×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نیٹو سپلائی پر عسکری و سیاسی قیادت کا جرأت مندانہ مؤقف
Dated: 30-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہر ملک کا ہر شہری اپنے وطن کے مفاد کی بات کرتا ہے، جن کے کندھے پر ذمہ داری ہو وہ وطن کے مفادات کے لیے ہر اقدام بھی کرتے ہیں۔ اس معاملے میں امریکی کچھ زیادہ سرگرم ہیں۔ وہ اپنے مفاد کے لیے اپنے دوستوں کے حوالے سے اس بلی کا روپ بھی دھار لیتے ہیں جو زمین گرم ہونے پر اپنے بچوں کی کمر پر پائوں رکھ لیتی ہے۔ اس کے باوجود بھی کسی نہ کسی کی زبان سچ اگل دیتی ہے۔ ایسا ہی سچ پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کی زبان سے بھی نکل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ پاکستان میں آ کر قتل و غارت کرنا ہوگا۔ منٹر کا اشارہ ڈارون حملوں کی طرف تھا جن کو رکوانے کی کیمرون منٹر نے کوشش کی لیکن وہ امریکی طاقتور حکام کو قائل نہ کر سکے جس پر استعفیٰ دے دیا۔ آج کل وہ پاکستان میں الوداعی ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ ان کو ڈارون میں پاکستانیوں کے مارے جانے کا قلق ضرور ہے لیکن امریکی ہونے کے ناطے ان کو بھی اپنے ہی ملک کے مفادات عزیز ہیں۔ نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے وہ سر توڑ کوششیں کرنے والوں میں سرفہرست رہے۔ لالچ اور دھمکی دونوں حربے انہوں نے بھی آزمائے لیکن بہت سے بحرانوں میں گھِرا پاکستان اور اتحادیوں کی آکسیجن پر چلتی حکومت نے کم از کم نیٹو سپلائی کی بحالی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا۔ نیٹو سپلائی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت بالکل یکساں اور مضبوط موقف اپنائے، خارجہ امور اور مفادات کے حوالے سے پینٹاگون اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرح۔ کیمرون منٹر نے جاتے جاتے کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے پر امریکہ پاکستان سے معافی نہیں مانگے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واشنگٹن میں تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو تنہا چھوڑ دینا چاہیے۔ وہ اس لیے کہ نیٹو سپلائی کے معاملے میں پاکستان امریکہ کو مایوس کر رہا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے منٹر کی رائے ہے کہ پاکستان کو اپنا تاثر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کو تنہا چھوڑنے کی بات صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو افغانستان میں امریکہ کو درپیش مشکلات اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کی ضرورت سے آگاہ نہیں۔ پاکستان نے نیٹو کی زمینی سپلائی گذشتہ سال 26نومبر کو تقریباً سات ماہ قبل بند کی۔ امریکہ اب تک افغانستان میں سرنڈر کر چکا ہوتا اگر پاکستان فضائی سپلائی سمیت جنگ میں امریکہ سے ہر قسم کا تعاون واپس لے لیتا۔ امریکہ کا افغانستان میں موجود اور محفوظ رہنا پاکستان کے تعاون کے سوا ممکن ہی نہیں۔ منٹر پاکستان میں سکیورٹی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہیں جس کے باعث سرمایہ کار پاکستان آنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کا ذمہ دار بھی کوئی اور نہیں امریکہ ہے۔ جس کے ڈارون حملوں میں بے گناہ پاکستانی مارے جاتے ہیں، جس کے ردِّعمل میں خودکش بمبار سراپا انتقام بن جاتے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کی جنگ کا حصہ بن کر اپنی خودمختاری کو دائو پر لگایا،72ارب ڈالر کا نقصان کرایا۔ امریکہ کو تو پاکستان کا ممنون ہوتے ہوئے اس کے احسانات کا بدلہ احسان سے چکانا چاہیے تھا لیکن وہ نیٹو سپلائی کی بندش پر مخالفت اور مخاصمت پر اتر آیا۔ پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوشش کی، اسے دھمکیاں دیں، پاکستان کے دشمن بھارت کے ساتھ قربت کے اقدامات کیے۔ افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستان کی جگہ بھارت کو کردار دینے کے معاہدے کیے۔ بھارتی فوج سے افغان فوجیوں کی تربیت کا اہتمام کرایا۔ پاکستان کی امداد بند کی، پاکستان سے فرار ہونے والے شدت پسندوں کو افغانستان داخل ہونے دیا اور ان کو دوبارہ پاکستان میں داخل ہو کر دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے پر اکسایا اور مدد کی۔ سلالہ حملوں کے بعد یہ شدت پسند کئی بار پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر سکیورٹی اہلکاروں اور عام پاکستانیوں کا خون بہا چکے ہیں ایسے ہی لوگوں نے دو روز قبل اپردیر میں پاکستانی فوجیوں کو اغوا کرکے 17کو ذبح کر دیا۔ یہ انتہائی گھنائونا اور قابل مذمت فعل ہے ایسا کرنے والا،مسلمان کا گلا کاٹنے والا کیا مسلمان ہو سکتا ہے؟ امریکہ اگر ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے تو کیا پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات پہلے والی بہتر سطح پر آ سکتے ہیں؟ اتنا کچھ کرنے کے باوجود ایساف فوج کے کمانڈر جنرل ایلن نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کے دو اہم مطالبات تھے کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کرے اور نیٹو سپلائی فوری طور پر بحال کی جائے۔ ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکہ سلالہ حملے پر معافی نہیں مانگے گا، جنرل کا خوب اور دو ٹوک جواب تھا کہ معافی کے بغیر سپلائی کی بحالی ناممکن ہے۔ امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمن نے بھی یہ مطالبہ دہرایا ہے۔ معافی نہ مانگنا امریکہ کی انا کا مسئلہ ہے تو معافی کے بغیر نیٹو سپلائی کی بحالی پاکستان کے وقار ،خودمختاری اور انا کا معاملہ ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بذدلی، امریکہ کے سامنے جھکتے چلے جانے کے طعنے دیئے جاتے ہیں، اس میں کسی حد تک حقیقت بھی ہے۔ ڈارون حملے واقعی پاکستان کی خودمختاری کے اوپر حملے ہیں جو بوجوہ نہیں رک سکے۔ لیکن سیاسی و عسکری قیادت نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے جو مؤقف اپنایا ہے وہ قومی امنگوں کا ترجمان ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اپنی سفارشات میں نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے جو شرائط رکھی ہیں ان پر عمل درآمد یقینی ہونے پر ہی نیٹو سپلائی کی بحالی میں پیشرفت ہو سکتی ہے۔ امریکہ کو پاکستان کی شرائط کے سامنے سرنڈر کرنا ہی پڑے گا۔ وہ پاکستان سے لاتعلق ہو کر جنگ میں مکمل شکست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت پارلیمنٹ کی سفارشات کو تسلیم کرنے تک اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus