×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا قوم کو انقلاب پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جائے
Dated: 08-Sep-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج ہمیں گورنرز اور گورنمنٹ تو نظر آتی ہے، گورننس کہیں نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ملک ایک کھیت ہے جس کو ہر کوئی جو بااختیار ہے، اجاڑ رہا ہے۔ کونسا محکمہ، ادارہ اور شعبہ ہے جس میں آج کوئی دم خم موجود ہو۔ ریلوے اجڑا، پی آئی اے برباد ہوا، سٹیل مل بیٹھ گئی، واپڈا یا بجلی بنانے والا ادارہ 4سو ارب روپے کا مقروض ہے۔ سوائے انسانی خون کے ہر چیز مہنگی ہے۔ عوام شاید یہ لوٹ مار خاموشی سے برداشت کر جاتے لیکن ایسا اس لیے نہیں کر رہے کہ وہ قومی خزانے کی لوٹ مار سے خود متاثر ہوئے ہیں اور شدید متاثر ہوئے۔ بجلی ملتی ہے نہ گیس اور پانی۔ انڈسٹری تباہ ہو چکی جس نے معیشت کی کمر بھی توڑ دی۔ بیروزگاری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ملک میں لاقانونیت بھی عروج پر ہے۔ اس کے اسباب میں بیروزگاری میں ہر پل ہونے والا اضافہ بھی ایک سبب ہے۔ معیشت کو پانی کی کمی، جعلی ادویات اور مہنگی کھاد کے باوجود زراعت نے سہارا دیا ہوا ہے۔ آخر یہ شعبہ کہاں تک بطریق احسن اپنا کردار مخدوش حالات کے باوجود ادا کرتا رہے گا۔ ایوب خان نے سندھ طاس معائدے کے تحت پاکستان کے دریا بیچے آج قوم کو جن لوگوں سے پالا پڑا ہے وہ تو ملک کے ہر ادارے اور شعبے کو بیچنے کے درپے نظر آتے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف رینٹل پاور منصوبوں کی کرپشن میں ملوث ہیں تو ان کے پیشرو سیّد یوسف رضا گیلانی اور ان کے صاحبزادے بھی کرپشن کے الزامات سے بری نہیں ہیں۔ آج کی ایک خبر میں کہا گیا ہے گیلانی صاحب کو ایفیڈرین سکینڈل کیس میں شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ یہ وہی کیس ہے جس میں ان کے صاحبزادے موسیٰ گیلانی اور وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین کی ضمانتیں منسوخ ہوئیں اور وہ مفرور ہیں۔ یقینی بات ہے کہ وہ کسی بڑے کی پناہ میں ہی ہوں گے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تک راجہ کا راج ہے شاید موسیٰ اور شہاب الدین گرفتاری سے محفوظ رہیں اور گیلانی صاحب پر بھی ہاتھ نہ ڈالا جا سکے۔ کیس چونکہ اے این ایف کے پاس ہے اور تفتیش بھی وہی کر رہی ہے جس کو وزیراعظم گیلانی دھمکاتے رہے اس لیے امکان ہے کہ ایفیڈرین کیس درست سمت میں چلے گا اور ہر کسی کو اپنے کیے کا پھل کھانا پڑے گا۔مکافاتِ عمل سے ہر کسی کو گزرنا ہوگا۔ انصاف کاتقاضا ہے کہ آج ہی مجرم اپنے جرائم کا خمیازہ بھگتیں۔ تاہم انصاف کی کارفرمائی میں دیر تو ہو سکتی ،انصاف ہوگا ضرور جو نظر بھی آئے گا۔ ملک آج جن بحرانوں سے گزر رہا ہے ایسے بحران ماضی میں کبھی دیکھے تھے نہ سنے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جہاں آدمی پریشان ہے وہیں دنیا میں پاکستان کی بدنامی بھی ہو رہی ہے۔آج ہی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں پاکستان کرپشن میں مزید بدنام ہوا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے عالمی مسابقتی رپورٹ 2012-13 ء کے مطابق کرپشن اور ناقص طرز حکمرانی جیسے مسائل کی وجہ سے پاکستانی معیشت سست روی کا شکار ہے۔کرپشن اور بدانتظامی نے معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان مسابقتی میدان میں 6 درجے تنزلی کے ساتھ 144 ممالک کی فہرست میں 124 ویں نمبر پر آ گیا ہے اس سے قبل پاکستان 118 ویں درجے پر تھا۔ پاکستانی تاجر برادری کے مطابق ملک میں تجارت کرنے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے جبکہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تحفظ ، دانشمندانہ حقوق کے حوالے سے حکومت موثر قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فیصلہ سازی میں اقرباپروری کے باعث سے پاکستان ناقص طرز حکمرانی کا شکار رہا جس میں پاکستان کا درجہ 129 ویں نمبر پر ، حکومتی اخراجات کو ضائع کرنے کے حوالے سے 96 ویں نمبر پر چلا گیا۔ اس طرح پاکستانی معیشت 18 ویں نمبر سے تنزل کے ساتھ 97 ویں نمبر پر چلا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ سارا سال دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل ملکی معیشت کے لئے خطرہ بنے رہے۔ بیڈ گورننس کو آئینی اور قانونی طور پر عدلیہ گڈ گورننس کی طرف لا سکتی ہے۔ آج کی آزاد عدلیہ یہ کردار بخوبی انجام دے رہی ہے لیکن اس کو حکمران بے بس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہیں۔ سپریم کورٹ اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہے کہ توہین عدالت ثابت ہونے پر وزیراعظم گیلانی کو نااہل قرار دے دیا۔ کرپشن کیسز کی میرٹ اور ترجیحی بنیاد پر سماعت ہو رہی ہے۔ اب مزید کردار عوام کو ادا کرنا ہے۔ آج کے حالات انقلاب کے متقاضی ہیں۔ تیونس، الجزائر، مصر میں عوامی انقلاب برپا ہوا۔ بحرین او رشام میں بھی انقلاب کے لیے تحریکیں جاری ہیں۔ جو کامیابی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انقلاب کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا پاکستانی شدید تر مشکلات میں گِھرے ،بحرانوں کے طوفان میں پھنسے اور لاقانونیت کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ انقلاب کے لوازمات پورے ہو چکے ہیں۔ پاکستانی ان مسائل و مشکلات کو جھیلتے ہیں پھر طیش میں آتے ہیں گھروں سے نکلتے ہیں اِدھر اُدھر گھومتے نعرے لگاتے ،ٹائر جلاتے، اور شام ڈھلے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔ اگلے دن دو گھنٹے روٹین سے زیادہ بجلی آ جائے تو ایک روز پہلے کے مصائب بھول جاتے ہیں۔اس لیے حکومت ان کے احتجاج کو سنجیدہ نہیں لیتی ۔ آج انقلاب کی یقینا ضرورت ہے جو عوام کو پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملے گا۔اس کے لیے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ اپنے لیے نہ سہی قائد کے پاکستان کی حفاظت، اس کی ترقی و خوشحالی اور اپنی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے انقلاب کی ضرورت ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus