×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا پیپلزپارٹی نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف پالیسی اختیار کی؟
Dated: 15-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شہید محترمہ بے نظیر بھٹو 2001ء کی ایک شام دبئی میں پارٹی رہنمائوں کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کی آمریت سے نجات کے حوالے سے گفتگو کر رہی تھیں۔ 2011ء میں بھی مشرف کے دل میں کالاباغ کی تعمیر کا ابال اٹھا تھا۔ میں نے محترمہ سے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے پارٹی پالیسی کے حوالے سے سوال کیا تو محترمہ نے کہا کہ ہم لوگ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے اتنے ہی حامی ہیں جتنے ملکی مفاد کے کسی بھی منصوبے کے۔ لیکن تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ اس منصوبے کی مخالفت کو کم از کم سطح پر لایا جائے۔ محترمہ نے مزید کہا تھا کہ ہم لوگ حکومت میں آئے تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ محترمہ بے نظیر بھٹوکو شہید کر دیا گیا تو ان کے خون کے صدق مارچ 2008ء میں پاکستان پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی۔ راجہ پرویز اشرف کو پانی و بجلی کا وزیر بنایا گیا۔ انہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے بلندوبانگ دعوے کیے اور ڈیڈ لائنیں دیں۔ مئی 2008ء میں انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر اس لیے ممکن نہیں ہے کہ اس پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ راجہ صاحب کا بیان پاکستان کو روشنیوں کا گہوارہ بناتا نہیں بلکہ اندھیروں میں دھکیلتا نظر آتا تھا۔ بعدازاں ایسا ہی ثابت ہوا۔ کالاباغ ڈیم تعمیر ہو چکا ہوتا تو آج بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا یہ عالم نہ ہوتا۔ عوام کو عدالتی فیصلوں سے تو شاید اتنا سروکار نہ ہو لیکن وہ بجلی کی 20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے تنگ آ کر سڑکوں پر حکمرانوں کا سیاپا کر رہے ہیں۔اس کا نتیجہ حکمران پارٹی کو آئندہ الیکشن میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے اتفاق رائے کی بات کی تھی۔ جس کے لیے حکومتی سطح پر کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے قول کے مطابق کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے اتفاق رائے ضروری پیدا کر لیتیں۔ سب سے زیادہ مخالفت صوبہ سرحد (کے پی کے) کی طرف سے ہوتی رہی ہے۔ ان کو صوبہ کے نام اپنی مرضی سے رکھنے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کالاباغ ڈیم کی حمایت پر اے این پی کو قائل کیا جا سکتا تھا۔ اے این پی تو کالاباغ ڈیم کی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ مخالفت کر رہی ہے۔ مجھے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے اس بیان نے ورطہ حیرت میں ڈال دیا انہوں نے اندرون سندھ اوباڑوں میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی حمایت میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالاباغ ڈیم ہرگز نہیں بننے دیں گے۔ نوازشریف نے للکارا تو 5کروڑ سندھی لاہور جائیں گے۔ مسلم لیگ ن وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ میاں نوازشریف نے جلسے جلوسوں اور ریلیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اوباڑو کی ریلی نوازشریف کے احتجاج اور مظاہروں کے جواب میں تھی جس میں قائم علی شاہ کے بقول دس لاکھ افراد شریک تھے۔ قائم علی شاہ صاحب 5کروڑ سے بھی زائد لوگوں کو لاہور لانے کا دعوی کریں تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ آج پاکستان میں تین بڑے ایشوز ہیں۔ وزیراعظم گیلانی کا استعفیٰ،نئے صوبوں کی تشکیل اور بجلی کا شدید بحران۔ کالاباغ ڈیم کا شوشہ قائم علی شاہ نے چھوڑ کر دراصل پیپلزپارٹی کو اس قدر شدید نقصان پہنچایا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ پیپلزپارٹی کا تو موقف ہے کہ کالاباغ ڈیم اتفاق رائے سے بننا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان کے بہترین مفاد کے منصوبے کی دو ٹوک الفاظ میں مخالفت کر دی۔ اس منصوبے کی ناگزیریت سے اگر کوئی انکاری ہے تو معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کس کی بھاشا بول رہا ہے؟ کیوں کہ اس منصوبے کی مخالفت کے لیے بھارت 6ارب روپے سالانہ انویسٹ کر رہا ہے۔ بھارت ہمارے حصے کا پانی استعمال کرکے چھوٹے بڑے کئی ڈیم بنا رہا ہے سندھ طاس منصوبے کے مطابق دریائے سندھ پر جو ملک پہلے ڈیم بنا لے دوسرا نہیں بنا سکتا اس لیے بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر تھی۔ دوسرے صوبوں کو پنجاب کے حوالے سے تحفظات ہیں وہ ہر قربانی پنجاب سے مانگتے ہیں۔ جس سے پنجاب نے کبھی گریز اور دریغ نہیں کیا۔ آج پیپلز پارٹی کی حکومت ہے تو اس نے صوبہ سرحد کا نام اپنے کولیشن پارٹنر کی مرضی اوران کے مطالبے پر پختونخوا رکھ دیا۔ ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں صرف مفاہمت کی وجہ سے شامل کر لیا۔ ان صوبوں کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔ وہ بھی تھوڑے سے ایثار کا مظاہرہ کریں۔ بجلی تو ان کو تھرمل پاور براجیکٹس سے مل جائے گی لیکن پانی کا علاج صرف ڈیم اور وہ بھی کالاباغ ڈیم ہے۔ کالاباغ ڈیم منصوبے کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ پنجاب میں واقع ہے۔ جس کی مخالفت بھی پنجاب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پنجاب نے ہمیشہ بڑے دل گردے کا ثبوت دیتے ہوئے دیگر صوبوں کے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔پنجاب کی مخالفت کے باعث بھی پیپلزپارٹی سب سے بڑے صوبے میں پہلے نمبر کی پارٹی کے بجائے دوسرے نمبر پر چلی گئی۔ اب قائم علی شاہ جیسے لوگ اسے پنجاب سے ’’دیس نکالا‘‘ دلانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ وزیراعظم گیلانی کی کاسہ لیسی ضرور کریں ،حساس ایشو کو چھیڑ کر پیپلزپارٹی کی پیٹھ میں چُھرا تو نہ گھونپیں۔ میری صدر آصف علی زرداری سے گزارش ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کی پالیسی واضح فرما دیں۔ کیاپارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی پالیسی سے الگ پالیسی اپناتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کا اسی طرح کا فیصلہ کر لیاہے جس طرح اے این پی اور مٹھی بھر قومیت پرست بھارتی مال و زر کے حصول کے بعد کر رہے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus