×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نائن الیون، عالمی میڈیا ، پاکستان اور پاکستانیوں کے مسائل
Dated: 11-Sep-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج کا میڈیا کسی بھی گذشتہ دور کے مقابلے میں زیادہ آزاد، فعال اور بے باک ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر بھی میڈیا مخصوص مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں تو ایسا ہونا ایک معمول ہے۔ چند ایک گروپوں کے سوا اکثر میڈیا گروپ کسی نہ کسی کے مقاصد کو پروان چڑھاتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایسے بھی ہیں جو پاکستان کے بدترین دشمن کے کلچر اور مذہب تک کو پاکستان میں فروغ دینے میں پیش پیش ہیں۔ میڈیا سے رہنمائی لینے والے یا اس سے استفادہ کرنے والے لوگ عموماً کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔ اس تحقیقات کے عروج کو چھونے والے دور میں بھی بعض معاملات گڈمڈ اور الجھے الجھے ہیں۔ 2مئی 2011ء کو امریکنوں نے اسامہ بن لادن کو آپریشن کے دوران مار ڈالا۔ اس حوالے سے بہت کچھ غیر واضح ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اسامہ تو کئی سال قبل مارا جا چکا تھا۔ اسامہ کی نعش کو مبینہ طور پر سمندر برد کرنے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیاہے۔ سمندر برد کرنے کے اقدامات کو ہی اس جواز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کہ اسامہ بن لادن 2مئی 2011ء کے امریکی آپریشن سے قبل مارا جا چکا تھا۔ اس سٹوری سے متعلقہ دیگر بہت سے معاملات بھی معمہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا ایک حلقہ دعویٰ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان کو اسامہ کی موجودگی اور اس کے ٹھکانے کا علم تھا۔ دوسرے حلقے کا دعویٰ ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو علم تھا۔ تیسرے کی تحقیق کے مطابق کسی نہ کسی کو اسامہ کی پاکستان موجودگی کا علم ضرور تھا۔ امریکی انتظامیہ میں ایسی رائے بھی پائی جاتی ہے جس کے مطابق اسامہ کی پاکستان میں موجودگی اور اس کی کارروائیوں سے پاکستانی حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیاں لاعلم تھیں۔ مذکورہ آراء امریکی میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں حالانکہ ان میں سے صرف ایک ہی درست ہو سکتی ہے۔ مختلف اور متضاد آراء سے ایک کنفیوژن اور الجھائو پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح دنیا آج تک اس حتمی فیصلے پر بھی نہیں پہنچ سکی کہ آج سے گیارہ سال قبل وقوع پذیر ہونے والے نائن الیون کے واقعہ کا ذمہ دار کون ہے۔ صدر بش نے اس واقعہ کے رونما ہوتے ہی اس کا الزام القاعدہ پر لگایا اور اسامہ بن لادن کی افغانستان سے حوالگی کا مطالبہ کر دیا۔ مغربی میڈیا نے بھی اس کو خوب اچھالا۔ حتیٰ کہ بات افغانستان پر چڑھائی تک جا پہنچی۔جنگوں کے فیصلے تو لمحوں میں ہو جاتے ہیں ان پر عملدرآمد دنوں میں نہیں ہوتا۔ ستمبر میں نائن الیون کا واقعہ ہوا اکتوبر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کو باور کرا دیا گیا کہ نائن الیون کے حملے میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ساتھی ملوث تھے۔ افغانستان کو نشانہ اس لیے بنایا گیا کہ اسامہ افغانستان میں موجود تھے اور افغان حکومت ان کو امریکہ کے حوالے کرنے پر تیار نہیں تھی۔ حالانکہ اس وقت کی افغان حکومت نے پیشکش کی تھی کہ وہ اسامہ کو کسی غیر جانبدارملک کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔ امریکہ نے اس کی نوبت ہی نہ آنے دی۔ ادھر نائن الیون کا وقوعہ ہوا ادھر اسامہ بن لادن کی حوالگی کے مطالبے میں شدت آئی، افغان حکومت کے ایسا کرنے سے گریز پر افغان دھرتی کو آہن و بارود کی برسات سے تہہ و بالا کر دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقائق سامنے آنے لگے۔ یہ بھی کہا گیا کہ کاٹون ٹاورز پر حملہ خود ان قوتوں نے کرایا تھا جو عرصہ سے اسامہ بن لادن کی بغاوت پر ادھارکھائے بیٹھی تھیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ افغانستان پر حملے کے جواز اور اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے کیا گیا۔ویڈیوز میں جس طرح دو جہازوں کے ٹکرانے سے ایک ہیوج بلڈنگ ملبے کا ڈھیر بنتے دکھائی گئی اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دو جہازوں کے ٹکرانے سے اتنی بڑی بلڈنگ خاک نہیں ہو سکتی۔یہ شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ اس روز 11ستمبر 2001ء کو اس عمارت میں کام کرنے والے تمام یہودیوں نے چھٹی کی تھی۔ ان کو اسامہ نے بتایا، امریکی منصوبہ سازوں نے آگاہ کیا ، یا یہ مکمل پلاننگ ہی یہودیوں کی تھی؟؟؟ اس سب کو بھی میڈیا نے کنفیوژ کیا ہوا ہے۔ نائن الیون کے اصل حقائق کیا کبھی دنیا کے سامنے آئیں گے؟ شاید ایک ڈیڑھ صدی بعد حقائق کھل کر سامنے آ جائیں ۔حالات و واقعات آج بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ لیکن میڈیا نے ان کو الجھا رکھا ہے۔ ایسے میں حقیقت کا تعین مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اس حقیقت سے تو سب متفق ہیں کہ نائن الیون کا سانحہ وقوع پذیر ہوا۔ اس میں تین ہزار یا کم و بیش انسان لقمہ اجل بن گئے۔ یہ سانحہ رونما کیوں ہوا؟ اس کی حقیقت گڈمڈ ہو چکی ہے یا کر دی گئی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکہ افغانستان پر قبضہ کرکے اس خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتا تھا جہاں روس کے بعد چین کی بالادستی حقیقت کا روپ دھا رہی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مغربی طاقتیں اسلامی ممالک کو ایک ایک کرکے تاراج کرنا چاہتی تھیں اور ابتدا افغانستان سے کی گئی پھر عراق کو نشانہ بنایا گیا۔ بش نے افغانستان پر یلغار کرنے سے قبل اس جنگ کو صلیبی جنگ بھی قرار دیا تھا۔ صلیبی جنگیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہی لڑکی گئی تھیں۔ البتہ بش نے مسلم ممالک کے احتجاج پر اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔ نائن الیون کے برپا ہونے کی کیا وجہ یا وجوہات تھیں اس پر بحث ہوتی رہے گی شاید صدیوں تک ہوتی رہے لیکن اس سانحہ کے باعث دنیا میں سب سے زیادہ نقصان مسلم ممالک کا ہوا۔ افغانستان کو تو سمجھئے کہ صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی۔پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا اور آج خود اس کو دنیا کی بڑی دہشتگردی کا سامنا ہے۔ایک طرف ہمیں دہشتگردی کی عالمی جنگ میں جلنا پڑ رہا ہے دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی پالیسیاں ایسی ہیں کہ عوام زندگی اور موت کے دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ملک و قوم ہر طرف سے بحرانوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ جمہوری دور میں انتہائی درجے کی کرپشن ہے جس کے باعث ہر طرف بدنظمی ہے، لاقانونیت ہے، مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ رشوت ستانی اور اقرباپروری ہے۔ آئین کا احترام ہے نہ عدالیہ کا، قانون کا اور نہ ہی انسانیت کا ۔سزایافتہ اور کرپٹ لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اعلیٰ عہدوں پر لگایا جاتا ہے۔ معمولی کرپشن پر سرکاری اہلکار برطرف اور گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ ایفیڈرین کیس میں مخدوم شہاب اور موسیٰ گیلانی کی ضمانت خارج ہو تو راہِ فرار اختیار کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پناہ لے لیتے ہیں۔امریکہ کا نائن الیون مسلم امہ کے لیے بربادی کا سامان بن کر گرا تھاتو آج کے حکمران تباہی کا سامان بن کر اپنے ہم وطن پر گر رہے ہیں۔ دیکھئے عوام کو اپنے مسائل سے کب نجات ملتی ہے اور عوام کے مصائب اور مسائل ان کے اپنے منتخب کردہ لوگ بنے ہوئے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus