×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حقیقی جیالے اور شہادتوں کا سفر
Dated: 09-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کو پتہ ہے بے نظیر بھٹو کا قاتل مشرف ہے۔ کچھ روز قبل محترمہ بے نظیر بھٹو کے فرزند اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واشنگٹن میں سی این ین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مشرف کو اپنی والدہ کا قاتل سمجھتے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل محترمہ کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر پرویز مشرف کے ریڈوارنٹ جاری ہیں لیکن وہ جیل جانے سے بچے ہوئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل سے متعلق، تحقیقات سے متعلق جیالے مایوسی کی تاریکی میں بھٹک رہے ہیں۔ محترمہ کے شوہر نامدار اور صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اپنی اہلیہ محترمہ کے قتل اور ملزموں و مجرموں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سوال پر کہہ دیتے ہیں کہ جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے۔ دوسری طرف وزیرداخلہ رحمن ملک جن کو پارٹی کا ایک حلقہ محترمہ کے قتل میں ملوث سمجھتا ہے وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ قاتل گرفتار ہیں۔ پارٹی قیاد ت نے ان کا نام بتانے سے منع کر رکھا ہے۔ کچھ پارٹی رہنما یہ بھی کہتے ہیں کہ قاتل تو موقع پر مارے گئے تھے اب کس کو پکڑیں۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ محترمہ کے قتل کی شفاف تحقیقات کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پارٹی کی قیادت ہی ہے جو بلاسوچے سمجھے بیانات داغتی رہتی ہے۔ دوسری طرف پارٹی کے کچھ کرتا دھرتا کچھ چھپانے اور خود کو محفوظ بنانے کی خاطر بھی شہید محترمہ کے قتل کو ایک معمہ اور سربستہ راز بنائے رکھنے کے لیے سرگرداں ہیں۔وزیرداخلہ رحمن ملک دوسری ایف آئی آر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بالکل واضح کہا ہے کہ جو شخص پولیس کے اوپر بیٹھاہے اس کا نام بھی کیس میں آ رہا ہے وہ کیسے تحقیقات ہونے دے گا۔ اسے تو مستعفی ہو کر کیس کا سامنا کرنا چاہیے لیکن ملک صاحب سپریم کورٹ کے ان ریمارکس اور پارٹی کے اندر سے انگلیاں اٹھنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ اس سے کیا مطلب لیا جائے؟ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے ہر چیز واضح ہونے کے باوجود بھی ان کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ کیوں آخر کیوں؟ یہ سوال ہر جیالے کی زبان پر ہے۔ جیالوں کا کلچر رہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ، اپنی پارٹی کے ساتھ اور پارٹی لیڈر شپ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر سڑکوں پر نکلتے ہیں وہ اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔ قائدین کی خاطر پھانسی کے پھندے کو چومتے ہیں، کوڑے کھاتے اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل پر وہ کس کے خلاف سڑکوں پر آ کر ماتم کریں؟ ٹائر جلائیں اور خودسوزیاں کریں؟ مشرف کا نام تومحترمہ کے قاتل کے طور پر لیا جا رہا ہے یہ عقدہ پارٹی قیادت پر کب کھلا کہ مشرف بے نظیر بھٹو کا قاتل ہے؟ محترمہ نے تو اپنی زندگی میں ہرمارک سیگل کو ای میل کرکے مشرف کے مذموم عزائم سے آگاہ کر دیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری کا بھی کہنا کہ مشرف نے ان کی ماں کو قتل کی دھمکی دی تھی۔ ان کو مناسب سکیورٹی فراہم نہ کرنا بھی مشرف کے بدارادوں کو ظاہر کرتا ہے۔بلاول اپنی پارٹی کے قائدین سے پوچھیں کہ انہوں نے تمام تر اختیارات کے باوجود مشرف کو ایوانِ صدر سے شان و شوکت سے سلامی دے کر رخصت کیوں کیا اور فرار ہونے کی راہ میں رکاوٹ کیوں نہ ڈالی؟ پارٹی پر جب بھی مشکل وقت آیا قائدین یا تو غائب ہو گئے یا پیچھے رہے۔ جیالوں نے آگے بڑھ کر قربانیاں دیں ،ماریں کھائیں اور جانیں دیں۔ ہر جیالہ خود کو بھٹو کا وارث سمجھتا ہے لیکن اب معاملہ محترمہ کے قتل اور پارٹی قیاد ت کے مابین ہے۔ پارٹی قیادت کی طرف سے محترمہ کے قتل کیس میں دلچسپی نہ لینے پر جیالے پیچ و تاب کھا رہے ہیں لیکن کریں تو کیا کریں؟ کس کو وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟ مجھے وہ دن یاد ہے جب 20فروری 2008ء کو عام انتخابات کے دوسرے روز سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ملک مشتاق اعوان نے محترمہ کے قتل کے حوالے سے بڑی جذباتی تقریر کی۔ جس کا بُرا مناتے ہوئے کوچیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی وارث شہید بینظیر بھٹو تھیں ان کے وارث ہم ہیں۔اب بتایئے محترمہ کے قتل پر گردوغبار کے دبیز پردے ڈالنے پر جیالے کیا کریں؟ خاموش رہیں یا بھٹوز کے نام نہاد وارثوں سے ٹکرا کر شہید محترمہ کے قتل کی تحقیقات کو درست سمت دیتے ہوئے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے شانہ بشانہ ہو جائیں؟ کبھی جیالے یہ نعرے لگاتے تھے اور ان کے نعروں میں جو ولولہ ہوتا تھا اس عزم کے سامنے بڑے بڑے آمر اس سیلاب میں بہہ جاتے تھے۔ یعنی جیسے یہ نعرہ’’تیرے قاتل زندہ ہیں بھٹو ہم شرمندہ ہیں‘‘ ذوالفقار علی بھٹو شہید ، میر شاہ نواز بھٹو شہید، میر مرتضیٰ بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتل آج دندناتے پھر رہے ہیں اور حقیقی جیالے واقعی شرمندہ ہونے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ پھر جیالے ایک اور نعرہ لگاتے تھے جیسے’’ تم کتنے بھٹو ماروں گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘ جب کہ آج زمینی حقائق یہ ہیں کہ قاتلوں اور مارنے والوں نے چن چن کر سارے بھٹو مار دیئے ہیں۔ اب گھروں سے بھٹوز نکلنا بند ہو گئے ہیں جبکہ ہر گھر سے قاتل جھانک رہے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی 5جنوری کو سالگرہ، 4اپریل کو برسی، اسی طرح 21جون کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ اور 27دسمبر کو برسی کے مواقع سے تین چار ہفتے قبل پارٹی قائدین ان کے فکروفلسفے کو اجاگر اور محترمہ کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے پرجوش بیانات اور بلند و بانگ اعلانات کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے اقدامات سے آج پاکستان پیپلزپارٹی ایک سیاسی پارٹی سے زیادہ این جی او کا تاثر پیدا کر رہی ہے۔ عام جیالا پارٹی قیادت سے پارٹی بانیوں کے لیے اخلاص کی توقع رکھتا ہے ان کے خون کو اقتدار کی سیڑھی کے لیے استعمال ہوتا دیکھ کر کب تک خاموش تماشائی بنا رہے گا؟حکمران پارٹی نے اقتدار کے مزے بہت لوٹ لیے اب کچھ اس قائد کے خون کا حساب بھی بے باک کرنے کی کوشش کریں جس کے صدقے ان کو اقتدار ملا یہ نہ ہو کہ کل جیالے اپنی قیادت کو کہنے لگیں ’’ظالموں جواب دو، خون کا حساب دو۔‘‘میرا مشورہ ہے کہ پارٹی قیادت جیالوں کے ایسے مطالبات سے بچنے کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کو کٹہرے میں لائے۔ جن کے نام اب خفیہ نہیں رہے۔ میں شریک چیئرمین جناب صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کہتا ہوں کہ خدارا محتاط رہیے یہ جو غیر حقیقی جیالے اور اقتدار کے برساتی مینڈک آپ کے گرد جمع ہیں اور نعرے لگواتے پھرتے ہیں کہ ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘ یا پھر ’’اگلی باری پھر زرداری‘‘ یہ نہ ہو کہ یہ اقتدار زدہ اور اقتدار کے بھوکے بھٹو خاندان کی طرح آپ کا بھی یہی حال بنانے کی کوشش نہ کریں۔ آج جو بھٹوز کی وراثت جیالے آپ سے ناراض ہیں ان کو اپنی چھتری تلے لایئے یہ نہ ہو غرور، تکبر اور اقتدار کی دھوپ میں یہ سرمایہ بھی آپ سے چھن جائے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus