×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہمارے حکمران دشمن کے ٹریپ میں
Dated: 04-Sep-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com غیر وابستہ ممالک کی تنظیم ’’نام‘‘Non Alliend Movement کا تہران میں کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والا اعلامیہ بڑا جرأ ت مندانہ ہے۔اس میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا ہے۔دوسری طرف شام میں غیر ملکی مداخلت کو مسترد کیا گیاہے۔یہ کانفرنس تین روزہ جاری رہنے کے بعد31اگست 2012ء کو اختتام پذیر ہوئی۔اس سے قبل ’’نام‘‘ کانفرنس جولائی 2009ء کے وسط میں مصر کے پُرفضا مقام شرم الشیخ میں ہوئی تھی۔31اگست2012ء کی کانفرنس میں صدر آصف علی زرداری اور تین سال قبل جولائی 2009ء کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ’’نام‘‘ کانفرنس میں شرکت کی تھی۔آج سیّد یوسف رضا گیلانی ماضی کا حصہ بلکہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ان کی زندگی میں شاید ایک مرتبہ وزیراعظم بننا لکھا تھا وہ بن گئے۔آئندہ کوئی معجزہ ہی ہے جو ان کو ایک بار پھر وزیراعظم بنا دے۔اب ان کو اپنی وزارتِ عظمیٰ کے حسیں دنوں کی یادوںپر اکتفا کرنا ہوگا اور عوام اِن کے اُن کارناموں اوراقدامات کے حوالے سے یاد رکھیں گے جن سے وہ مستفید یا متاثر ہوئے۔’’نام ‘‘ شرم الشیخ کانفرنس کی سربراہی مصر کے طاقتور حکمران صدر حسنی مبارک نے کی تھی۔حسنی مبارک کوامریکہ کی بھرپور حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔2009ء بھی ان کے عروج کا ایک سال تھا۔پھر دنیا نے دیکھا کہ فرعونِ مصراپنے تمام ترجاہ و جلال اور اختیارات کے مرکزسمیت ساتویں آسمان سے زمین کی پستیوں میں پہنچ گیا۔ آج وہ بھی تاریخ کا ایک حصہ بن گیا ہے۔نوے سال کی عمر کی طرف جاتا ہوا حسنی مبارک آج اپنے اعمال بد کے باعث جیل میں ہے۔ حسنی مبارک کی صدارت اور سربراہی میں ہونے والی ’’نام‘‘ کانفرنس کے موقع پر 16جولائی 2009ء کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اپنے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ سے ملاقات ہوئی۔جس میں خیر سگالی کے پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ایک دوسرے کے ساتھ دوستی بڑھانے، تجارت و تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ عہدوپیمان ہوئے۔میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی نے منموہن سنگھ کو بلوچستان میں ’’را‘‘کی مداخلت کے ثبوت پیش کرتے ہوئے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔منموہن سنگھ نے وعدہ کیا کہ وہ بھارت واپس جا کر ’’را‘‘ سے پوچھیں گے۔ منموہن سنگھ نے ’’را‘‘ سے پوچھا یا اس کو بلوچستان میں مزید فساد برپا کرنے کی ہدایت کی اس کے شواہد کبھی سامنے نہیں آئے۔تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان بدستورشورش کی آگ میں جل رہا ہے۔رحمن ملک اور عسکری قیادت بھی بلوچستان میں غیرملکی طاقتوں کے ملوث ہونے کا اعادہ کر چکے ہیں۔سابق وزیراعظم گیلانی نے تو برملا بھارت کو بلوچستان کی بدامنی میں ملوث قراردیا تھا۔بھارت نے پاکستان توڑا، سیاچن پر قبضہ کیا، مقبوضہ وادیٔ کشمیر پر جارحیت تو بھارت کے ساتھ دیرینہ اور سب سے بڑا تنازعہ ہے جس کے سبب جنوبی ایشیا کا امن برباد ہے اور اس کے اثرات عالمی امن پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔بھارت کی پاکستان میں دہشتگردی اور تخریب کاری میں ملوث کا اس سے بڑاثبوت کیا ہوگاکہ اس کی طرف سے پاکستان میں گھسائے گئے درجنوں دہشتگردپکڑے گئے جن میں کشمیر سنگھ، سرجیت سنگھ اور سربجیت سنگھ سمیت کئی کو پاکستانی عدالتوں نے سزائے موت کا حکم سنایا۔ آپ کسی زاویے سے دیکھ لیں بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی مسلمہ اور اس کو جب بھی موقع ملا پاکستان کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کیا۔اسی پر آج ہمارے سیاستدان فریفتہ ہیں۔موجودہ حکمرانوں نے تو حد کر دی ہے۔اپنی بقا کے دشمن کے ساتھ دوستی، تعلقات اور تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔بھارت کا شمار ترقی یافتہ تو کیا ترقی پذیر ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔پسماندگی اس کے رگ رگ اور ریشے ریشے میں بسی ہے۔ اس کی بہت بڑی آبادی پانی اوربجلی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں بھی اسی ملک میں ہوتی ہیں۔ہندوستان میں 100کے قریب علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔بدامنی کی آگ میں جلتا بھارت پاکستان کو بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدکی پیشکش کرتا ہے۔جس کو ہمارے حکمران قبول کرتے ہوئے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔بھارت کی یہ پیش کش پاکستان کی اکانومی کو تباہ کرنے کے لیے پاکستان کو ٹریپ میں لانے کی سازش ہے۔خدا بہتر جانتا ہے کہ ہمارے حکمران بھارت کی پاکستان کو ٹریپ کرنے کی سازش کا شکار ہوئے ہیں یا قومی مفاد کا سودا کر چکے ہیں۔دوسری وجہ معقول نظر آتی ہے۔کیونکہ انہوں نے اپنا ٹریپ ریکارڈ ہی کچھ ایسا ظاہر کیا ہے ۔ہمارے حکمران ذوالفقا ر علی بھٹو کی وراثت کا دعویٰ تو کرتے ہیںلیکن عمل اس کے برعکس ہے۔شہید بھٹو نے تو کشمیر کی خاطر ہزار سال تک جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ان کے جانشین مسئلہ کشمیر کو نظرانداز،بھارت کو پسندیدہ قرار دے کر کشمیریوں کے زخموںپر نمک چھڑک رہے ہیں۔جس کا خمیازہ تو ذمہ داروں کو بھگتنا پڑے گا۔اپنا نام پاکستان کی تاریخ میں ناموروں کی فہرست میں درج کرانا ہے تو قومی غیرت اور حمیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دوسری صورت وہی ذلت و رسوائی اور جیل و سلاخیں مقدر ہوں گی،جس کا حسنی مبارک کو سامنا ہے۔آخر اس کی دولت کس کام آ سکی۔اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی اسے نہ بچا سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus