×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شدت پسندوں سے بر، بحر اور فضا سمیت کچھ بھی محفوظ نہیں
Dated: 19-Aug-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دہشت گردوں نے ایک بار پھر مسلح افواج کی حساس ترین تنصیبات کو نشانہ بنا ڈالا ۔طویل عرصے بعد کامرہ ایئر بیس کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ آٹھ نو دہشتگردوں نے ایئربیس کے ایک حصے پر حملہ کیا جس میں ایک جہاز کو جزوی نقصان پہنچا، حملہ آور پنڈ سلیمان مکھن کی جانب سے داخل ہوئے اور شب قدر کی رات دو بج کر دس منٹ پر ایئربیس پر حملہ کر دیا جس کے بعد پاک فوج کے کمانڈوز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جو دو گھنٹے تک جاری رہا۔ دہشتگرد آر پی جی سیون اور آٹومیٹک اسلحہ سے لیس تھے جبکہ انہوں نے خودکش جیکٹیں بھی پہن رکھی تھیں اور دستی بم بھی استعمال کیے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ بیس کمانڈر ایئرکموڈور محمد اعظم زخمی ہو گئے جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد طلب کی گئی۔ ایئر فورس ہیڈکوارٹر میں ایمرجنسی کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا، رینجرز اور ایف سی کی ٹیموں کو بھی کامرہ طلب کر لیا گیا جبکہ ایف آئی اے کی فرانزک ٹیم بھی کامرہ پہنچ گئی۔ پاک فوج کے کمانڈوز کے ساتھ جھڑپ میں 9دہشتگرد مارے گئے۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ کامرہ ایئربیس پر حملے کے بعد ملک کے تمام ایئربیسز کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔تمام بیسز پر سیکیورٹی سخت کرنے کا مطلب ہے کہ پہلے سیکیورٹی سخت نہیں تھی حالانکہ خفیہ ایجنسیوں نے خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا ہوا تھا۔ کیا کامرہ ایئر بیس کا واقعہ بھی سیکیورٹی لیپس کا شاخسانہ ہے؟ وزیر دفاع نوید قمر کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔دہشت گرد اپنے مقصد میں اس وقت کامیاب ہو گئے جب انہوں نے سیکیورٹی کا پہلا حصار توڑ دیا۔ پاک فضائیہ کے کمانڈوزیا سیکیورٹی والوں نے یقینا قومی املاک کو شدید نقصان سے بچا لیالیکن حساس ترین علاقوں میں دہشتگردوں کا اس طرح گھس جانا بھی مسلح افواج کی نیک نامی نہیں۔ گویا طالبان ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے لیکن اس کی ساکھ کی کوئی گارنٹی نہیں۔ یہ کارستانی طالبان کی آڑ میں پاکستان کے دشمنوں کی بھی ہو سکتی ہے۔جن کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور بلوچستان کی علیحدگی کی سازشوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے سمیت کئی مقاصد ہو سکتے ہیں۔جب شدت پسند سیکیورٹی کے مضبوط ترین حصار میں موجود حساس ترین مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں تو آدمی یا تھانے اور خفیہ ایجنسیوں کے دفاتر میں بیٹھے لوگ بھی کیسے محفوظ ہو سکتے ہیں؟ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دہشتگردوں کاہدف ’’ساب‘‘ طیارے تھے جو کہ فضائی جاسوسی اور نگرانی کے لیے پاکستانی فضائی استعمال کرتی ہے اور ان طیاروں کی موجودگی سے بھارت خائف ہے۔اور ایک ’’ساب‘‘ طیارہ تباہ ہونے سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ کہیں اس واردات کے پیچھے اسرائیل اور بھارت کا مشترکہ ہاتھ تو نہیں؟ دہشتگردی کسی صورت قابل قبول ہو سکتی ہے نہ دہشتگردوں کا وجود۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا دہشتگردوں کا خاتمہ بندوق سے ہو سکتا ہے؟بندوق آزما کے دیکھ لی۔ اس سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے ۔ کیوں نہ دہشتگردی کا سدباب کر لیا جائے۔ اس کے لیے بہترین طریقہ شدت پسندوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش ہے۔خلوص نیت سے یہ کوشش کی جائے تو دہشتگردی اور دہشتگردوں دنوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہماری افواج نے سوات میں آپریشن کیا تو پورا ملک خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے گونج رہا۔ ڈارون حملوں میں بے گناہ مارے جاتے ہیں تو اس کے ردعمل میں خودکش بمبار پاکستان میں امن و امان کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔اب شمالی وزیرستان میں آپریشن پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے تو پھر شدت پسندوں نے اسلحہ اٹھا لیا ہے۔اگر یہ آپریشن پاکستان کے مفاد میں ہے تو سو بار کرنا چاہیے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اس آپریشن کے لیے کیوں بے چین ہے؟ یہ آپریشن پاکستان کے بہترین مفاد میں تھا توپاک فوج کئی سال اس کے خلاف کیوں ڈٹی رہی؟امریکہ کی طرح ہمیں بھی اپنا مفاد عزیز رکھنا چاہیے۔ہم کیوں اپنے ہم وطنوں کو اپنی فوج کے خلاف اسلحہ اٹھانے پر مجبور کریںاور وہ بھی غیرملکیوں کی خوشنودی کے لیے؟آج بھی قوم 65ء کی طرح اپنی افواج کے ساتھ دل و جان سے محبت کرتی ہے۔فوج کو بھی قوم کی امنگوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے کسی بھی پاکستانی کے خون کی ایک بھی بوند بہے چہ جائیکہ خون کی ندیاں بہہ جائیں۔ویسے بھی ہر کارروائی کو طالبان یا شدت پسندوں کے کھاتے میں ڈال دینا بھی قرین انصاف نہیں۔پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کئی بیرونی قوتیں بھی سرگرم ہیں۔بلوچستان کی علیحدگی کی بھی سازش ہو رہی ہے جس کو فوج نے ہی ابھی تک ناکام بنایا ہوا ہے۔یہ بھی کہیں پاکستان دشمن قوتوں کی پلاننگ تو نہیںہے کہ ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیںکہ فوج کو وزیرستان اور افغانستان کے بارڈر پر انگیج کرکے بلوچستان میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے جائیں۔فوج کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے اس کے نتائج پر پوری گیرائی اور گہرائی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے خلاف بڑا مضبوط موقف اختیار کیا ہوا تھاجس میں اچانک لچک آ گئی۔ دو روز قبل امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا نے کہا تھا کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن سے مایوس ہو چکا ہے۔ اب اسے آپریشن کا یقین ہے۔آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یوم آزادی کی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتہا پسندوں کو ختم نہ کیا گیا توملک خانہ جنگی کی طرف بڑھے گا۔شمالی وزیرستان میں آپریشن کے امریکی مطالبے کوکیا پذیرائی ملی کہ پاکستان کی سرزمین ایک بار پھربارود کی بو میں لپٹی محسوس ہونے لگی۔نیٹوسپلائی کی بندش کے بعد یہ دہشتگردی کی بڑی واردات ہے اور وہ پاکستان کے حساس ترین مقام پر۔قبل ازیں اکتوبر 2009ء میں اسی کامرہ ایئربیس کی دہلیز پرواقع چوکی پر خودکش بمبار نے حملہ کرکے پاک فضائیہ کے دو سپوتوں سے سمیت 8شہریوں کی جان لے لی تھی۔مئی 2011کا واقعہ بھی ناقابل فراموش ہے جب دہشتگرد کراچی میں نیوی کے مہران ایئر بیس پر 17گھنٹے دندناتے رہے۔اس دوران تین قیمتی طیاروں کو نذر آتش کیا گیا۔اس کارروائی میں بھی کچھ مارے گئے اور کچھ فرار ہو گئے۔وہ کون تھے؟ کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ اس کا سال سوا سال بعد بھی کچھ پتہ نہیں چلا۔البتہ کچھ افسران کو غفلت پر علامتی سزائیں ضرور سنائی گئیں۔2009ء میں فوجی ہیڈکوارٹریعنی جی ایچ کیوکے اندر تک دہشتگرد گھس گئے تھے۔بائیس گھنٹے کی کارروائی کے دوران 22افراد مارے گئے تھے۔آئی ایس آئی کے دفاتراور کمانڈوز کی بیرکوںپر بھی کئی بار حملے ہو چکے ہیں گویا دہشتگردوں کی دسترس سے خشکی محفوظ ہے نہ پانی اور نہ فضا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus