×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اقبال کا تصورِ وطنیت و قومیت
Dated: 21-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جدید مغربی سیاسی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب قریب ہم معنی ہیں۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصور کو جس بناء پر رد کیا تھا وہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیاد بنی ان کا خیال تھا کہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاً غیر انسانی اقدار پر مشتمل ہے۔ اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ اور بلا وجہ تنازعات کی بناء پڑتی ہے۔ جو بعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اور بلا خیز تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ اسی نظام کو انہوں نے دنیائے اسلام کے لئے خاص طور پر ایک نہایت مہلک مغربی حربے کی حیثیت سے دیکھا اور جب ترکوں کے خلاف عرب ممالک نے انگریزوں کی مدد کی تو انہیں یقین ہوگیا کہ وطنیت اور قومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہر قاتل سے زیادہ نقصان ثابت ہو رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصور کے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کا تصور پیش کیااور یہ ثابت کیا کہ مسلمانان ِ عالم کے لئے بنیادی نظریات اور اعتقادات کی رو سے ایک وسیع تر ملت کا تصور ہی درست ہے۔ اور قومیت کے مغربی نظریہ ہمیں بحیثیت ملت ان کی تباہی کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ اقبال قوم اور ملت کو مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور مسلمان قوم سے ان کی مراد ہمیشہ ملت اسلامیہ ہوتی ہے۔ اس بارے میں وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ میں نے لفظ ’’ملت‘‘ قوم کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی میں یہ لفظ اور بالخصوص قرآن مجید میں شرع اور دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن حال کی عربی، فارسی اور ترکی زبان میں بکثرت سندات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت قوم کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں ’’ملت ‘‘بمعنی قوم استعمال کیا ہے۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ’’ ان گزارشات سے میرا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک میں دیکھ سکا ہوں ، قران کریم میں مسلمانوں کے لئے ’’امت‘‘ کے سوا کوئی لفظ نہیں آیا۔ ’’قوم‘‘ رجال کی جماعت کا نام ہے۔ یہ جماعت با اعتبار قبیلہ ، نسل، رنگ ،زبان ، وطن اور اخلاق ہزار جگہ اور ہزار رنگ میں پیدا ہو سکتی ہے۔لیکن ’’ملت‘ ‘ سب جماعتوں کو تراش کر ایک نیا اور مشترک گروہ بنائے گی۔ گویا’’ملت‘‘ یا ’’امت‘‘ جاذب ہے اقوام کی۔ خود ان میں جذب نہیں ہوتی۔ اقبال قومیت کے اس تصور کے خلاف ہیں جس کی بنیاد رنگ، نسل ،زبان یا وطن پر ہو۔ کیونکہ یہ حد بندیاں ایک وسیع انسانی برادری قائم کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کی قومیت کے اجزائے ترکیبی وحدت مذہب ، وحدت تمدن و تاریخ ماضی اور پر امید مستقبل ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اسلام اسی ملت کی اساس ہے۔ اور اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول توحید خدا ملی وحدت کا ضامن ہے۔ اس کا دوسرا رکن رسالت ہے۔ اور یہی دونوں اساس ملت ہیں۔ نہ کہ وطن جو جنگ اور ملک گیری کی ہوس پیدا کرتاہے۔ اس سلسلہ میں اقبال نے اپنے ایک مضمون میں یوں لکھا ہے۔ ’’قدیم زمانہ میں ’’دین‘‘ قومی تھا۔ جیسے مصریوں ، یونانیوں اور ہندیوں کا۔ بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا۔ مسیحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیویٹ ہے۔ جس سے انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن ’’سٹیٹ ‘‘ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نو ع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ ’’دین‘‘ نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیویٹ ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اور اس کامقصد باوجود فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد اور منظم کر نا ہے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آسکتا ہے۔ چنانچہ ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے۔وہ کہتے ہیں، قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں جذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے نشہ قے کو تعلق نہیں پیمانے سے اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی اقوام جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے تسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی سے خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے ملت کے لئے اخوت کی ضرورت اسلام نے عالمِ انسانیت میں ایک انقلابِ عظیم کو بپا کرکے انسان کو رنگ و نسل ، نام و نسب اور ملک و قوم کے ظاہری اور مصنوعی امتیازات کے محدود دائروں سے نکال کر ایک وسیع تر ہیئت اجتماعیہ میں متشکل کیا۔ اقبال کے نزدیک یہ ’’ ہیئت اجتماعیہ‘‘ قائم کرنا اسلام ہی کا نصب العین تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وحدت قائم نہ رہ سکی اور مسلمان مختلف فرقوں ، گروہوں اور جماعتوں میں بٹتے چلے گئے۔ اقبال مسلمانوں کو پھر اسی اخوت اسلامی کی طرف لوٹنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور ایک ملت میں گم ہو جانے کا سبق سکھاتے ہیں۔ وہ ایک عالمگیر ملت کے قیام کے خواہشمند ہیں جس کا خدا ، رسول کتاب، کعبہ ، دین اور ایمان ایک ہو، منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک حرم پاک بھی، اللہ بھی قرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک آج ہم جن مشکلات کا شکار ہیں ،ان سے نکلنے کا ہی طریقہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلم امہ اقبال کے تصورِ قومیت کو اپنا ایمان اور ایقان بنا لیں ۔ پھر ہمیں امریکہ جیسی سپر پاور سے خطرہ ہوگا نہ معاشی مسائل کا سامنا ہوگا بلکہ مسلم امہ خود ایک سپر پاور بن کر ابھرے گی۔ شہید ذوالفقار علی بھی ایسے نظریات قائل تھے ۔ انہوں مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر نے کی کامیاب سہی کی، اسی کے سبب پہلے شاہ فہد کی جان لے لی گئی پھر شہید بھٹو اس کے امہ کے اتحاد کی کاوشوں کا چراغ جلنا بند ہوگیا۔ آج پاکستان بھٹو کے جان نشینوں کی حکومت ہے اور آج پاکستان ایٹمی قوت بھی ہے ۔یہ شہید بھٹو کے مسلم امہ کے اتحاد کے ادھورے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus