×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جمہوریت ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر
Dated: 01-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان کو قائم ہوئے ابھی پورے 65سال نہیں ہوئے۔ اگست میں 65سال ہوں گے۔ اس دوران اگر جمہوری اور آمرانہ ادوار کا موازنہ کیا جائے تو آمریت 33سال تک مسلط رہی۔ جمہوری اور نیم جمہوری ادوار 32سال پر مشتمل تھے۔ گویا قیام پاکستان کے بعد آدھا سے زیادہ عرصہ آمر حکمرانی کرتے رہے۔ فوجی آمریت یقینا قابل نفرین ہے لیکن ہمیں یہ بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ سیاست دانوں کی کمزوریوں، غلطیوں ،آپس کے اختلافات اور سرپھٹول بھی آمریت کے مسلط ہونے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ پھر آمروں کو دس دس سال تک اگر حکمرانی کا موقع ملا تو اس میں ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مفادات کیش کرانے والے سیاستدانوں کا بھی کردا رہے۔ کئی نے تو اپنی جماعتیں تک آمروں کے قدموں میں نچاور کر دیں۔ آج جمہوریت ایک مرتبہ پھر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔ جمہوریت کو اس نہج تک پہنچانے میں سیاست دان ہی ملوث ہیں۔88ء سے لے کر 99ء تک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے اختلافات ذاتی دشمنی تک چلے گئے تھے۔ جس کا خمیازہ دونوں پارٹیوں کو دو دو بار قبل از آئینی مدت پوری ہونے کے حکومتوں کی رخصتی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ بالآخر مارشل لاء لگا اور دونوں پارٹیوں کی قیادتوں کو دس سال تک جیل اور جلاوطنی کے زخم سہنے پڑے۔ اب دونوں پارٹیاں پھر سے اقتدار میں ہیں۔ جس کی وجہ سے شاید دس سالہ جیلوں، جلاوطنیوں اور صعوبتوں کی ٹکور ہو چکی ہے۔ یہ دونوں پھر طالع آزمائوں کے راستے ہموار کر رہی ہیں۔ اگر غیرجانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو ڈی فیکٹو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کی غیر آئینی اور غیر قانونی پشت پناہی کرنے والے زیادہ قصوروار ہیں۔ پاکستان کے سینئر ترین پارلیمنٹرین سید ظفر علی شاہ بھی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے تھا۔ گیلانی صاحب شاید اقتدار کے ایک ایک لمحے کو کشید کرتے ہوئے آخری لمحہ تک یہ عمل جاری رکھنا چاہتے ہوں۔ الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ توہین عدالت کیس میں سزا ہوئی تو انہیں مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ نااہل ہونے پر وزیراعظم نہیں رہیں گے۔لیکن جب فیصلہ آیا سزا سنائی گئی وہ بھگت بھی لی لیکن وہ اپنے کہنے سے مکر گئے اور اپنی حکمرانی کی طوالت کے لیے تاویلات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ نوازشریف کو چیلنج دے رہے ہیں کہ ہمت ہے تو تحریک عدم اعتماد لے آئیں ۔ فیصلے کے روز میاں نوازشریف نے کہا تھا وہ ان کو وزیراعظم تسلیم نہیں کرتے۔ جب وہ ان کو وزیراعظم ہی نہیں اور یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت میں آئے تو یوسف رضا گیلانی کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دے دیں گے۔جب میاں نوازشریف نے یہ موقف اپنا لیا ہے توان کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک لانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ اب تو نوازشریف نے یوسف رضا گیلانی کے اقتدار سے الگ نہ ہونے پر تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی ہے۔ اور لانگ مارچ کے آپشن کو استعمال کرنے سمیت کوئی بھی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے اس پر حکومت کی طرف سے شدید اشتعال کا رویہ سامنے آیا ہے۔ میرے لیے حیرانگی کی بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو سزا ہوئی۔ آئین کے آرٹیکل 63جی ون کے تحت وہ قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل ہو گئے۔ بقول گیلانی صاحب نے ان کو تو استعفیٰ دینے کی بھی ضرورت نہیں تھی لیکن وہ عدالت سے پشیماں ہو کر نکلے تو وزیراعظم ہائوس میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی اور اگلے روز قومی اسمبلی میں پرجوش تقریر بھی کر ڈالی۔ پیپلزپارٹی یوسف رضا گیلانی کا نام نہیں ہے جن کو پارٹی غیر آئینی تحفظ دے رہی ہے۔ایسے شخص کی خاطر جس کی وجہ سے ملک میں کرپشن کا عفریت دندناتاپھر رہا ہے۔ اصول کی بات کرنے والوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ کرپٹ اور مفاد پرستوں کو نوازا جا رہا ہے۔ ڈی فیکٹو وزیراعظم اپنی اولاد سمیت کرپشن کی داستانوں کا مرکزی کردار بنے ہوئے ہیں۔ اب حالات پھر 1988ء اور 1999ء والی اس نہج پر آ گئے ہیں جب سیاسی اختلافات، ذاتیات تک چلے گئے تھے۔ اس دور میں کردارکشی کا جو کردار حسین حقانی ادا کرتے تھے اب رحمن ملک نے وہ ذمہ داری لے لی ہے۔ بعید نہیں کہ کل ضرورت پڑنے پر حقانی اور ڈاکٹر بابراعوان کی طرح رحمن ملک بھی پیپلزپارٹی کو منجدھار میں چھوڑ کر اپنا فیصلہ بدل لیں۔ نوازشریف نے گیلانی کی جگہ نیا وزیراعظم لانے پر حمایت کی بات کی ہے۔ میرے خیال میں جمہوریت کی بقا کے لیے نوازشریف کی اس پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگر یوسف رضا گیلانی اقتدار سے غیر آئینی طریقے سے چمٹے رہنے پر بضد رہے تو بہت بُرے نقصان کا اندیشہ ہے۔فوج نے چار سال سے خود کو سیاست کے گند سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جب کہ ملک طرح طرح کے بحرانوں میں مبتلا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ بجلی گیس کی قلت کے باعث ہرشخص پریشان ہے۔ ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل ملز جیسے منافع بخش ادارے ڈوب چکے ہیں۔ملک 86ارب کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سپیکر کے فیصلے کو ترجیح دینے کے بیان سے ملک نئے آئینی بحران میں مبتلا ہو گیا ہے۔اوپر سے اپوزیشن کے ساتھ دشمنی کی حد تک محاذ آرائی اور پھر سپریم کورٹ اور رجسٹرار کو دھمکیاں! معاملہ آخرکہاں جا کر رکے گا؟ایسی صورت حال کا کوئی تو منطقی انجام ہوگاجو خوفناک اور جمہوریت کی بساط بھی لپیٹ سکتا ہے۔ میں دردِ دل پاکستانیوں بالخصوص جناب مجید نظامی صاحب جیسے لوگوں سے التماس کرتا ہوں کہ پاکستان اور جمہوریت بچانے کے لیے وہ اپناحقیقی کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں اگر دیر ہو گئی تو نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔کیونکہ اپوزیشن اور اقتدار زدہ طبقہ دونوں ہی اپنی جگہ پر، اپنے موقف پرڈٹے ہوئے ہیںاور مصالحت کا کوئی راستہ کھلا نظر نہیں آتا۔ان حالات میں وہ لوگ جنہوں نے پاکستان اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور اس کو سنورتے ،پھلتے اور پھولتے دیکھا ہے وہ یقینا پسند نہیں کریں گے کہ پیار ا وطن وچمن خدانخواستہ اجڑنے کے قریب پہنچے۔ایسے میں مجید نظامی جیسے بزرگوں کو پاک وطن بچانے کے لیے ایک دفعہ پھر سے جوان بننا ہوگااور اپنے ولولوں اور ہمت سے دشمنان پاکستان کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔اگر پاکستان سے اب کی بار جمہوریت رخصت ہوئی تو یاد رکھیے یہ پاکستان کی بقا کے لیے کچھ زیادہ بہتر نہ ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus