×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جاگ راجہ جاگ، تیری پگڑی کو لگے نہ داغ
Dated: 25-Aug-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com راجہ پرویز اشرف میرے اچھے اور بُرے دونوں کا ساتھی رہا ہے۔ مجھے ان کے ساتھ جیل کی مصیبتیں مل کر جھیلنے اور یورپ اور امریکہ کے دورے کرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ میں راجہ پرویز اشرف کے اندر چھپے اچھے انسان سے بخوبی واقف ہوں۔اسی حکومت میں وزارت بجلی و پانی کا چارج سنبھالنے سے قبل تک ان کی شہرت ایک کلین مین کی تھی۔ پھر نہ جانے ان کے سر پر چڑھ کر کیا جادو بولنے لگا کہ انہوں نے وزیر بنتے ہی کالاباغ ڈیم کی تعمیر یکسر منسوخ کرکے اپنی بدنامی کی پہلی اینٹ رکھ لی۔ اس کے بعد رینٹل پاور پلانٹس میں اربوں کی کرپشن کے سکینڈل سامنے آئے تو راجہ صاحب کا نام بھی ان میں تھا۔ آج گذشتہ دور کی نسبت کہیں زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔مجھے نظر یوں آتا ہے کہ گذشتہ انتخابات تو پروبھٹواور اینٹی بھٹو قوتوں کے درمیان ہوتے رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ پر ہوں گے۔ایسا ہوا تو پیپلزپارٹی خود تعین کر لے کہ اس کا مقام کیا ہوگا۔ قدرت اور تاریخ انسانوں کو ان کی غلطیاں سدھارنے کا کم کم موقع دیتی ہے۔ اپنی بڑی غلطیوں کے باعث نہ صرف شخصیات تاریخ کی تاریکی میں کم ہو جاتی ہیں بلکہ ان کی غلطیوں کا خمیازہ قوم کو بھی مسائل کی دلدل میں دھنسنے کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ایسی غلطی بلکہ بلنڈر میں راجہ پرویز اشرف کو ملوث سمجھا جاتا ہے۔ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب کے پاس وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعد وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کی کمی نہ تھی۔ اہلیت اور وفاداری کے حوالے سے بھی زرداری صاحب کے سامنے بڑے امیدوار تھے۔ راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم بنانے کی وجہ خود صدر صاحب نے بیان فرما دی کہ انہوں نے ہم سے ایک وزیراعظم چھینا توہم نے ان کو ایک جیالا دے دیا۔ راجہ پرویز اشرف بھی گیلانی کی طرح آصف علی زرداری کے اعتماد پر پورا اتر رہے ہیں۔وہ وزارت عظمیٰ کو پارٹی سے اپنی وفاداری ،قربانیوں اور زرداری و بھٹو خاندان سے جاں نثاری کا صلہ سمجھتے ہیں۔ احسان بندی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آپ احسان کرنے والوں کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ وزارت عظمیٰ ان کو یقینا ایک خاندان اور پارٹی سے وفاداری اور جان نثاری کے باعث ملی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پارٹی سلامت اور وزارت عظمٰی و حکومت قائم ہے تو جمہوریت کے باعث ہے۔ جمہوریت کا تحفظ آئین کرتا ہے اور آئین کی حیثیت ریاست کے بغیر کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ہرگز نہیں۔ راجہ پرویز اشرف صرف اپنی وفاداری پارٹی قیادت سے منسلک کیے ہوئے ہیں۔ آئین اور ریاست کی گیلانی صاحب نے پروا کی نہ راجہ صاحب کرتے دکھائی د یتے ہیں۔ اقتدار چند روزہ ہے بلکہ انسانی زندگی کی بھی گارنٹی نہیں۔ گیلانی تاریخ کا حصہ بن گئے راجہ کو بھی بننا ہے۔ کل ان کو آئین و ریاست سے بے وفائی کا جواب دینا پڑا تو مجھے ان کا انجام بھی خوف ناک نظر آتا ہے اورماشاء اللہ جو کام 2008ء کے بعد سلطانیِ جمہور کے دور میں ہوئے ان کے باعث ان کی پشت پر مصیبت کے وقت کوئی پاکستانی تو کجا کوئی جیالا بھی نہیں ہوگا۔ راجہ پرویز اشرف نے عید الفطر پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے مجھے جو پگڑی پہنائی ہے اسے داغدار نہیں ہونے دوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت ہر مرض کی دوا ہے۔ یقینا جمہوریت ہر مرض کی دوا ہے لیکن جس جمہوریت کو آج فروغ دیا جا رہا ہے وہ خود ایک زہر قاتل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ عوام ایسی جمہوریت سے بیزار ہو چکی ہے۔ اربوں روپے کی اعلیٰ سطح پر کرپشن کو کیا جمہوریت کہتے ہیں۔ جو بھی اینٹ اٹھائیں نیچے سے کرپشن کی ہزار داستان برآمد ہوتی ہے۔ پورا ملک اور چاروں صوبے اس سے مبرہ نہیں ہیں۔لاقانونیت عروج پر کوئی حکومتی کل بھی سیدھی نہیں۔ مہنگائی ،بیروزگاری ،بجلی و گیس کی قلت، تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور سب سے بڑھ کر کرپشن کو فروغ اور کرپٹ لوگوں کو ڈھونڈڈھونڈ کر اعلیٰ مناصب پر تعینات کرنا۔ کیا ایسی جمہوریت کو ہر مرض کی دوا کہتے ہیں؟ تاریخ اور قدرت انسانوں کو اپنے بلنڈر سدھارنے کا کم کم موقع دیتی ہے جو راجہ پرویز اشرف کو وزارت عظمیٰ کے تاج کی صورت میں مل گیا ہے۔گو ان کو مختصر عرصہ کے لیے سلطانی ملی ہے تاہم وہ اس میں بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں ان کو جس مقصد کے لیے وزیراعظم بنایا گیا اس کا تقاضا ان کے سامنے ہے وہ اس مقصد سے ہٹیں گے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اس پگڑی کو داغ لگ جائے گا جو شہید بے نظیر ،زرداری اور بلاول نے پہنائی ہے۔ وہ اس پگڑی کو داغ سے بچاتے ہوئے اس کا شملہ مزید اونچا کر سکتے ہیں۔ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کرپشن کے خاتمے کی قسم کھا لیں تو بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ ایک دن میں ختم ہو سکتی ہے جو معیشت کی مضبوطی کا سبب بنے گی۔ نیٹو کو 44روپے تیل فراہم کیا جاتا ہے، پاکستانیوں کو 97روپے لیٹر کیوں؟ پاکستانیوں کو بھی غیر سمجھ کر وہی ریٹ لگا دیں تو ملک و قوم کے 75فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا گراف خود بخود نیچے آ جائے گا۔ وہ ایسا کر گزریں تو زرداری و بھٹوز کی پگڑی کو داغ لگے گا نہ ان کی اپنی پگڑی داغدار ہو گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus