×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پنجاب کی تقسیم سازش یا شرارت؟
Dated: 05-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قومی اسمبلی ،سینیٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں قرارداد لانے اور اس کو منظور کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ قرارداد ایوان میں لانے سے دو روز قبل نوٹس دیا جاتا ہے۔ اس سے ہر رکن آگاہ ہوتا اور ووٹنگ میں حصہ لیتا ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ رائے شماری ہوتی اور سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کی طرف سے قرارداد کے حق اور مخالفت میں آنے والے ووٹوں کی تعداد سے ایوان کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ لیکن 3مئی کو قومی اسمبلی میں ایک عجیب قسم کا تماشا دیکھنے میںآیا۔ مسلم لیگ ن جب ایوان زیریں میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف اقتدار چھوڑ دو سپریم کورٹ کے فیصلہ تسلیم کرو کے نعرے لگاتے ہوئے ہنگامہ برپا کیے ہوئے تھی کہ اس اثنا میں وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی قرارداد پیش کر دی۔ جس کو ہنگامہ آرائی کے دوران منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اسی دوران وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کی قرارداد پیش کرکے اسے بھی منظور کر لیا گیا۔ دونوں قراردادوں کے پیش ہونے اور منظوری کے دوران مسلم لیگ ن بدستور ہنگامہ آرائی جاری رکھے ہوئے تھی۔سپریم کورٹ کی طرف سے ان کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیئے جانے کے بعد یوسف رضا گیلانی کی بطور وزیراعظم پوزیشن اور حیثیت متنازعہ بنی ہوئی ہے۔مسلم لیگ ن ،جماعت اسلامی اور جزوی طور پر عمران خان کی پارٹی ان کو وزیراعظم ماننے پرتیار نہیں۔اکثر ملکی و غیر ملکی آئینی ماہرین کی رائے بھی یہی ہے۔ایسے میں وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد کی تو ویسے بھی کوئی حیثیت نہیں۔ دوسرے یہ کہ قرارداد پیش کرنے اور منظور کرنے کے لیے جو آئینی طریقہ کار ہے وہ بھی نہیں اپنایا گیا۔اس لیے بھی اعتماد کی قرارداد کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تیسرے اس سے وزیراعظم کی اخلاقی پوزیشن یوں کمزور ہوئی ہے کہ وہ 342اراکان کے منتخب کردہ وزیراعظم تھے کل کی قرارداد میں انہیں جو بھی ووٹ ملے ان کی تعداد 342سے کہیں کم ہے۔ اگر دوتہائی بھی ہو تو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ قرارداد ان کی وزارت عظمیٰ کو آئینی حیثیت نہیں دلا سکتی۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم پر غیرقانونی اعتماد کی قرارداد سے قبل جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے لیے رولز اور پروسیجر کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اکثر سرکاری ارکان اس قرارداد سے لاعلم تھے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران سپیکر نے ووٹ کیے ، گن لیے یہ بھی ایک معمہ ہے۔میں نے ٹی وی پر یہ خبر دیکھی تو سوئٹزرلینڈ میں عرصہ دراز سے موجود میں نے اپنے وکیل دوست سے بات کی ان کو پاکستان کا آئین یوں سمجھئے ازبر ہے انہوں نے فوری طور پر آئین کے آرٹیکل 239کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ اس کے مطابق جس صوبے میں نیا صوبہ تشکیل دیا جانا مقصود ہواس کی اسمبلی دوتہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرتی ہے۔یہ قرارداد پھر ایوان زیریں اور بالا میں دوتہائی اکثریت سے منظور ہو گی تو نئے صوبے کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔میرے وکیل دوست نے بتایا کہ اگر رولز اور پروسیجر کے مطابق بھی قومی اسمبلی میں یہ قرارداد منظور کی گئی ہوتی تو صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔یہ سن کر میں سر پکڑ کر رہ گیاکہ قومی اسمبلی میں جس طریقے سے یہ قرارداد پیش کی گئی اور میری پارٹی نے وہ منظور بھی کر لی۔ یہ محض سیاسی برتری کی کوشش اور پوائنٹ سکورنگ کا اقدام تھا۔جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ہمدردیاں اور اگلے الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک طرف پیپلزپارٹی نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ چال چلی تو دوسری طرف اس کا مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی ویسا ہی گمراہ کن، ترکی بہ ترکی جواب دیا گیا۔مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور قبائلی علاقہ جات پر مشتمل صوبے بنائے۔پیپلزپارٹی کی طرح مسلم لیگ ن کا بھی یہ الیکشن اور ان علاقوں کے عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے ایم کیو ایم بڑ ی جذباتی ہو رہی ہے۔دنیا بھر میں ہر بیس کلومیٹر کے فاصلہ پرزبان ،تلفظ ڈی الیکٹ بدل جاتا ہے اگر ہم نے لسانی بنیاد پرصوبے بنانے شروع کیے تو خیبر سے کراچی تک200صوبے بنانا پڑیں گے۔اگر پنجاب کی تقسیم ضروری ہے تو پھر خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبہ بھی بننا چاہیے۔بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔جہاں پنجابی آبادکاروں سمیت پختونوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اس کو بھی صوبے کی ضرورت ہے اور بلوچستان کے جغرافیائی خدوخال دیکھتے ہوئے کم از کم چار صوبے بننے چاہیں۔اور اسی طرح سندھ میں آباد بلوچوں کو، پنجابی آباد کاروں کو اور پشتوں بولنے والوں سمیت اُردو بولنے والوں کے لیے بھی الگ صوبہ بننا چاہیے۔تقسیم پنجاب کی سازش کرنے والے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ صرف لاہور میںنہر کے ایک طرف جہاں دھرم پورہ ،اچھرہ،لکشمی،شاہ عالمی اور قلعے کے اطراف کا علاقہ ہے دراصل اصلی لاہوریئے تو یہی بستے ہیں اور نہر کی دوسری طرف فیصل ٹائون ،جوہر ٹائون ،واپڈا ٹائون ،کینٹ اور ڈیفنس کے علاقے جہاں پر 90فیصدجنوبی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والے جاگیر داراور سرمایہ داربڑے بڑے محلوں اور گھروں میں رہائش پذیر ہیںاگر وہ جنوبی پنجاب سے اتنا ہی پیار رکھتے ہیں تو وہ اپنے آبائی شہروں کو واپس جائیں اور جنوبی پنجاب کو آباد کریں۔خود وزیراعظم کے وزیراعظم بننے کے بعد لاہور بھرکے پوش ایریاز میں تقریباً دو درجن گھر ہیں۔یہ عجب تماشا ہے کہ جنوبی پنجاب کا نعرہ لگانے والے جنوبی پنجاب میں رہنا پسند نہیں کرتے؟اس وقت ملک میں بجلی، پانی، گیس ،روٹی، کپڑا، مکان، ادویات ناپید ہیںان حالات میں نئے صوبوں کی بات کرناسازش سے زیادہ شرارت ہے۔ پنجاب کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی تو کراچی کے تین صوبے بنیں گے۔پنجابی اور پشتون بھی جناح پور کی طرح اپنے حق مانگیں گے۔بہتر ہے اور ملک کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ صوبوں کا پنڈورا بکس نہ کھولا جائے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونے والے گیلانی نے ملک میں ایک آئینی بحران پیدا کیا ہوا ہے۔اب قومی اسمبلی میں دو ماورائے آئین قراردادیں لا کر مزید بحران پیدا کر رہے ہیں۔حکمران ہوش کے ناخن لیں اور قوم کو تقسیم کرنے سے باز رہیں۔ میری مخلصانہ رائے ہے کہ پاکستان کے 110ضلعوں کو انتظامی طور پر صوبوں کا درجہ دے کر ڈسٹرکٹ گورنر مقرر کر دیئے جائیں (بالکل امریکہ کی طرح)۔اس طرح انتظامی طور پر ملک مضبوط ہوگاوگرنہ اس ایشو کو موجودہ حالات میں چھیڑنا شہد کی مکھیوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus