×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حکمرانوں کی نیت۔ زرعی شعبے کی زبوں حالی اور قحط سالی
Dated: 08-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میں اپریل کے آخری ہفتے پاکستان سے یورپ آیا تو خلاف معمول لاہور کے موسم میں خنکی موجود تھی۔گذشتہ روز میں نے فون کرکے دوست سے موسم کے حوالے سے دریافت کیا تو اس کا کہنا تھا کہ مئی کے پہلے ہفتے کے اختتام پر بھی گرمی میں وہ شدت نہیں ہے جو اس ماہ کا خاصہ گردانی جاتی ہے۔ دیہی ماحول اور فصلوں کی بوائی ،نشوونما اور کٹائی سے نابلد لوگوں کے لیے تو موسم کو خوشگوار قرار دیا جاتاہوگا لیکن میرا دل بیٹھ رہا ہے۔ اوپر سے ہر دوسرے تیسرے روز ہلکی ہلکی بارش بھی ہو جاتی ہے۔ کچھ مقامات پر ژالہ باری بھی ہوئی۔ آج گندم کی فصل کی کٹائی ہو رہی ہے۔ اس سیزن میں کسان خدا سے دعا کرتا ہے کہ وہ سونے کا قطرہ بھی نہ برسائے۔ پاکستان میں چار موسم ہیں۔ گرم، سرما، خزاں اور بہار۔ کسان وزمیندار موسم کے مطابق فصل کی کاشت اور برداشت کا اہتمام کرتاہے۔ اس کی زبان پر عموماً اس طرح کے دعایئے کلمات ہوتے ہیں: مالی دا کم پانی لونا بھر بھر مشقاں پاوے مالک دا کم پھَل پُھل لونا لاوے یا نہ لاوے رحمت خداوندی کسان تو کیا اپنی کسی بھی مخلوق کو مایوس نہیں کرتی لیکن آج کسان کا چہرہ لٹکا ہوا ہے۔ فصلوں کے لیے جس موسم کی ضرورت ہے اس میں کچھ تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔گندم کی فصل کھیتو ں میں پڑی تباہ ہو رہی ہے۔کپاس کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔تربوز اور خربوزے کی فصل کو عجیب سی سنڈی نے برباد کر دیاہے۔پاکستان میں سالانہ 16لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے گو اس میں سے صرف بمشکل ڈیڑھ لاکھ ٹن ایکسپورٹ ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آسٹریلیا میں 5لاکھ ٹن پیدا ہوتا اور اس میں سے 4لاکھ ٹن ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ شاید قدرت کی طرف سے اس نعمت کی بے قدری پر آم کا بُور بھی جھڑ رہا ہے۔دیگر موسمی سبزیاں بھی کھیتوں میں کھڑی کھڑی سوکھ رہی ہیں۔ کسان اور کاشتکار کی نیت صاف ہے۔وہ محنت میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ پھر اس کا حشر ایسا کیوں؟ فطرت کی طرف سے اس کے ساتھ بے رخی کیوں؟ ایسے میں مجھے اس بادشاہ کا واقعہ یاد آ رہا ہے؟بادشاہ شکار کے لیے جنگل کی طرف جا رہا تھا اسے پیاس محسوس ہوئی تو ایک باغ کے قریب اپنا گھوڑا روکا۔ مالی یا باغ کے مالک کو اپنی پیاس کے بارے میں بتایا تو اس نے ایک انار توڑا اس کو نچوڑ کر کلاس بھرا اور مسافر کو پیش کر دیا۔بادشاہ نے جوس پیتے ہوئے سوچاکہ اناروں کے باغ سے اس کے مالک کو بڑی کمائی ہو رہی ہے کیوں نہ اس پر ٹیکس لگا دیا جائے یہ سوچ کر بادشاہ آگے چلا گیا۔واپسی پر پھر اسے پیاس نے ستایا تو پھر اسی باغ کے قریب گھوڑا روک کر مالی سے انار کا جوس پلانے کی فرمائش کی ۔ مالی نے انار توڑا اسے نچوڑا تو گلاس آدھا ہی ہوا۔ پھر دوسرا انار توڑ کر نچوڑا تو گلاس بھر سکا۔ بادشاہ نے مالی سے اس کی وجہ دریافت کی۔ مالی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کے سامنے بادشاہ کھڑا ہے تاہم وہ جہاندیدہ اور دانشمندوں کی مجلسوں میں بیٹھنے والا شخص تھا۔ اس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ حاکم وقت کی نیت میں اس باغ کے حوالے سے کوئی بال آ گیا ہے جس سے باغ کی پیداوار پر اثر پڑا ہے۔ بادشاہ نے دل ہی دل میں باغ پر ٹیکس لگانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ آج پاکستان کے موسم میں جو تبدیلی آ رہی ہے اور فصلوں کی تباہی ہو رہی یہ بھی کہیں حکمرانوں کی بدنیتی کا نتیجہ تو نہیں ہے۔ یہ کسی بھی شعبے کو دیکھ کربلاسوچے سمجھے کہ اس کی پیداوار کتنی اور اس پر لاگت کتنی اٹھتی ہے ٹیکس پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ کی وجہ سے ہر شعبہ زوال پذیر ہے۔ خصوصی طور پر زرعی شعبہ کی تو ٹیکسوں کی بھرمار، پانی کی قلت، جعلی ادویات اور مہنگی کھادوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ آج امریکہ کی دہشتگردی کی جنگ کا حصہ بننے اور بجلی و گیس کی شدید قلت کے باعث عظیم پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔آپ کے پاس ایکسپورٹ کے سوا کچھ بن ہی نہیں رہابنے بھی کیسے بجلی و گیس تو موجود نہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایسے اگر کچھ ایکسپورٹ ہو رہا ہے وہ زرعی اشیاء ہیں۔ پاکستان کی سالانہ برآمدات 25ارب ڈالر جبکہ درآمدات 41ارب ڈالر ہیں۔ برآمدات اور درآمدات کے درمیان یہ بہت بڑا فرق ہے۔ 25ارب کی برآمدات بھی شعبہ زراعت کے باعث ہو رہی ہیں آج اگر معیشت کو کوئی سہارا ملا ہوا ہے تو وہ زرعی شعبہ کی وجہ سے ہے۔ حکومت نے اسی کو نظرانداز کر رکھا ہے۔ پانی زراعت کی بنیادی ضرورت ہے جس پربھارت جیسا کمینہ دشمن ’’مَل مار‘‘ رہا ہے۔ کسانوں کو مہنگی اور جعلی ادویات اور کھادیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ٹیویل چلانے کے لیے بجلی دستیاب نہیں۔ ڈیزل کاشتکار کی برداشت سے باہر ہے۔ حکومت نے کسانوں کو سہولتیں فراہم کرنے کی طرف توجہ نہ دی تو خدانخواستہ معیشت کو سہارا دینے والا یہ ستون بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹ جائے۔ جس سے ملکی معیشت مکمل طور پر زمین بوس ہو سکتی ہے۔ جب تک ہمارے ملک کے حکمران اقتدار کو بس لوٹنے کا بہانہ سمجھتے ہوئے یہ بھول جائیں کہ حکمرانی خدمت کا نام ہے اور پھر جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلا دو اور جس دن وطن پاک کے کسانوں، دہکانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کو اس شعر کے الفاظ میں پنہاں فلسفے کی سمجھ آ گئی تو اس دن عمران کو کسی سونامی مارچ اور میاں نوازشریف کو کسی لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ انقلاب خود چل کر ہمارے دروازے پر دستک دے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus