشی بخوشی اپنے سینوں سے بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے جا کھسے اور دشمن کی ٹینکوں کی یلغار کو نیست و نابود کر دیا اور دوسری طرف پاکستان کے کروڑوں عوام نے بھی اسی جذبے سے اپنے فوجی جوانوں کو سپورٹ کیا تھا۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ ماں نے اپنے ماتھے کا جھومر اور بیٹی نے اپنے کانوں کی بالیاں اور غریب نے اپنے گھر کی رضائی اور کمبل تک محاذ جنگ پر لڑنے والے جوانوں کے لیے بھیج دیئے اور ریڈیو پر ملکہ ترنم نورجہاں کے ایمان تازہ کرنے والے نغمے (میرے ڈھول سپاہیا تینوں رب دیا رکھاں) جیسے ترانے گا کر اپنے فوجی جوانوں کو سپورٹ کیا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا۔ گذشتہ ہفتے اسی سیاچن کے محاذ پر ہمارے تقریباً 125فوجی جوان جو کہ ایک کلومیٹر لمبے اور 80فٹ گہرا برف کا تودہ گرنے سے نیچے دب گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ، جرمن، جاپان، انگلینڈ اور امریکہ سے بھی امدادی ٹیمیں پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ اعلیٰ افسران سمیت ہمارے سوا سو سے زیادہ جوان جن کے زندہ بچ جانے کے امکانات دن بدن معدوم ہوتے جا رہے ہیں کی ہنوز تلاش جاری ہے۔ جبکہ ہمارے حکمران خواب غفلت میں مبتلا ہیں اور شاید فوج سے ایک عناد یا عداوت کے باعث اب تک خاموش بیٹھے ہیں۔ ماضی کی تلخیوں کو ایک طرف رکھ کر ،جمہوریت اور آمریت کے کھیل کو ایک طرف رکھ کر اگر ہمارے حکمران ایک لمحہ کے لیے یہ سوچیں کہ یہ لڑائی ہماری اپنی ہے ، اپنے گھر کی بات کو اپنے گھر تک محدود رکھیں اور باہر کی دنیا کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہونی چاہیے۔ ہماری فوج جو دنیا کی بہادر ترین افواج میں شمار کی جاتی ہے اس کا شعبہ ISIدنیا کے دس فعال انٹیلی جنس اداروں میں پہلے نمبر پر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ازلی دشمن بھارت اور امریکی سامراج اور عالم اسلام کے دشمن اسرائیل کی نظروں میں ہماری پاک فوج ہمیشہ سے کھٹک رہی ہے۔ چلیے مان لیا پاک افواج کے جرنیلوں سے ماضی میں غلطیاں بھی سرزد ہوئی جمہوریت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا مگر کیا جمہوریت کو نقصان پہنچانے میں ،کیا صرف فوج اکیلی ذمہ دار تھی؟ کیا ہم سیاست دانوں کی آپس کی سازشوں ،لوٹا ازم اور ریشہ دوانیاں بھی اس میں شامل نہ تھی؟ لاکھوں ٹن برف کے نیچے دھبے ہوئے ان سوا سو فوجی جوانوں کا کیا قصور تھا؟ کہ ہم انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیں۔ ان سینکڑوں مائوں، بہنوں، بیٹیوں کے جگر گوشوں کو حالات کے ستم کے حوالے کر دیں کیا یہی ہمارا نیشنل ازم ہے؟ آج اس واقع کو گزرے کافی دن ہو چکے ہیں ملک کے وزیراعظم کو توچلو توفیق نہ ہوئی کہ وہ اپنی ’’مارکیٹنگ‘‘ نما جلسوں سے تھوڑا وقت نکال کر اپنی کابینہ کے ساتھ فوج سے اظہار یکجہتی کے لیے سیاچن پہنچ جاتے مگر وزیراعظم موصوف تو اس وقت کابینہ سے اپنی بے گناہی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر رہے تھے جبکہ ملک کے وزیر دفاع جو کہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہ ہیں ان کو توفیق تک نہ ہوئی کہ ان بہادر سپاہیوں اور جوانوں کے لیے یک سطری اسٹیٹ منٹ ہی جاری کر دیتے۔ ایسے لگتا ہے ہمارے ملک کی سول قیادت نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بالکل کھل کرفوج کے سامنے آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر صورتحال یہی رہی تو کیا ہم سوچنے پر مجبور نہ ہوں گے کہ ملک ایک خانہ جنگی اور تباہی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے؟ میری صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب سے التماس ہے کہ وہ وزیراعظم سمیت تمام کابینہ کو ساتھ لے کر سیاچن میں حادثہ کے مقام پر جائیں اور پاک فوج کے جوانوں کے لیے دعا کریں۔ ہمیں ماضی کی تلخیوں کو بھول کر ہی پاکستان کو بچانا اور اس کو مضبوط کرنا ہے۔ A heart touching poem by a soldier: Dedicated to all martyrs for motherland If I die in a war zone, Box me up & send me home. Put my medals on my chest, Tell my mom I did my best, Tell my dad not to bow, He won't get tension from me now, Tell my brother to study perfectly, Keys of my bike will be his permanently, Tell my sister not to be upset, Her brother will not rise after this sunset, Tell my love not to cry... "Because I am a Soldier. Born to die..
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus