×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
راجہ صاحب ، کوئی ایسا کربہانہ کہ میری آس ٹوٹ جائے
Dated: 25-Jul-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو شاید سارا دن کوئی مصروفیت نہیں تھی کہ سرکاری خبررساں ایجنسی کو وزیراعظم ہائوس بلا کر اپنے خیالات ’’طشت ازبام‘‘ کرنے کو کہہ دیا۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’وہ مناسب وقت پر ملک کی سیاسی قیادت سے رابطہ کرکے اہم قومی معاملات پر ان کی رائے حاصل کریں گے۔ جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو تمام سیاسی قیادت ایک ہو گی۔ سیاستدان ملک میں مضبوط جمہوریت چاہتے ہیں۔ پاکستانی سیاستدانوں نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے اور سیاستدان ناممکن کو ممکن بنانا جانتے ہیں۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا قومی اہمیت کے کسی بھی معاملے پر سیاسی رہنمائوں سے مشاورت کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں ہچکچائیں گے۔‘‘نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد دفاع پاکستان کونسل سڑکوں پر ہے۔ عمران خان لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں۔ نوازشریف جلسے جلوس کرکے حکومت کی پالیسیوں کو زبردست طریقے سے ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ٹھنڈے سیکرٹریٹ سے نکل کر شدید دھوپ اور حبس میں خیمے لگا کر کام کر رہے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر بجلی اور گیس کی کمی پر ماتم کناں ہیں ۔ڈسکہ کے حلقہ این اے113 کے میرا احباب، دوستوں، ووٹروں،جیالوںنے جب سے رمضان شروع ہوا ہے مجھ سے شکایتوں کے انبار لگا دیئے ہیں۔لوگ کہتے ہیںپہلے تو بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی تھی مگر رمضان میں عوام حکومت سے یہ توقع نہیں رکھتے تھے۔جب سے رمضان شروع ہوا ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ تین گناہ بڑھ گئی ہے۔ڈسکہ اوراس کے مضافات میںبمشکل چار گھنٹے بجلی آتی ہے۔کاروبارزندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور سخت گرمی میں روزہ داروں کا جینا محال ہو گیا ہے۔جس کے لیے حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔وگرنہ آئندہ الیکشن میں یہ تمت بھی ساتھ لے کر جانا ہمیں مہنگا پڑے گا۔وزیراعظم کو کیا یہ تمام معاملات معمول کے مطابق نظر آ رہے ہیں؟ کیا سیاستدانوں سے اب بھی بات کرنے، ان سے رہنمائی لینے کا وقت نہیں آیا؟ وزیراعظم نے جو باتیں کیں ان کا حقائق کے ساتھ تعلق ڈھونڈنے کی بڑی کوشش کی۔ افسوس کہ ان کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں وہ بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں جس پر ان کے پیشرورواں تھے بلکہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ گیلانی نے بجلی کمی دور کرنے کی کبھی کوشش کی نہ وعدہ کیا۔ راجہ پرویز جب پانی و بجلی کے وزیر تھے تو انہوں نے متعدد بار بجلی کی کمی کے خاتمے کی ڈیڈ لائنز دیں پھر اپنے وزیراعظم کی تلقین پر ڈیڈ لائن دینے سے تائب ہوئے۔ اب وزیراعظم بنے تو چند روز قبل ایک بار پھر دعویٰ داغ دیا کہ رمضان المبارک میں سحری و افطاری کے دوران لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔ کسی بڑے شہر میں تو شاید یہ دعویٰ درست ثابت ہو گیا ہو۔ قصبوں اور دیہات میں حالت بد سے بدترین ہو چکے ہیں۔ رمضان سے قبل کے معمولات بکھیر کر رکھ دیئے گئے ہیں۔ آخر وزیراعظم کو ایسے دعوے اور وعدے کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ تو جان لیواں ہے ہی گیس کا پریشر بھی کئی علاقوں میں کم ہو گیا ہے۔ مہنگائی نے رمضان سے قبل ایک بار پھر عام آدمی پر ستم ڈھایا ہے۔ پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بھی ہوئی رمضان سے قبل بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رحجان جاری تھا لیکن پاکستان میں رمضان سے چند روز قبل اس میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔ جس نے مہنگائی کے طوفان میں مزید اضافہ کیا۔ وزیراعظم راجہ کو امید ہے کہ جمہوریت کو خطرہ ہوا تو تمام سیاسی قیادت متحد ہو گی۔ جمہوریت آخر خطرے میں ہو گی ہی کیوں؟ اگر ہو گی تو جن کے کرموں کی وجہ سے ہو گی وہ اس کو بھگتیں۔ سیاسی قیادت پہلے اپنے مفادات دیکھتی ہے پھر کچھ کرے گی۔ جیسا کہ ہمارے یاں ہوتا رہا ہے۔ حکومت اور اس کے اتحادی اپنے اپنے مفاد کی رسی کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔ بتایئے ان کے سامنے کونسا قومی مفاد ہے؟ ڈپٹی وزیراعظم نہ بنتا تو کونسا آسمان گر جانا تھا۔ سیاستدانوں نے ماضی سے کیا سبق سیکھا؟ آمریت گئی تو ایک اور آمریت کا سامنا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچا دیئے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے اس سے فوجی دور اچھا تھا۔ پورے ملک میں اچھی چھوڑیں گورنس بھی کہاں ہے؟ جمہوریت کو خطرہ ہوا تو سب اپنے لیے ’’مقام مخمور‘‘ ڈھونڈنے کی جستجو کریں گے۔ ماضی کی طرح ! سیاستدان اور بیوروکریٹس کارویہ رہا ہے کہ جنرل ضیاء الحق آیا تو خود بھی ہاتھ میں تسبیح پکڑ لی، سر پہ ٹوپی رکھ لی۔ اس کے سامنے نمازیں پڑھتے ہیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے وضو کا تکلف بھی نہ کیا۔ مشرف کی آمریت آئی تو ہاتھ میں شراب کی بوتل تھام کر ناچتے نظر آئے۔ حضور اپنے اتحادیوں کی بات نہ کریں۔2002ء میں آپ کی پارٹی کی ٹکٹ پر جینے والوں نے غداری کی اور وہ آج آپ کی صفوں میں موجود ہیں۔ کل جمہوریت کو خطرہ ہوا تو اتحادی تو کجا آپ کے ساتھ کابینہ میں بیٹھنے والے بھی آنے والے کی خصلت دیکھ کر اپنالائحہ عمل طے کریں گے کہ ہاتھ میں تسبیح اٹھانی ہے یا سر پر بوتل رکھ کے رقص کرنا ہے۔ ایک عوام ہی کسی بھی پارٹی کی قوت ہوتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی آمریت نے پھانسی لگایا تو قیادت عمومی طور پر بِک گئی تھی۔ پھانسی، کوڑے اور جیلیں کارکنوں نے کاٹی تھیں۔ آج کارکن کو ایسا نظرانداز کیا گیا کہ وہ دل برداشتہ ہے۔ اس کا ردعمل گیلانی کی نااہلیت پر ظاہر ہو گیا ۔ کوئی وزیر مشیر اور کارکن افسردہ نہیں تھا۔ وزیر مشیر پھر عہدوں پر آ گئے۔ گیلانی بیٹے کا الیکشن لڑنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ پوری حکومتی حمایت ،وسائل اور کسی بھی سیاسی پارٹی کی مخالفت کے بغیر بھی ایک آزاد امیدوار سے معمولی سے مارجن سے جیت ایسا معمہ نہیں جو سلجھ نہ سکے۔ اگر شوکت بوسن کو ایک بھی سیاسی پارٹی کی حمایت حاصل ہوتی تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ یوسف رضا گیلانی کو حاصل ہونے والے ووٹوں سے ان کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کو 24ہزار ووٹ کم ملے اور جیت کا مارجن صرف 4ہزار تھا۔ اگر گیلانی نے اپنے ہی حلقے کے لوگوں کو مطمئن کیا ہوتا تو ان کا بیٹا ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرتا۔ پورے ملک میں بھی پارٹی کی مقبولیت اسی طرح کی ہے۔ راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ جمہوریت کوخطرہ ہوا تو تمام سیاسی قیادت متحد ہو گی۔ اگر انہوں نے سیاسی قیادت کو مطمئن کیا ہے تو یقینا وہ متحد ہو گی لیکن جو سامنے نظر آتا ہے وہ تو یہی ہے کہ صرف اتحادی ہی مطمئن ہیں۔ ویسے بھی ضرورت عوام کو مطمئن کرنے کی ہے ۔ عوام تو سڑکوں پر نکل کر حکومت اور حکمرانوں کا سیاپا کرتے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری ،لاقانونیت، کرپشن، اقرباپروری، بجلی و گیس کی جان لیوا لوڈشیڈنگ ۔ کیا یہ سب عوام کے اشتعال کے لیے کافی نہیں۔ شہبازشریف سستا آٹا فراہم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ آٹا پکانے کے وسائل بھی تو ہونے چاہیں۔ وہ کون فراہم کرے گا؟ جمہوریت کو خطرے سے بچانا ہے تو عوام کو اپنے ساتھ کھڑا کرنا ہوگا۔ وہ اسی صورت ممکن ہے کہ عوام کے حقوق غضب کرنے والوں کے پیٹ سے نگلا ہوا پیسہ اگلوایا جائے۔راجہ صاحب عوام اب وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں اور بقول شاعر: تیرے وعدوں پر کہاں تک میرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ کہ میری آس ٹوٹ جائے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus