×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف میری نظر میں
Dated: 26-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پرویزمشرف نے 2002ء کے الیکشن سے قبل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تمام سیاسی پارٹیوں کی رجسٹریشن اور پارٹی سربراہ کی پاکستان میں موجودگی کو لازمی قرار دیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے یہ شرط پوری کرنے کے لیے پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے نام سے پارٹی کی رجسٹریشن کرائی۔ جس کے صدر مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف بنائے گئے۔ پیپلزپارٹی کی پارلیمنٹرین اور اس کے عہدیدارآج بھی موجود ہیں۔ راجہ پرویز اشرف 1988ء میں پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔ اس کے بعد سے ان کا سفر اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے جاری ہے۔ میری ان سے پہلی ملاقات نوے کی دہائی کے آخر میں اسلام آباد کلب میں جہانگیر بدر کے میرے اعزاز میں دیئے گئے ایک ڈنر میں ہوئی۔ اس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ میرے اور ان کے نظریات اور خیالات ایک جیسے تھے یوں ہماری گہری دوستی ہو گئی۔ مشرف کی آمریت سے کچھ عرصہ قبل مجھ پر اس لیے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے کہ میرے پاس سوئٹزرلینڈ میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اورصدرِ مملکت آصف علی زرداری کے خلاف کیسوں کا مختارنامہ یعنی Power of Atorny تھی۔ میں ان دنوں سوئس انسویسٹی گیشن ٹیم کے ساتھ اسلام آباد کے ہوٹل میں تھا کہ سیف الرحمن نے مجھے گرفتار کروا دیا۔ چند دن بعد اڈیالہ جیل بھیجا گیا تو میرا استقبال راجہ پرویز اشرف نے کیا جو کسی جھوٹے دہشتگردی کے مقدمے میں پکڑ کر جیل میں رکھے گئے تھے۔جیل تو جیل ہوتی لیکن یہ راجہ صاحب کے میرے ساتھ انتہائی اچھے سلوک بلکہ اسے خدمت قرار دوں تو غلط نہ ہوگا کے باعث میرے لیے جیل کی سختیاں آسان ہو گئیں۔راجہ صاحب کا میرے ساتھ حسن سلوک ایک تو میری ان سے دوستی دوسرے سینیٹر آصف علی زرداری کی میرا خیال رکھنے کی ہدایت کے باعث تھا۔جیل میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹواور سینیٹر آصف علی زرداری کی ہدایت پر میرا اتنا خیال رکھا اور مجھے احساس نہیں ہونے دیا کہ میں جیل میں ہوں۔راجہ صاحب روزانہ مجھے واک کرواتے اور ناشتے سے لے کرشام کے کھانے تک میری خواہش کا احترام کیا جاتا۔جیل کے اندر راجہ صاحب سے میری دوستی بڑھی۔ جمہوریت آمریت میں ڈھلی تو ہماری جیل سے گلوخلاصی تو ہو گئی لیکن آصف علی زرداری بدستور جیل میں اور محترمہ جلاوطن تھیں۔ اب ہمیں ایک آمر سے مقابلہ درپیش تھا۔ جمہوریت کو آمر کے جنگل اور آصف علی زرداری کو جیل سے چھڑانا اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو وطن واپس لانا تھا۔ میں جیل سے رہائی کے بعد سوئٹزرلینڈ واپس چلا گیا تو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے مجھے ہدایت کی کہ میں فرانس میں منعقد ہونے والی سوشلسٹ انٹرنیشنل کانفرنس کے دوران عالمی لیڈروں کو پاکستان کے حالات سے آگاہ کرنے کے لیے راجہ پرویز اشرف اور قاسم ضیاء کو ساتھ لے کرجائوں۔ میں نے ان دونوں کو ساتھ لیا، دونوں کی میں نے فرانس کے اس وقت کے وزیراعظم ، فلسطینی رہنما یاسرعرفات، آج کے عراقی وزیراعظم جلال تالبانی، اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز اور دیگر عالمی رہنمائوں سے ملاقات کرائی۔ جس میں ہم تینوں نے شہید محترمہ کی ہدایت کے مطابق پاکستان کا بہترین انداز میں مقدمہ پیش کیا۔ 2001ء میں ،میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو امریکہ کے دفاعی مرکز پینٹاگان ،سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور یو این او کے دفاتر لے گیا۔ یہ ہمارا جمہوریت کی بحالی کے لیے تیز رفتار سفر تھا۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے اس سفر میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ محترمہ کی ہدایت پر ہی میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم کو بھی انہی طاقت کے مراکز پر لے گیا۔ 2005ء میں محترمہ نے ایک بار پھر ہدایت کی کہ میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف کو بھی انہی اہم مقامات پر اہم شخصیات سے ملاقات کروائوں چنانچہ راجہ صاحب کی پینٹاگان میں امریکن آرمی چیف، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خارجہ امور کے حکام اور یو این کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سے ملاقات کرائی، ان شخصیات کو راجہ پرویز اشرف نے پیپلزپارٹی کے نکتہ نظر اور پاکستان میں جمہوریت کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کو اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا۔ ان ملاقاتوں کے بعد محترمہ نے ہمیں دبئی پہنچنے کی ہدایت کی، جہاں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے امریکہ اور یورپ میں پاکستان پیپلزپارٹی کا کامیابی سے کیس پیش کرنے پر ہمیں خراج تحسین پیش کیا۔ راجہ صاحب ایک انتھک ورکر اور پیپلزپارٹی کے Typical جیالے ہیں۔ ایک مرتبہ میں ان کو ملنے گوجر خان گیا تو انہوں نے کہا کہ گھر میں بیٹھ کر گپ شپ لگانے سے بہتر ہے کہ کچھ کام بھی کر لیں اور گپ شپ بھی ہوتی رہے گی۔ وہ مجھے اپنے حلقے میں لے گئے جہاں وہ حلقے کے عوام سے ملے انہوں نے اس دن دو جنازوں میں شرکت کی، دس گھروں میں جا کر تعزیت کی اور فرداً فرداً مسائل بھی پوچھے۔ اس کے بعد میری محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات ہوئی تو میں نے پرویز اشرف کی کارکردگی سے آگاہ کیا جس پر محترمہ نے ان کو شاباش دی اور کہا کہ راجہ صاحب مشکل وقت میں ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ دو تین بار وہ میرے حلقہ این اے 113ڈسکہ میں آ کر پارٹی کارکنوں سے خطاب کر چکے ہیں۔ میرے دوست احباب میری اور راجہ پرویز اشرف کی گہری دوستی سے آگاہ ہیں وہ جب بھی لاہور آئے میرے گھر پر ٹھہرتے رہے ہیں۔ ان کی کورننگ امیدوار کے طور پر نامزدگی پر مجھے پورا یقین تھا کہ اصل وزیراعظم کے امیدوار وہی ہیں۔ مخدوم شہاب الدین ایک منجھے ہوئے شریف سیاستدان ضرور ہیں لیکن وہ عدالتی معاملات میں انتہائی بلکہ غیر ضروری طور پر محتاط ہیں۔کوٹیناکیس میں محترمہ نے ان کو گواہی کے لیے کہا تو یوں سمجھیے کہ عبدالقادر شاہین ان کو کھینچ کر سوئٹزرلینڈ لے گئے اور ہم نے تقریباً ان کو باندھ کر عدالت کے روبرو پیش کیا۔ پیپلزپارٹی کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنا مخدوم صاحب کے بس کی بات نہیں تھی جبکہ ان سے راجہ پرویز اشرف نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بجلی کے حوالے سے کی گئی اپنی کمٹمنٹ پوری نہ کر سکے۔ وہ واقعی بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پرعزم تھے۔ لیکن بعض معاملات میں وہ مجبور بھی تھے۔ اب بطور وزیراعظم ان کے راستے میں کوئی مجبوری نہیں۔ مجھے ان کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ اگر ان کو کام کرنے دیا گیا تو یقینا وہ ملک کو بجلی کی نارواں لوڈشیڈنگ کی دلدل سے نکال لیں گے۔ زرداری صاحب نے یہ نہیں کیا بلاسوچے سمجھے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم کے لیے نامزد کر دیا۔اس کے پیچھے راہ پرویز اشرف کی جمہوریت کی بحالی اور پیپلزپارٹی کے لیے خدمات کی ایک لازوال داستان موجود ہے۔ وہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔ ان کو اندرونی معاملات پر تو دسترس ہے ہی وہ خارجہ پالیسی کو بھی بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کو جو چند ماہ کی وزارت عظمیٰ ملی ہے اس میں سرخرو کرے اور وہ ملک و قوم کو بحرانوں خصوطی طور پر انرجی کرائسز سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus