×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا یہ ہمارے مسیحا ہیں؟
Dated: 09-Oct-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے عوامی سطح پر انقلاب تیونس میں آیا،مصر اور لیبیامیں آیا۔ایسی ہی کوششیں بحرین میں جاری ہیں۔شام میں تبدیلی چند دنوں کی بات ہے۔جہاں عوام نے سڑکوں پر نکل کر اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے سامنے سینہ سیر ہو کر قربانیوں کی ایک نئی داستان رقم کی ہے۔یہ لوگ اب تبدیلی کے بغیر گھروں کو لوٹنے کے لیے تیا رنہیں۔جب عزم ایسابلند اور ارادے اتنے پختہ ہوں تو یقیناکامیابی گردِ راہ بن جاتی ہے۔ پاکستان میں حالات دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں نہ صرف بُرے ہیں بلکہ بدترین ہیں۔اس کے باوجود تبدیلی کی امنگ،جستجو اور ارادہ نظر نہیں آتا جو ایسے مخدوش حالات میں ہونا چاہیے۔لوگ ناراضگی، غصے اور اشتعال میں اٹھتے ضرور ہیں ،گھروں سے باہر بھی نکلتے ہیں لیکن ان کے اشتعال اور غصے کی عمر پانی کے بلبلے جیسی ثابت ہوتی ہے۔آج ملک میں لاقانونیت ہی لاقانونیت ہے ہر طرف افرتفری اور انارکی پھیلی ہے۔حکومت کا کسی چیز پر کنٹرول نہیں۔مہنگائی پر، بے روزگاری پراور نہ ہی امن و امان کی صورت حال پر۔ہو بھی کیسے سکتا ہے اس طرف حکمرانوں کا نہ صرف دھیان نہیں بلکہ بعض معاملات میں خود بھی ذمہ دار ہیں۔ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے ضرورت کے مطابق توانائی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔آج انرجی کرائسز کی وجہ حکومتی سطح پر کرپشن ہے۔اڑھائی ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے لیے کھربوں روپے کے کرائے کے بجلی گھرمنگوائے گئے وہ ڈیڑھ سو میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ حکومتی دعوی ہے کہ نیشنل گرڈ میں ساڑھے تین ہزارمیگاواٹ بجلی شامل کر دی ہے۔وہ کہاں گئی ؟شاید گرڈ میں شامل ہو کر زیرزمین چلی گئی ہو۔گرائونڈ ری ایلیٹی یہ ہے کہ گذشتہ دور کی نسبت آج کئی گناہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔بعض اوقات لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑے شہروں میں بھی 20گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے۔آدھے دن کی لوڈشیڈنگ تو معمول ہے۔انرجی کرائسز کے باعث توغیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں کشش بالکل ختم ہو چکی ہے۔ بہت سے مقامی سرمایہ کار بھی اپنا بزنس دوسرے ممالک لے جا چکے ہیں اور باقی تیار بیٹھے ہیں۔بجلی کی قلت سے جہاں صنعتیں بند ہونے سے لاکھوں افرادروزگار سے محروم ہوئے ہیں وہیں چھوٹے موٹے کاروبار متاثر ہوئے اور کسان بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔نہری پانی انڈیا نے بند کر دیا ۔ادویات اور کھادیں جعلی اور مہنگی ہیں اوپر سے ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی ناکافی اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی کسانوں کی کمر توڑ دیتا ہے۔لاقانونیت، اقرباپروری، کرپشن اور رشوت کا بازار الگ سے گرم ہے۔حکومتی پالیسیوں سے اگر کوئی متاثر نہیں تو وہ مراعات یافتہ طبقہ ،کرپٹ حکومتی کارندے اور اہلکار ہیں۔باقی سب پریشان ہیں۔وہ بحرانوں میں مبتلا کرنے والوں سے نجات چاہتے ہیں۔ جب بجلی، پانی ا ور گیس دستیاب نہ ہو،مہنگائی و بے روزگاری کا عفریت دندناتا ہو،ملک میں لاقانونیت، رشوت، کرپشن ،لوٹ مار اور مہنگائی عروج پر ہو،تیل اور خوراک کی خریداری کی سکت نہ رہے تو لوگ بڑے غضب کے ساتھ نعروں سے باہر نکلتے ہیں لیکن کسی بھی چوک، چورنگی اور پارک کو تحریر اسکوائر بنانے سے قبل عدلیہ اور فوج کی طرف سے ایسا ردعمل سامنے آ جاتا ہے جس سے لگتا ہے کہ حکومت آج گئی یا کل۔غصے سے بھر ے لوگ فوج اور عدلیہ کو اپنا مسیحا سمجھ کر گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں کہ ہمارا کام تو یہ ادارے کر رہے ہیں۔ہم آرام سے بیٹھیں۔ کیری لوگر بل پر فوج نے شدید اعتراض اور احتجاج کیاتھا۔جمہوری حکومتوں پر ایسا اعتراض اور احتجاج کبھی نہیں ہوتا۔پھر میموکیس میں فوج جس طرح سے حکومت کے خلاف میڈیا میں آئی اور عدالت میں گئی اس سے بھی یہی نظر آتا تھاکہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔اور پھر عدلیہ کے فیصلے ،احکامات، ہدایات اور ریمارکس ملاحظہ فرمایئے۔این آر او فیصلہ جس کی پاداش میں گیلانی نااہل ہوئے لیکن حکومت برقرار رہی۔اس اٹارنی جنرل کو نکالا،اُس چیئرمین نیب کو برطرف کیا،فلاں سیکرٹری گیا ،فلاں عہدے دا رگیا،اِس کی سرزنش ،اُس کی سرزنش،یہ آخری مہلت وہ آخری مہلت،لوگ ان فیصلوں اور احکامات کو اپنے دل کی آواز سمجھتے رہے لیکن حکمرانوں کا بال تک بیکا نہ ہوا۔ایفیڈرین کیس میں ایک وزیر اور وزیراعظم کا بیٹاملوث پائے گئے اور اب خود گیلانی صاحب بھی اس کیس میں مطلوب ہیں ۔ایک وزیر کے اکائونٹ میں کوئی 6کروڑ روپے رکھ گیا جس کا موصوف کہتے ہیں ان کو علم نہیں لیکن اس پیسے کو اپنا سمجھتے ہیں ۔یہ سب بھی مقدموں کے باوجود محفوظ و مامون ہیں ۔ عوام کی تبدیلی کی خواہش اور ولولے کی راہ میں بڑے غیر محسوس انداز میں رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔عوام جن کو مسیحا سمجھتے تھے وہی ان کے مسائل اور مصائب کے ذمہ داروں کے محافظ بنے رہے اور حکمران بڑی دھوم دھام سے اپنی آئینی مدت پوری کرنے والے ہیں۔ حکمرانوں کو سب کچھ کرنے میں محفوظ راستہ دینے والے کیا ہمارے مسیحا ہوسکتے ہیں؟ محترم آسی صاحب یہ کالم میں نے خاص طور پر نوائے وقت کے قارئین کے لیے محنت سے تیار کیا ہے برائے کرم کوئی مناسب جگہ دے کر ممنون فرمائیں۔ہمیشہ سے آپ کے لیے دعاگو آپ کا مطلوب وڑائچ
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus