×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اوورسیزکال 9گنا مہنگی۔پیپلزپارٹی کو بدنام کرنے کی سازش؟
Dated: 18-Oct-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میں نے حسب معمول 11ڈالرکا کارڈ خریدا لیکن ایک گھنٹے سے بھی قبل خلاف معمول پاکستان میں گفتگو کے دوران یاد دلایا گیا کہ ’’آپ کا بیلنس 15منٹ میںختم ہو جائے گا۔‘‘اس سے قبل 11ڈالر کے کارڈ میں 10گھنٹے بات ہوتی تھی۔یہ کارڈ میرے لیے ہفتہ بھر کو کافی ہوتا تھا۔میں نے کال ڈسکنکٹ کی اور ٹیلی کام شاپ پرچلا گیا۔میں نے دکاندار کو ماجرا سنایا تو اس نے کہا’’زرداری ٹیکس لگ گیا ہے۔‘‘مجھے نیا ٹیکس لگنے کا افسوس تو تھالیکن میری پارٹی کے قائد کا جس طریقے سے نام لیا گیا اس کا دُکھ ہوا۔میں نے دکاندار سے ناراضگی کا اظہار کیاتو اس نے سنجیدگی سے کہا سب لوگ یہی کہتے ہیں۔اس سے تھوڑی دیر بعد بیرون ممالک مقیم پاکستانیوںکی کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن اب یہ بالکل مختصر دورانیے کی تھیں۔کچھ لوگ مجھے اس طرح مخاطب کر رہے تھے جیسے یہ ریٹ میں نے بڑھائے ہیں۔وہ بھی سچے ہیں وہ ملک میں ہونے والی کرپشن ،بدنظمی،بدعملی،مہنگائی، بیروزگاری،لاقانونیت،بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ سمیت ہر بیماری کا ذمہ دار پیپلزپارٹی رہنما اور ورکر کو سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ وہی پارٹی ہے جس کی حکومت کے دوران مجھے میرے اپنے ہی وطن میں بچوں اور اہلیہ سمیت تحفظ بھی نہ مل سکا اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔جن لوگوں کی دھمکیوں کے باعث مجھے ملک چھوڑنا پڑاانہوں نے ہی ملالہ کا خونِ ناحق بہایااور وہ آج بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔خدا اس علم کی کرن اور امن کی سفیر کو جلد صحت یاب فرمائے۔میری کیلکولیشن کے مطابق اب کالز میں 900فیصد اضافہ کیا گیا۔ نئے لگائے گئے ٹیکس کے حوالے سے تفصیلات انٹرنیٹ پر نوائے میں دستیاب تھیں۔سینٹر جہانگیر بدرکے سینیٹ میں بیا ن کے مطابق اوورسیز ٹیلی فون کالز پر ٹیکس وزیراعظم کی منظوری کے بعد لگایا گیا ہے۔ حکومت کو اس مد میں 500 ملین ڈالر ماہانہ وصول ہونگے یہ رقم سالانہ 6 ارب ڈالر بنتی ہے جو ڈیڑھ ارب ڈالرکیری لوگر بل سے چار گُنازیادہ ہے۔خبر کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے ، ایل ڈی آئیز کے کارٹلز کو فائدہ پہنچانے کے لئے ٹیلی فون لیویز عائد کر رہی ہے کیبنٹ کے چند لوگ بھی اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔معزز حکومتی،ان کے اتحادی اور اپوزیشن سینٹرز رضا ربانی ، کامل علی آغا اور اسحاق ڈارکی رائے کے مطابق ٹیلی لیویز کی مد میں لگایا گیا یہ ٹیکس دراصل کارٹلز کو نوازنے کے لئے نافذ کیا گیا ہے۔ پی ٹی اے اس کی مرکزی کردار ہے، جہاں سے سمری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھیجی گئی پھر یہ کیبنٹ کو ارسال کی گئی ہے۔ پی ٹی اے اب کارٹلز کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔پہلے اوگرا نے بھتہ خوری شروع کر رکھی تھی اب پی ٹی اے نے بھتہ خوری کے نئے طریقے متعارف کروانا شروع کر دئیے ہیں۔ اس ٹیکس کے پس منظر میں بھی کرپشن اور دھاندلی کارفرما ہے۔ اس ٹیکس کے نفاذ سے بیرون ملک سے آنے والا 14 ارب ڈالرسالانہ کا زرمبادلہ متاثر ہو گا اس میں کمی ہو گی۔ پاکستان میں غیر قانونی طور پر چلنے والے گیٹ وے ٹریفکنگ کو اس سے اور معانت ملے گی اتصالات نے پی ٹی سی ایل کی مد میں جو رقم روک رکھی ہے اس کی وجہ بھی یہی غیر قانونی گیٹ وے ہیں۔ میری مصدقہ معلومات کے مطابق کابینہ کے جن چند لوگوں کے اس کاروبار سے وابستہ ہونے کی بات سینیٹ میں کی گئی ہے۔ ان میں ایک وزیرداخلہ رحمن ملک بھی ہیں۔رحمن ملک اور ان کے دیگر امیر پارٹنرزنے بیرونِ ممالک مقیم پاکستانیوں کو اپنی طرح کا سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رحمن ملک جیسے دوہری شہریت والے اور دولت سے نہال پاکستانیوں کی تعداد صرف 5فیصد ہے۔جو پاکستان میں لوٹ مار کرکے دوسرے ممالک میں دھن دولت لا کر عیاشی کرتے ہیں۔95فیصدروٹی روز گار کے لیے اپنے پیاروں سے دورجاتے ہیں۔5فیصد کو تو کوئی پروا نہیںوہ پاکستان میں کال کرکے فون بند کریں یا آن ہی چھوڑ دیں۔باقی 95فیصدبڑے محتاط طریقے سے زندگی گزارتے ہوئے بچت کرتے ہیں۔وہ اوورسیز سے کال میں 9گنا اضافہ برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔وہ پاکستان میں اپنے خاندانوں کو فون تو ضرور کریں گے لیکن پہلے کی طرح کھل کر نہیں۔اب وہ روزانہ بھی نہیں کبھی کبھی منٹ دو منٹ بات کر لیا کریں گے۔ان کا روزانہ بات کرنے کا معمول ختم ہو گیا۔اس سے ٹھیکیداروں کو تو خسارہ نہیں ہوگاملک کا نقصان ضرور ہو گا۔اور بدنامی پیپلزپارٹی کی حکومت کے حصے میں آئے گی اور اوپر سے عام انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔بیرون ممالک پاکستانیوں کی تعدادایک کروڑ کے قریب ہے ۔95فیصد کا تعلق متوسط طبقے سے ہے جو کال ریٹ میں اضافے سے براہ راست او ریکدم متاثر ہوئے ہیں۔ان پر ظلم تو یہ بھی ہوا کہ ان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔تاہم بیرونِ ممالک پاکستانیوں کی اہمیت سے تو ہر پاکستانی واقف ہے۔ یہ اپنے سات آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت کرتے ہیںاور دیگر رشتہ داروں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔اکثر کا پاکستان میں آمد کا بڑی بے چینی سے انتظار کیا جاتا ہے۔ان کی اہمیت گویا پیرومرشد جیسی ہوتی ہے۔آج وہ نئے کال ٹیکس کی وجہ سے بڑے دلبرداشتہ ہیں۔ایک مجھ سے ان کا دُکھ بھی نہیں دیکھا جاتااور دوسرے وہ حکمرانوں کے لیے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں وہ میرے لیے صدمے کا باعث بن جاتے ہیں۔ان کی نظر میں حکمران آصف علی زرداری ہیں۔یہ لوگ برملا اس جگا ٹیکس کو زرداری ٹیکس کہتے ہیں۔کیا یہ اپنے اہل و عیال ،خاندان ،عزیز و اقارب اور احباب کو تلقین کریں گے کہ ان کے درمیان رابطے مشکل اور مہنگے بنانے والوں کو ووٹ دیں؟ کبھی نہیں۔اس ایک ٹیکس نے ہی پیپلزپارٹی کی عام انتخابات میں ناکامی کی بنیاد رکھ دی ہے۔کالز ٹیکس میں نیا اضافہ، ہو سکتا ہے کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے وہم و گمان میں بھی نہ ہولیکن بدنامی ان کی ہو رہی ہے۔بُرا بھلا بھی ان کو کہا جا رہا ہے۔یقیناپارٹی بھی ان کی نقصان میں رہے گی۔یہ کون لوگ ہیںجو پارٹی کی مقبولیت کو چاٹ رہے ہیں؟تھوڑی سی جستجو سے صدر صاحب ان لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔جو ایک ہی دفعہ سونے کے انڈے نکالنے کے لیے مرغی کو ذبح کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ عجب تماشا ہے کہ پارلیمنٹ کی سرپرستی کے دعویداروں نے اس ٹیکس کی پارلیمنٹ کو بھنک بھی نہ پڑنے دی۔یہ کوئی وڑائچ طیارہ نہیں ہے جس کا کرایہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر مل کر بڑھا لیتے ہیں۔میری صدر صاحب سے گزارش ہے کہ اس ظالمانہ ٹیکس کے بلاجوازنفاذ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے واپس لیں تاکہ شہید بھٹوز کی پارٹی کی مقبولیت کے سورج کو مزیدڈوبنے سے بچایا جا سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus