×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاچن سے انخلاء ۔۔؟ کبھی نہیں!
Dated: 24-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کفن بردوش مجاہدین ملت کٹھن حالات سے گھبراتے ہیں نہ موت سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ پاک فوج کے سپوتوں کی اسی نہج پر تربیت ہوتی ہے کہ وہ ملک و ملت کی خاطر جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں۔ اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ جنگ کے گرم میدان میں پاک فوج کے کسی افسر اور جوان نے ہمیشہ سینے پر گولی کھائی ہے پشت پر کبھی نہیں۔آج قوم کو بڑی آزمائش درپیش ہے۔ 139جاں نثارانِ وطن سیاچن کے سرد ترین محاذ پر کروڑوں ٹن برف تلے دبے ہوئے ہیں۔ آج اس المیے کو بیس دن ہونے کو ہیں۔ پوری دنیا کی ماہر ٹیمیں پاک فوج کی امداد کر رہی ہیں لیکن ابھی تک ایک بھی مجاہد تک رسائی نہیں ہو سکی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 6ماہ لگیں یا 6سال ایک ایک جانثار کو برف سے نکالا جائے گا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہاں برف تلے دبے فوجیوں کی زندگی کی امید معدوم ہو رہی ہے۔ گذشتہ جمعہ کو حکومت نے ان فوجیوں کی سلامتی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی جس پر قوم نے یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ دعائیں کیں۔ کچھ حلقے یوم سوگ منانے کی بات کرتے ہیں۔ جب تک ایک سپاہی کی زندہ بچ جانے کی موہوم سی امید بھی باقی ہے اس وقت تک یومِ سوگ کیسے منایا جا سکتا؟ جب تک امدادی ٹیمیں ان تک پہنچ نہیں جاتیں ان کی زندگیوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ اللہ ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ سیاچن یقینا دنیا کا بلند ترین اور سرد ترین محاذ ہے۔ جہاں انسانی جسم اور سانسیں تک سردی سے جم جاتی ہیں البتہ سپوتوں کے خون کو ملک و قوم کی حفاظت کا جذبہ گرمائے رکھتا ہے۔ اخراجات بھی بے تحاشا ہوتے ہیں جو سالانہ اربوں روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ سرد ترین محاذ اور پاک فوج کی سیاچن میں مشکلات کو دیکھتے ہوئے آج سیاچن سے انخلاء کی بات ہو رہی ہے۔ آرمی چیف جنرل کیانی بھی سیاچن سے پاکستان بھارت فوجوں کی واپسی کی بات کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف نے تجویز دی ہے کہ پاکستان سیاچن سے فوج واپس بلانے میں پہل کرے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ سیاچن واقعی مشکل محاذ ہے وہاں ہمارے لیے بہت سے مسائل ہیں لیکن بھارت کو ہم سے بھی زیادہ پریشانی ہے۔ ہم یکطرفہ طور پر فوج واپس نہیں بلائیں گے۔ سیاچن پاکستان کا مسلمہ حصہ ہے جس پر پاکستان نے کبھی فوج تعینات نہ کی تھی۔ بھارت نے اس کا فائدہ اٹھایا اور وہاں سیاحتی سرگرمیاں شروع کیں اور غیر محسوس انداز میں اپنی فوج بٹھا دی۔ پاکستان کو بھارتی جارحیت کا علم ہوا تو بھارتی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے 1984ء میں پاک فوج کو بھی دشمن کے مقابل کھڑا کر دیا۔ بھارت کی یہاں پاکستان سے دشمنی اور کینہ پروری عیاں ہیں وہیں وہ چین کی معاشی و دفاعی ترقی سے بھی خائف ہے۔ پاک چین دوستی کی دنیا میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ مسئلہ کشمیرکے حوالے سے چین کی طرف سے پاکستان کے موقف کی پوری دنیا میں سب سے زیادہ حمایت کی جاتی ہے۔ مکار ہندو بنیا پاکستان اور چین کو یکساں دشمن گردانتا ہے۔ پاکستان میں گوادر پورٹ سمیت درجنوں ترقیاتی منصوبے چین کے تعاون سے جاری ہیں۔ بھارت کا سیاچن پر قبضے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان زمینی راستے میں دیوار بن جانا ہے۔ وہ شاہراہِ ریشم کو بلاک کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ پاک فوج 1984ء میں اس کی پیش قدمی نہ روکتی تو یقینا وہ پاکستان اور چین کے مابین زمینی راستوں میں رکاوٹ بن جاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اسے ایسا کرنے کی کیا قیمت ادا کرنا پڑتی۔ میں نوازشریف کی تجویز کہ پاکستان انخلاء میں پہل کرے یہ توقطعاًناقابل عمل ہے۔ باقی اعلیٰ سطح پر جو تجاویز پیش کی جا رہی ہیں کہ پاکستان اور بھارت دونوں بیک وقت سیاچن سے فوجیں واپس بلا لیں، جس کا بھارت نے خیرمقدم بھی کیا ہے۔ میرے خیال میں ان تجاویز پر بھی کسی ہوم ورک کے بغیر پیشرفت نہیں ہونی چاہیے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جن مقاصد کے لیے بھارت نے سیاچن کے ایک حصے پر قبضہ کیا اور مزید پر اس کی پیش قدمی جاری تھی کیا وہ ان مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک بار پھر 1984ء والی حرکت نہیں دہرائے گا؟ اس کی کون گارنٹی دے گا کہ بھارت اپنی مکاری سے باز رہے گا؟ سیاچن پاکستان کا حصہ ہے بھارت اس علاقے میں چڑھ دوڑا۔ اصولی طور پر اسے وہاں سے واپس چلا جانا چاہیے یہ سوچے بغیر کہ پاکستان اپنی فوج کو واپس بلاتا ہے یا نہیں۔ یہ پاکستان کا فیصلہ ہوگا کہ وہ سیاچن گلیشیئر کو پہلے کی طرح غیر محفوظ چھوڑ دے یا برفانی چوٹیوں اور وادیوں کی اسی طرح حفاظت کرے جس طرح ملک کے دیگر حصوں کے ایک ایک انچ کی کی جاتی ہے۔البتہ ہماری فوج کو یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ محاذاس سے بھی سرد ہو، اس سے بھی زیادہ بلند ہو، وطن کا دفاع تو خون دے کر ہی کیا جاتا ہے۔ یقینا پاک فوج ابھی وطن کے دفاع کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تھکی نہیں اور نہ کبھی تھکے گی۔قیادتیں بھی اسی جذبے کے تحت سوچیں تو اس سوال کا جواب واضح ہو کر سامنے آ جائے گا کہ سیاچن سے فوجی انخلاء غیر مشروط تو درکنار مشروط بھی کرنا چاہیے یا نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus