×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صرف30سیکنڈ
Dated: 28-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میں گذشتہ ہفتے ڈیڑھ ہفتے سے سوئٹزرلینڈ میں ہوں۔ جہاں مقامی دوستوں اور پاکستانیوں سے ملاقات ہوتی ہے بشمول جیالوں کے۔ ہر کسی کی زبان پر پاکستان کی گھمبیر ، مخدوش اور کرپشن زدہ صورت حال کا ذکر ہوتا ہے۔ پاکستان میں حکومتی سطح پر کرپشن خصوصی طور پر اعلیٰ ایوانوں کے مکینوں کی اپنی آل اولاد سمیت لوٹ مار کے سوئٹزرلینڈ میں بھی چرچے اسی طرح ہیں جس طرح پاکستان میں ہیں۔ نہ جانے مجھے بار بار یہ قصہ کیوں یاد آتا ہے کہ ایک چور کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے اقرار پر چور کو سزا سنا کر جیل بھجوانے کا حکم دیا۔ چور نے درخواست کی وہ اپنی ماں سے رازداری میں بات کرنا چاہتا ہے۔ حاکم نے اجازت دے دی۔ بیٹے نے ماں کے کان کے قریب منہ کیا لیکن بات کرنے کی بجائے اس کا کان چبا ڈالا۔ وہ چیخی چلائی۔ بادشاہ نے اس سفاکی کی وجہ پوچھی تو نوجوان چور نے کہا دراصل مجھے آج سزا دلانے میں میری ماں کا ہی قصور ہے۔ جب میں نے پہلی چوری کی تو میری ماں نے مجھے منع کرنے کی بجائے میری حوصلہ افزائی کرکے مجھے عادی مجرم بنا دیا۔ آج میں اس قصے یا کہانی کے تناظر میں اپنے وطن عزیز کی صورت حال کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے لٹیرے نظر آجاتے جو خود لوٹ مار میں ملوث، ان کی اولادیں، دوست، اقربا، ساتھی اور ماتحت تک اسی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر قدرت کی طرف سے لوٹ مار کرنے والوں پر ایسی آفت نازل ہو کہ ان کا ایک کان کترا جائے تو دو کانوں والے سیاستدان محض گنتی کے نظر آئیں گے۔ این آر او کیس کرپشن کا ہمالہ ہے۔ رینٹل پاور منصوبوں کی کرپشن بھی کھربوں کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریلوے، پی آئی اے ، سٹیل مل کا تو کرپشن اور کرپٹ ٹولے نے بیڑا غرق کر دیا۔ ان کے علاوہ بھی کسٹمز، انکم ٹیکس، پولیس سمیت کوئی ادارہ اور شعبہ ایسا نہیں جو کرپشن سے پاک ہو۔ ہسپتالوں میں لوگ مسیحائی کی توقع کرتے ہیں لیکن یہ شعبہ اب ذاتی مفادات کے لیے موت بانٹتا نظر آتا ہے۔ جعلی ادویات سے سینکڑوں مریض موت کے منہ میں چلے گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پیپلزپارٹی کے چوتھے دورِ حکومت میں 4سال کے دوران 94 ارب ڈالر کی کرپشن ہوئی۔ یہ ملک کے اندرونی و بیرونی قرضوں سے 6ارب ڈالر زائد ہے۔ این آر او دراصل کرپشن کیس ہے جو اس کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر بالآخر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کا کیس بنا جس میں بالآخر وزیراعظم گیلانی کو سزا ہو گئی۔ انہوں نے جس دن سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا موقف اپنایا تو اسی روز سزا کے واضح امکانات نظر آنے لگے تھے۔ جس کا علم وزیراعظم ان کے وکیل اور ساتھیوں کو تھا۔ وہ اس کیس کو صدیوں تک لٹکانے کا پروگرام بنائے ہوئے تھے۔ فیصلے میں تاخیر پر عدلیہ پر تنقید بھی ہوتی رہی، اس کی سپریم کورٹ نے مطلق پروا نہ کی اور ملزم کو صفائی اور ان کے وکیل کوبامعنی اور بے معنی قسم کے دلائل کا پورا موقع فراہم کیاگیا اور بالآخر 26اپریل کو وزیراعظم کو تاعدالت برخاست سزائے قید سنا دی۔ جو 30سیکنڈ بنتی ہے۔ عجب اتفاق ہوا 30سیکنڈ میں سزا سنائی، اس پر عمل ہوا اور وزیراعظم نااہل قرار پائے۔ صدر صاحب شاید سزا کی معافی کا گمان لیے بیٹھے ہوں لیکن نہ صرف ان تک خبر پہنچنے بلکہ ان کے وکیل جن کی قیمت محض منسٹری تھی ان کے مائی ڈیئر لارڈ کہنے سے قبل سزا کٹ چکی تھی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک تیر سے تین شکار ہو گئے۔ وزیراعظم کو سزا ہوئی۔ صدر کو پیغام مل گیا کہ این آر او فیصلے پر عمل ضرور ہوگا۔ آسمان کی بلندیوں کو چھونے کا دعویدار وکیل چاروں شانے چت ہو گیا۔ اعتزاز احسن اپنے صفائی جو چاہے کہیں مگر ستاروں بتاتے ہیں کہ ان کا انجام بھی بابر اعوان سے مختلف نہ ہوگا۔یہ سپریم کورٹ کا انتہائی احسن اور باوقار فیصلہ ہے۔ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوا ہوگا کہ ایک سزایافتہ شخص وزیراعظم بننے کے بعد بھی مجرم قرار پائے۔ پوری دنیا دیکھ رہی تھی کہ توہین عدالت کے ملزم پر پھول نچھاور کیے جا رہے تھے۔ کیا وزیراعظم کوئی محاذ سر کرنے جا رہے تھے۔کیا وزیراعظم اور ان کی پوری کرپٹ اور ہم نوا کابینہ نے کشمیر فتح کر لیا تھا جو ان پر پھولوںکی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں؟ وزیراعظم ان کے اتحادیوں اور وزراء کا جتھے اور لائولشکر کے ساتھ سپریم کورٹ جانے کے اقدام کا بین الاقوامی میڈیا مذاق اڑاتا رہا۔ سپریم کورٹ نے ایسا فیصلہ دیا کہ وزیراعظم ،ان کے مشورہ سازوں اور حواریوں کو مختصر ترین فیصلہ سنا کرٹیکنیکل ناک آئوٹ کر دیا۔ یہاں یورپ میں وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت پر سزا ملنے پر لوگ یہ جان کر نفرت کا اظہارکرتے ہیں اگر صدر پاکستان کو استثنیٰ حاصل ہے تو سوئس حکام کو خط لکھنے میں مضائقہ کیا ہے؟ اگر صدر نے کرپشن نہیں کی تو کیس جہاں بھی چلے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ گذشتہ روز جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا سنائی جا رہی تھی تو بالکل اسی وقت اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ٹریبونل نے لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلرکو اپنے لاکھوں ہم وطنوں کے قتل کے جرم میں مجرم قرار دے دیا ۔ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ چارلس ٹیلر اور یوسف رضا گیلانی نے کیا فرق ہے۔یقینا یوسف رضاگیلانی کے اقدامات ملک کو لوٹنے اور غریب عوام کا ماس نوچنے کے متردف ہے ۔اور آگے چل کر اسی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان کے عوام کو بھوک، ننگ ،مفلسی اور لاکھوں خودکشیاں کرنی پڑی تو ان کے ذمہ دار بھی یوسف رضاگیلانی اور ان کی پوری کابینہ ہو گی۔ اب آئینی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ وزیراعظم گیلانی سزا ملنے کے بعد وزیراعظم اور ایم این اے کی نشست سے نااہل ہو گئے ہیں۔ ان کا بدستور وزارت عظمیٰ کے عہدے سے چمٹے رہنے کا اصرار آئین اور قانون سے ماورا خواہش ہے۔ پیپلزپارٹی نے تاریخ میں زندہ رہنا اور اگلے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو سزایافتہ وزیراعظم سے پیچھا چھڑانا ہوگا ۔قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کے بغیر اگر پاکستان پیپلزپارٹی زندہ ہے اور اقتدار میں بھی ہے توپھر وزیراعظم اور ان کے کرپٹ اولادکے بغیر بھی شہیدوںکی یہ جماعت زندہ رہے گی۔دنیا بھر سے جیالے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ اس کرپٹ ٹولے سے نجات حاصل کرکے شہیدوں کی روح کو تسکین پہنچائی جائے۔سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے وزیراعظم کو 30سیکنڈ کی سزا دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے ایام میں ان 30سیکنڈ کے مضمرات اور اثرات اس ملک اور اس ملک کی سیاست پر ضرور پڑیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus