×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دوہری شہریت، دوہری شخصیت اور دوہرا معیار
Dated: 13-Oct-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میں عرصہ 28سال سے یورپ میں مقیم ہوں اور اس دوران دنیا بھر میں کئی ممالک میں جانے اور ٹھہرنے کے التفاقات ہوئے۔ خاص طور پر اُن ممالک میں جہاں پاکستانی کیمونٹی کی بڑی تعداد بستی ہے۔ ان سے گھل مل کر اور ان کی مشکلات اور ان کی ضروریات سے میں نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ ان کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں میری کاوشیں شامل ہوتی رہی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے 2000ء میں پارٹی کے یورپین یونین ونگ کا انچارج بنایا اور بعدازاں نواب زادہ نصراللہ خاں مرحوم نے بھی مجھے اے آر ڈی اوورسیز انٹرنیشنل افیئرز کا انچارج بنایا تھا۔ ان دونوں پلیٹ فارمز سے مجھے اوورسیز پاکستانیوں سے ملنے اور ان کے مسائل جاننے کا تجربہ ہوا۔ چند ہفتے پہلے جب میں بیرونِ ملک جانے کے لیے پاکستان سے روانہ ہوا تو دوہری شہریت اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ دینے کا ایشو موضوعِ سخن بنا ہوا تھا۔ تو میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ نوائے وقت کے معزز قارئین کے لیے ایک تحقیق سے بھرپور اور جامع سروے کرکے کالم لکھوں گا۔ کیونکہ جن کا مسئلہ ہے ان سے پوچھے بنا ہم یہ کیسے اخذ کر سکتے ہیں کہ کون کیا چاہتا ہے۔ میں اکثر ان تجزیہ نگاروں کو ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں بیٹھے دیکھتا ہوں جو لمبی لمبی بحث اور تجزیے کر رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کو اوورسیز پاکستانیوں سے ملنے کا شاید ہی اتفاق ہوا ہو اور ہمارے بے شمار سیاسی لیڈر اور زعماء نے آزادی کے 65 سال بعد بھی اپنے گلے سے غلامی کا طوق نہیں اتارا اور وہ ابھی تک ایک سبز ہلالی پاسپورٹ کے ہوتے ہوئے ابھی تک اپنے آپ کو کسی دوسرے ملک کے وائسرائے کے زیر تابع سمجھتے ہیں۔ اور قائدین کا یہ طبقہ ابھی تک پاکستان کو سامراج کی کالونی تصور کرتے ہیں۔ کیا دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں دوہری شخصیت کا شہریت کا حامل شخص اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو سکتا ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ امریکہ میں آپ کو امریکن شہریت لینے سے پہلے اپنی شہریت چھوڑنی پڑتی ہے۔ کیا انگلینڈ کے اندر آئندہ کبھی پانچ سو سال تک بھی کوئی پاکستانی ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے؟ پچھلے دنوں ایک سیاسی پارٹی کے رہنما نے خود اور ان کی پارٹی کافی سرگرم دکھائی دیئے اور ایسے مافوق الفطرت اعدادوشمار قوم کو بتائے جن کا حقائق سے دور تک بھی تعلق نہیں۔موصوف کے مطابق اوورسیز پاکستانی دوہری شہریت رکھنے والوں کی تعداد80لاکھ ہے۔ میں یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ دنیا بھر میں قانونی و غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد شاید ایک کروڑ کے قریب بھی ہو مگر ایک سروے کے مطابق گرین کارڈ ز یا پرماننٹ ریذیڈینٹ کارڈز ہولڈرز کی تعداد کچھ اس طرح سے ہے۔ متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ یعنی دوبئی، ابوظہبی ، مسقط، عمان، شارجہ، قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب، ایران اور لبنان میں اوورسیز پاکستانیوں کی کل تعداد ملا کر 35لاکھ بنتی ہے او ران ممالک کے مروجہ قوانین کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی ان ممالک کی شہریت حاصل نہیں کر سکتا۔ اس طرح ان ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کے پاس دوہری شہریت ہونے کا امکان نہیں۔ جبکہ سائوتھ ایشیا کے علاوہ دیگر ایشیائی ممالک ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان، تھائی لینڈ، ہانگ کانگ، سنگاپور میں ملا کر بھی ایک لاکھ سے بھی کم پاکستانی تارکین وطن موجود ہیں۔ ان ممالک میں بھی حالات کچھ مشرق وسطیٰ سے مختلف نہیں۔ اور ان ممالک میں دوہری شہریت والے پاکستانیوں کی تعداد ایک ہزار سے شاید زائد نہ ہو۔ اب آتے ہیں امریکہ اور یورپ کی طرف۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد15لاکھ کے قریب ہے۔ جن میں سے صرف دو لاکھ کے پاس برطانوی شہریت اور آٹھ لاکھ کے قریب مستقل رہائشی ویزوں پر پاکستانی رہ رہے ہیں۔ جبکہ باقی پانچ لاکھ میں سٹوڈنٹس ،غیر قانونی تارکین وطن پاکستانی شامل ہیں اور امریکہ میں تقریباً 12لاکھ پاکستانی آباد ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ڈیڑھ لاکھ کے قریب پاکستانی امریکی شہریت اختیار کر چکے ہیں اور آٹھ لاکھ کے پاس گرین کارڈ کی سہولت موجود ہے جبکہ بقیہ طالب علم اور غیرقانونی طور پر مقیم ہیں اور کینیڈا میں تقریبا چھ لاکھ پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ جن میں سے ڈیڑھ لاکھ کے پاس کینیڈین شہریت ہے۔ تین لاکھ کے پاس مستقل رہائشی کارڈز جبکہ بقیہ پچاس ہزار میں سے سٹوڈنٹس اور سیاسی پناہ گزین اور اتنی ہی تعداد میں غیر قانونی تارکینِ وطن موجود ہیں۔ جبکہ سینٹرل یورپ کے30ممالک جن میں جرمن، فرانس، اٹلی، ڈنمارک، ہالینڈ، بیلجیم، ناروے، سوئٹزرلینڈ، سپین، پرتگال، یونان اور ترکی میں تاہم ملا کر پانچ لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ جن میں سے تقریبا ایک لاکھ کے پاس وہاں کی شہریت اور بقیہ سیاسی پناہ گزین یا غیر قانونی تارکینِ وطن اور پرماننٹ کارڈ ہولڈرز شامل ہیں۔ آسٹریلیا، فجی، نیوزی لینڈ میں پاکستانیوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد نہیں۔ جن میں وہاں کی شہریت حاصل کرنے والے تقریباً10ہزار لوگ ہیں جبکہ وسطی ایشیا کی ریاستوں اور روس میں آباد پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے جن میں دوہری شہریت والوں کی تعدادآٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ان تمام اعدادوشمار اور حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں میں دوہری شہریت حاصل کرنے والے کی تعداد کسی بھی طرح پانچ لاکھ سے زائد نہیں ہے۔ ان دوہری شہریت حاصل کرنے والوں میں اکثریت سابقہ بیوروکریٹس، پی آئی اے، فارن سروسز سے ملحقہ ،سیاست دان او ران کی اولادیں اور بزنس مین، جاگیردار اور پاکستان لوٹنے والوں کی اکثریت شامل ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ہر آمر کی کابینہ اور کیئرٹیکر میں شامل ہوتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اقتدار کا ’’چسکہ‘‘ پڑ گیا ہے یہ لوگ عام حالات میں پاکستان میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن جب الیکشن یا حکومت میں تبدیلی کی بُو آتی ہے تو یہ پاکستان کی طرف منہ کر لیتے ہیں۔ جبکہ گرین کارڈز اور مستقل ویزوں کی بنیاد پر دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانی تارکین وطن نہ صرف پاکستان میں زرمبادلہ بھجواتے ہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی کفالت کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور حکومت پاکستان نے ان کی سہولیت کے لیے کافی عرصے سے ان کے لیے اوورسیزپاکستانی کارڈ متعارف کروایا ہے۔ ان لوگوں کو پاکستان میں الیکشن کے وقت ووٹ کاحق ہونا چاہیے ۔ ووٹ نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ ان کا سوفیصد مطالبہ بھی یہی ہے۔ دوہری شہریت اختیار کرنے والے سابقہ پاکستانیوں سے معذرت کے ساتھ التماس ہے کہ انہوں نے اپنی آسائشیں اور بہتر مستقبل کی خاطر جب پاکستانی شہریت سرنڈر کر چکے ہیں یا اپنا خاندان اور کاروبار بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں تو پھران کے دل میں پاکستانی اقتدار کے ایوانوں میں اور اسے بار بار آنے کا جو ’’مروڑ‘‘اٹھتا ہے اپنی اس خواہش پر دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی قابو پائیں کیونکہ دوہری شہریت سے دوہری شخصیت اور بے وفائی جنم لیتی ہے۔ پاکستان میں الیکشن لڑنا ہے تو پھر پاکستان کے گرم سرد موسم میں رہنا ہوگا ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ ،گیس، پانی، ادویات، اناج کا بحران اور دہشت گردی کا آسیب ہم وطن پاکستانیوں کے سنگ سہنا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus