×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امن کی آشا۔۔بغل میں چھُری منہ میں رام رام
Dated: 12-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ڈی فیکٹو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ وہ اور ان کی پارٹی مانے یا نہ مانے ان کی پوزیشن اتنی متنازعہ ہو چکی ہے کہ پاکستان کی پوری تاریخ میں شاید کسی حکمران کی پوزیشن اتنی متنازعہ نہیں رہی ہو گی۔ توہین عدالت کیس میں ان کو سزا ہوئی۔ ان کو قانونی اور آئینی طور پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہے۔ اخلاقی اور اصولی طور پر جبکہ اکثر چوٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق ان کو اقتدار سے الگ ہو کر اپیل کرنی چاہیے تھی۔ چند مفاد پرست عناصر ان کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہی دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے ان کو اپنی ساکھ اور بہترین قومی مفاد میں اپیل پر فیصلہ آنے سے پہلے غیر ملکی دورے کرنے چاہئیں نہ ہی قومی اہمیت کے فیصلے کرنے چاہئیں۔ برطانیہ کا دورہ کسی بھی سربراہِ مملکت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتاہے گیلانی صاحب سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے، سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کے اقدامات تک دورہ موخر کر دیتے تو بہتر تھا۔ ان کی ملک میں موجودگی اس لیے بھی اہم تھی کہ بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ تو لوگوں نے برداشت کر لیا لیکن وہ جان لیوا لوڈشیڈنگ برداشت کرنے پر ہرگز تیار نہیں۔ اس لیے ہر شہر اور قصبے میں لوگ 12سے20گھنٹے کی بجلی کی بندش سے تنگ آ کر مظاہرے، احتجاج، مارپیٹ اور جلائو گھیرائو کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ گیس کی بندش نہلے پہ دہلا ہے۔ انرجی کرائسز کی وجہ سے صنعتیں اورکارخانے بند ہوئے جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے۔ ان بیروزگاروں کے اندر ان کو اس انجام تک پہنچانے والوں کے خلاف نفرت کی آگ جل رہی ہے۔ معاملات درست نہ ہوئے تو یہ آگ حکمرانوں کے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ایک طرف انرجی بحران کے باعث ملکی معیشت ڈوب رہی ہے تو دوسری طرف بھارت کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کی خسارے کی تجارت کو امن کی آشا کے پرچارک اور ان کے پاکستانی اور بھارتی سرکاروں کے پشیتیان 12ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کی انڈسٹری بند پڑی ہے بھارت کو برآمد کیا کریں گے؟ 12ارب ڈالر سالانہ گھاٹا معمولی نہیں۔ ایسی تجارت کے خبط کا کیا مطلب؟ یہ کس کے دبائو پرـ؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے سب کچھ کیا جا رہا ہے؟ امن کی آشا کا لاہو رمیں تین دن تماشا لگا رہا۔ دونوں طرف کے دانش کے دشمن دانشوروں نے تلخ یادیں بھلا کر نئے تعلقات کے آغاز پر زور دیا۔ اب لگتا ہے کہ یہ مشورے صرف پاکستان کو ہی دیئے جا رہے ہیں اپنے دانشوروں کی طرف سے بھی اور اس ملک کے دانشوروں کی طرف سے بھی جس نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم کیا اور نہ ہی پاکستان کو دکھ اور تکلیف میں مبتلا کرنے کا موقع ضائع ہونے دیا۔مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے مابین بہت بڑا ایشو ہے۔ پاکستان کے پانیوں پر قبضہ بھی اسی متنازع کے باعث ہی ہوا اور بھارت اس قبضے کو مضبوط تر بنا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کی موجودگی کے باوجود پاکستان اور بھارت دست و گریباں تو ہو سکتے ہیں گلے نہیں مل سکتے اگر کوئی ایسا چاہتا ہے ،ایسا سوچتا ہے اور ایسا کرنے کے لیے کوشاں ہے تو یقینا غیر فطری دوستی اور منافقت پر مبنی تعلقات ہوں گے۔ جن کی حیثیت ریت کی دیوار اور پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر ایک مسئلہ اور تنازع ہی نہیں کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے۔ کشمیر پاکستان کا مسلمہ حصہ اور ہر کشمیری پاکستانی ہے۔ وہ اپنی جانوں کے نذرانے پاکستان کے ساتھ الحق کے لیے دے رہے ہیں۔ کشمیر کی بیٹیوں کے سروں سے آنچل پاکستان زندہ باد کہنے پر نوچے جاتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کے سینے بھارتی سفاک فوجیوں کے ہاتھوں نعرہ تکبیر بلند کرنے پر چھلنی ہو رہے ہیں۔کسی بھی پاکستانی کو کشمیریوں کی لاشوں سے گزر کر بھارت کے ساتھ دوستی کا اختیار نہیں۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے غدار اور دشمن کا وفادار ہونے میں کسی زک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ اُدھر کی امن کی آشا کے پرچارکوں کا تو تنازعات گول کرکے پاکستان کے ساتھ دوستی ایک مقصد ہو سکتا ہے۔اِدھر والے کشمیریوں اور ان کی قربانیوں کو نظرانداز کرکے دوستی کے لیے کیوں مرے جاتے ہیں؟ محض ذاتی مفاد کے لیے؟امن کی آشا کے حوالے سے ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں جو پاکستانی شامل ہوئے جائزہ لیا جانا چاہیے کہ ان میں سے کتنوں کے آبائواجداد تقسیم کے موقع پر خون کی لکیر کراس کرتے ہوئے اپنی جانوں سے گزر گئے؟ شاید ایک بھی نہ ہو! بھارت کے ساتھ تجارت اور تعلقات کے خواہاں ماضی قریب کے بھارت کے پاکستان کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیں تو بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ وہی بنیا ہے جو بغل میں چُھری میں رام رام کرتا ہے۔ کل ہی بھارتی چینلز نے تین پاکستانی نوجوانوں کے ممبئی میں دہشتگردی کے لیے داخل ہونے کی خبر چلائی اور ان کی فوٹیج بھی جاری کر دیں وہ تینوں لاہور میں موجود اور اپنے اپنے کاروبار میں مصروف تھے۔ چند روز قبل بھارتی آرمی چیف وی کے سنگھ نے فوج کے پاس اسلحہ کی کمی کا رونا رویا اور کل وزیر دفاع اے کے انتھونی پاکستان اور چین کے تعلقات پر پریشان ہیں۔اور دفاعی بجٹ میں مزید 139ارب ڈالر کے اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ کے برابر ہے۔ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں پاکستان اور بھارت مشترکہ دشمن کے خلاف لڑیں گے وہ تو پاکستان اور چین کو مشترکہ دشمن قرار دیتا ہے۔ امن کی آشا مسئلہ کشمیر کے حل تک پوری نہیں ہو سکتی۔ ایسے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔عقل کے دشمن کیا ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ کیا بھارت نے جونا گڑھ ،حیدر آباد دکن اور بوٹان کی ریاستوں سمیت کشمیر پر قبضہ اس لیے کیا تھا۔ کیا بھارت نے پاکستان پر اب تک 6جنگیں مسلط کرکے پاکستان اور خود اپنی عوام کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا اور مقصد صرف یہ تھا کہ امن کی آشا کے فلسفے کو پروان چڑھایا جا سکتے ؟کیا بھارت جو ہمیں درس دیتا ہے کہ ایک مشترکہ دہشت گرددشمن کے خلاف کارروائی کریں کیا سرحد کے اِ س پار اور اُس پار کے دانشور یہ بتانا پسند کریں گے کہ جب پاکستان اور بھارت شیروشکر ہو کر دوست ہو جائیں تو پھر دہشت گرد کون اور دشمن کون۔ یقینا بھارتی بنیا کی نظر میں جو اب اسرائیل کا سب سے پیارا دوست ہے صرف پاکستان ہی نہیں پورا عالم اسلام اس کی نظر میں کھٹکتا ہے ۔اور پاکستان کے بعد اسرائیل ،بھارت اور امریکہ کا اگلا ہدف یقینا ایران ،سعودی عربیہ اور یا کوئی تیسرا مسلمان ملک ہوگا۔اس لیے ہمارے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے صرف اقتدار کی خاطر بیس کروڑ پاکستانیوں کو بھیڑیوں کے خول کے آگے پھینک دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus