×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
UP DATED بلوچوں کے نکات وتحفظات اور فوج کی وضاحت
Dated: 06-Oct-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بلوچستان توپہلے ہی بد امنی کی لپیٹ میں ہے اس پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل کے سپریم کورٹ میں پیش کردہ چھ نکات نے جلتی پر تیل کا کام کیاہے ۔ خود مینگل صاحب ان نکات کو مجیب الرحمن کے نکات جیسے قرار دیتے ہیں۔انہو ں نے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد اور ایک دن کے وقفے سے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے چھ نکات اور شیخ مجیب کے نکات کو الگ نہ سمجھا جائے اور اس کو ایشو نہ بنایا جائے۔ مجیب کے چھ نکات میں علیحدگی کا ایک بھی نقطہ شامل نہیں تھا۔ جب ان چھ نکات کو نہیں مانا گیا تو پھر حالات علیحدگی کی طرف چلے گئے۔ ‘‘مینگل یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’خون خرابے سے بہتر ہے کہ گلے مل کر الگ ہوجائیں ‘‘آگے چلنے سے پہلے ذرا مینگل اور مجیب کے چھ چھ نکات پر مختصراًنظر ڈال لیجئے کہ اِن کے اور اُن کے نکات میں کون سی مماثلت ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل کے نکات: -1 بلوچستان میں ہر طرح کا آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ -2 صوبے کے تمام لاپتہ افرادکو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ -3 بلوچستان میں ملنے والی مسخ شدہ لاشوں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ -4 نواب اکبر بگٹی اور حبیب جالب سمیت دیگر بلوچ رہنمائوں اور سیاسی کارکنوں کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ -5 آپریشن کے نتیجے میں بے گھر افراد کی آباد کاری کے انتظامات کئے جائیں۔ -6 بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔ مجیب الرحمن کے چھ نکات : -1 قرارداد لاہور کی روح کے مطابق آئین سازی کی جائے۔ -2 وفاق کے پاس صرف دفاع اور خارجہ امور کے محکمے ہوں‘ باقی معاملات اکائیوں کے سپرد کئے جائیں۔ -3 جداگانہ مالی پالیسی اختیار کی جائے اور مشرقی پاکستان کی کرنسی الگ ہو۔ -4 وفاق کو ٹیکس لگانے اور آمدن جمع کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ -5 مشرقی اور مغربی پاکستان کے تجارتی حسابات علیحدہ علیحدہ ہوں۔ -6 مشرقی پاکستان کو اپنے نیم فوجی دستے رکھنے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ اس سے قبل شا زین بگٹی اسی سال فروری کے شروع میں لاہور میں آٹھ نکات پیش کرچکے ہیں۔ ان کو بھی ایک نظر دیکھ لیجیے: -1 پرویز مشرف کو اکبر بگٹی قتل کیس میں انٹرپول کے ذریعے گرفتارکر کے بعد وطن واپس لایا جائے۔ -2 فوجی آپریشن کا فی الفور روکا جائے۔ -3 بلوچستان میں ایجنسیوں کا کردار مکمل طور پر بند کیا جائے۔ -4 لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کے گھروں میں آزادانہ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ -5 مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ -6 31جنوری کراچی واقعہ کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات کرایا جائے جس میں براہمداغ بگٹی کی ہمشیرہ اور بھانجی کو قتل کردیا گیا تھا۔ -7 بلوچستان میں چھائونیوں کی تعمیر روکی جائے۔ -8 ڈیرہ بگٹی نو گو ایریا بنا ہوا ہے ، اس کو سب کے لئے کھولا جائے۔ شیخ مجیب الرحمن اور اختر مینگل کے نکات کو آپ جتنی بھی گہرائی اور گیرائی میں پڑھنے کی کوشش کریں۔ ان میں مماثلت نہیں ڈھونڈ سکیں گے۔سوائے اس کے کہ یہ نکات پیش کرنے والوں کی نیت شاید ایک ہو۔مجیب کے نکات کو آج کے نہیں1970ء کے تناظرمیں دیکھیے تو ان کو قبول کرنا ممکن نہیں تھاان نکات پر عمل سے مغربی اور مشرقی پاکستان ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن میں بندھ جائے جس کا کوئی بھی حصہ کسی بھی وقت ختم کرکے آزادی کا اعلان کر دیتا۔بہرحال بہتر تھاکہ جنگ میں خرابے سے بچتے ہوئے مجیب کے چھ نکات مان لیے جاتے لیکن اس وقت شاید ایسا ممکن تھااور نہ کسی کو بھارت کی جارحیت کی توقع تھی۔ اختر مینگل اور شاہ زین بگٹی کے نکات تقریباً ایک جیسے ہیں۔ جس طرح ان کے نکات ایک جیسے ہیں اسی طرح ان کے بہت سے معاملات میں سوچ بھی ایک جیسی ہے۔دونوں کا موقف ہے کہ بلوچستان میںکوئی بیرونی مداخلت نہیں ہو رہی یہ رحمن ملک کے ذہن کی اختراع ہے۔اختر مینگل نے یہاں تک کہہ دیا کہ رحمن ملک کیا بیرونی ہاتھ کا ماموں ہے۔بلوچستان میں بدامنی،شورش اور علیحدگی کی تحریک کے باعث ہی بیرونی مداخلت کی بات کی جاتی ہے۔خود بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے جولائی 2009ء میں شرم الشیخ میں وزیراعظم گیلانی سے وعدہ کیا تھاکہ وہ ’’را‘‘ کو بلوچستان میں مداخلت سے روکیں گے۔اگر بلوچستان میں بیرونی ہاتھ کی کارفرمائی نہیں ہے تو علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور تخریب کاری کی تربیت کون دیتا ہے؟امریکی کانگریس میں بلوچستان کی علیحدگی کی قراردادیں کس کے ایما پر پیش ہوتی ہیں ۔فوج پر بلوچستان میں مداخلت کا الزام نہ صرف قوم پرست بلکہ میاں نواز جیسے قومی سطح کے لیڈر بھی لگا دیتے ہیں جس کی فوج کی طرف سے سپریم کورٹ میں وضاحت پیش کی گئی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ وہ نہ بلوچستان میں مداخلت کر رہی ہے نہ اس کے پاس کوئی گُم شدہ افراد ہیں۔گزشتہ روز جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال اکبر بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی مداخلت ختم نہ ہوئی تو خدا کی قسم ملک ٹوٹ جائے گا۔اُدھر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی نے کہا کہ آئین کے تحت ہر سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہیں۔فوج سیاسی حکومت کے احکامات کی پابند ہے اگر بلوچستان فوج کوئی اپریشن کررہی ہے تو اس کی ذمہ دار حکوت ہے اس میں فوج کو قصوروار نہیں تھہرایا جاسکتا۔سیاستدان حکومت پر دبائو ڈ الیں کہ وہ فوج کو واپس بلائے۔ کیا پولیس فوج کی جگہ لے کر معاملات درست کر لے گی؟۔ اختر مینگل کے نکات میں بظاہر ایک بھی ایسا نہیں جو پاکستان کی مزیدتقسیم پر منتج ہو سکتا ہے۔شاہ زین بگٹی اور اختر مینگل بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پربند کرنے کو کہہ رہے ہیں۔یہ یقینا بند ہونے چاہئیں۔لاپتہ افراد کو بھی بازیاب کرایا جاناچاہیے۔بے گھر افراد کی بحالی بھی یقینی بنائی جائے۔وہ کسی آپریشن میں بے گھر ہوئے ہوں یا کسی آفت اور مصیبت کے نتیجے میں۔بلوچستان میں سیاسی جماعتوں پر کام کرنے میں بظاہر کوئی پابندی نہیں البتہ مینگل کے نکات میں یہ بھی شامل ہے۔اگر کسی جماعت پر کوئی ایسی پابندی ہے تو وہ یقینا ختم ہونی چاہیے۔اختر مینگل کے نکات3اور4غور طلب ہیں۔ان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں ملنے والی مسخ شدہ لاشوں کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔نواب اکبر بگٹی اور حبیب جالب سمیت دیگر بلوچ رہنمائوں اور سیاسی کارکنوں کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ بلوچستان صرف ایک قومیت کا صوبہ نہیں ۔یہاں پٹھان، پنجابی اور سندھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔یہ بلوچستان کی ترقی میں اپنا بہترین کردار بھی اد اکر رہے ہیں۔بلوچستان کی لاکھوں ایکڑ اراضی کو آباد کرنے میں پنجابیوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔پھر دیگر صوبوں کے تعلیمی ماہر اور دیگر شعبوں میں ہنرمند بھی بلوچستان میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔بلوچستان میں بلوچ رہنمائوں اور کارکنوں کو قتل کرکے نعشوں کو مسخ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔اکبر بگٹی اور حبیب جالب کے قاتلوں کو بھی کٹہرے میں لا کر عبرت ناک سزاسے دوچار کرنا لازم ہے۔ا س کے ساتھ ساتھ 1400پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسروں، ڈاکٹروں ،جج اور وکلاء کے قاتل بھی انسانیت کے دشمن ہیں۔ان کی گرفت کا اخترمینگل مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟مجھے اختر مینگل کے نکات سے اتفاق ہے وہ شاید کسی تلخی میں ان کو مجیب کے نکات جیسا قرار دیتے ہیں جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔حکومت ان نکات پر غور کرے اس کے ساتھ ساتھ اختر مینگل بھی علیحدگی کی باتیں کرنے کے بجائے بلوچستان میں اخوت کی فضا پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔بلوچستان کی علیحدگی ممکن ہے نہ حالات ایسے ہیں۔بس تھوڑ ی سی مشکلات اور حکومتی بدعملی ہے جو درست ہو سکتی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus