×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ڈی فیکٹووزیراعظم سے اوورسیز پاکستانی بھی مایوس
Dated: 19-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آ ج وطن عزیز اور اس کے مکین کونسا ایسا بحران اور مشکل ہے جس میں مبتلا نہیں ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ گیس اور بجلی کی شدید قلت محض حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔ جس کے باعث یہاں گھر تاریک اور گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں وہیں کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔ سفید پوش لوگوں کا بھرم قائم رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ غریب خودکشیوں اور اپنی اولاد کو بیچنے پر مجبور ہیں۔ بجلی و گیس کی انتہا کی لوڈشیڈنگ پر ہی بس نہیں ان کے بل ان کی عدم فراہمی کے باوجود پہلے سے دو تین گنا زیادہ آتے ہیں۔ بڑے کاروبار بھی ٹھپ ہیں ان کے مالکان کے پاس سرمایہ تھا وہ سرمائے سمیت بیرون ممالک منتقل ہو گئے۔ غریب کہاں جائے؟ خودکشی کرکے اگلے جہان یا پھر حکمرانوں کی طرح لوٹ مار کو پیشہ بنا لے، ایسا بھی ہر کوئی نہیں کر سکتا ۔لوگ پہلے بھی حالات سے تنگ تھے آج کچھ زیادہ ہی ہیں۔ جن کو روٹی نہیں ملتی اپنے بچوں کی تعلیم و صحت کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے وہ حلال رزق کے لیے ہر طرح کی جستجو کرتے ہیں۔ 2006ء میں ایک گیلپ سروے کیا گیا جس میں حالات سے تنگ 6فیصد پاکستانیوں نے روزگار کے لیے بیرون ملک جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ گذشتہ سال ان کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہو چکا تھا۔ ایسے پاکستانیوں کی تعداد بڑھ کر تیس فیصدہو چکی تھی جو حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہونے کے باعث ملک چھوڑنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ اسی گیلپ سروے میں 80فیصد پاکستانیوں نے حکومت کو کرپٹ قرار دیا۔ باقی 20فیصد وہ ہوں گے جو چوروں کے ساتھ مل کر چوریاں کرتے ہیں۔ جن کو حکومتی معاملات وزیراعظم گیلانی اور ان کے ساتھیوں کی طرح شفاف نظر آتے ہیں۔ آج صورت وہ ہو چکی ہے جو فرانس کے خونی انقلاب کی بنیاد بنی تھی۔ ملک کے بھوکے لوگ بادشاہ کے محل کے گرد جمع ہو کر نعرے لگارہے تھے ملکہ میری انٹونئے نے درباریوں سے اس شورشرابے کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا بھوکے لوگ روٹی نہ ملنے پر مظاہرہ کر رہے ہیں ملکہ نے کہا ان کو روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں۔ پھر بھوکے لوگ محل پر جھپٹ پڑے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اسی انقلاب میں بادشاہ، ملکہ ان کے خاندان اور حواریوں سمیت ہزاروں افراد کو پھانسی اور سر تن سے الگ کرنے کی سزا ملی تھی۔ وزیراعظم گیلانی ایک دو روز قبل برطانیہ کے دورے سے لوٹے ہیں ۔ دورے کے دوران سی این این کی خاتون اینکر پرسن بیکی اینڈرسن کو انٹرویو دیا ۔ اس نے سوال کیا کہ کرپشن سے تنگ آ کر دو تہائی لوگ پاکستانی چھوڑنا چاہتے ہیںاس پر وزیراعظم نے بڑی خودسری اور رعونت سے لبوں پر استہزائی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے جواب دیا۔پھر وہ چھوڑتے کیوں نہیں؟ان کو کس نے روکا ہے؟کیسا احمقانہ جواب تھا۔یہ وہ دو تہائی لوگ ہیں جو کوڑی کوڑی کومحتاج ہیں۔ان کے پاس وسائل ہوں تو ملک نہ چھوڑیں۔ وسائل پر حکمرانوں اور ان کی اولاد اور بیگمات کا قبضہ ہے۔ یہ لوگ تو روٹی روزی کی تلاش میں ملک سے باہر جانے کے خواہش مند ہیں۔ میں یورپ سے ہوتا ہوا آج کل کینیڈا میں مقیم ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تارکین وطن کی تعداد ڈیڑھ کروڑ ہے۔ یہ سالانہ 15ارب ڈالرز زرمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں۔ یہ اس امریکی امداد11ارب ڈالر سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے جو اب تک پاکستان کو ملی ہے جبکہ اوورسیز پاکستان 15ارب ڈالر ہر سال بھجواتے ہیں۔ آج پاکستان کی معیشت اگر سانس لے رہی ہے تو زراعت کے بعد تارکین وطن کی طرف سے بھجوائی جانے والی رقوم ہیں۔ وزیراعظم کے رعونت آمیز رویے پر ہر اوورسیز پاکستانی صدمے سے دوچار ہے۔ مجھے یورپ ،امریکہ، کینیڈا اور خلیجی ریاستوں سے سینکڑوں پاکستانیوں کے فون موصول ہوئے ہیں۔ وزیراعظم گیلانی کے اس بیان پر کہ یہ لوگ ملک چھوڑ کیوں نہیں جاتے پر سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گیلانی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اقتدار سے چمٹ کر ڈی فیکٹو وزیراعظم بن چکے ہیں اب وہ ہمارے اعتماد کے قابل بھی نہیں رہے۔ 18کروڑ پاکستانیوں کے سامنے شیر بن کر دھاڑنے والے وزیراعظم گیلانی نوجوان انگریز خاتون صحافی کے سامنے بھیگی بلی بنے بیٹھے تھے۔ اس خاتون نے 18کروڑ ملک کے لوگوں کو ڈس فنگشنل سوسائٹی قرار دیا تو اس کی وجہ گیلانی کی کرپٹ حکومت ہی تھی۔ایک موقع پر تو ہر بات میں چکر محسوس کرتے ہوئے بیکی اینڈرسن نے کہاکہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔انگریزی بولنے کے شوقین وزیراعظم اس روز بھی غلط اور لڑکھڑا کر انگریزی بولتے رہے۔ گیلانی آئینی وزیراعظم ہوتے ان کی پالیسیاں قومی مفاد میں ہوتیں اور عوام مطمئن ہوتے تو ان کو پیر پیر پر جھوٹ نہ بولنا پڑتا۔ سی این این کی اینکر پرسن بیکی اینڈرسن کو انٹرویو دیتے ہوئے ہمارے ڈی فیکٹو وزیراعظم نے انہیں وزیراعظم نہ ماننے والے اور کرپشن پر رونا پیٹنا اور واویلا کرنے والے پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑنے کا مژدہ سنایا۔ انٹرویو کے درمیان وزیراعظم کافی بوکھلائے بوکھلائے نظر آتے تھے ایسا لگ رہا تھاکہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں ان کی پیشی ہے جہاں پر انہیں سزا سنائی جا رہی ہے۔ یوسف رضا گیلانی اس انٹرویو کے بعد سیاسی اپاہج بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ آنے والی سیاسی تنہائی سے پریشان ہیں 5سال اور30سیکنڈ کی سزا کاٹنے کے بعد سید یوسف رضا گیلانی کو خبر ہے کہ قید آخر قید ہوتی ہے۔ پہلی بار جب انہیں احتساب عدالت راولپنڈی کی جانب سے سزا سنائی گئی تو اس وقت کمرۂ عدالت میں جہانگیر بدر، راجہ پرویز اشرف اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری جو احتساب عدالت پیشی پر آئے ہوئے تھے موجود تھے اور جج صاحب جب سزا سنانے لگے تو ہم سب یوسف رضا گیلانی سے اظہار یکجہتی کے لیے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور صدر مملکت نے ان کا دایاں بازو اور ’’راقم‘‘ نے ان کا بایاں ہاتھ اٹھا کر اوپر گیا اور اس موقع پر صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے کہا کہ جناب جج صاحب جس شخص کو آپ سزا سنانے لگے ہیں کل یہ اس ملک کا سربراہ بنے گا مگر وہ شخص جب سربراہ بنا تو مجرم بھی ٹھہرا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اگر واقع ہی سیاست کرنی یا پھر سیاست سے کنارا کشی کا ارادہ کر لیا ہے وگرنہ وہ یوسف رضا گیلانی جیسے سزا یافتہ مجرم کی اس قدر پشت پناہی نہ کرتے۔وزیراعظم اور ان کے کرپٹ رفقاء یہ چاہتے ہیں کہ ان کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو اور وہ اپنی من مانیاں کرتے پھریں: ’’سُنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے‘‘ میں ایک بار پھر ان کو درخواست کروں گا کہ پیپلزپارٹی کو مکمل طور پر تباہ ہونے اور عوام میں غیر مقبول ہونے سے قبل استعفیٰ دے کر آئین، قانون اور انصاف کا بول بالا ہونے دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus