×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امیر مسلم ممالک کو غریب اسلامی ممالک کیوں نظر نہیں آتیـ؟
Dated: 20-Oct-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک دو روز قبل بیک وقت دو علاقائی تنظیموں کے دو اہم سربراہی اجلاس ہوئے۔ آذر بائیجان کے شہر باکو میں ہونے والے ایکو(ای سی او) اجلاس میں صدر ٓاصف علی زرداری جبکہ کویت میںایشیائی تعاون مذاکرات (ASIAN COOPERATION DIALOGUE SUMMIT) میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے شرکت کی ۔ (ASIAN COOPERATION DIALOGUE) کا قیام 2002 ء میں عمل میں آیا۔ اس کے مقصد میں سے غربت کا خاتمہ اور تعلیم کا فروغ اور عام لوگوں کے لئے زند گی کو معیار کو بہتر بنانا اہم ہیں۔ اس میں شامل ممالک کی تعداد 31ہے۔ان میں بحرین،بنگلہ دیش، بھوٹان،برونائی،کمبوڈیا، چین،بھارت،انڈونیشیا،ایران،جاپان،قازقستان،جنوبی کوریا،کویت،کرغزستان، لاؤس، ملائیشیا، منگولیا،میانمار،عمان،پاکستان،فلپائن،قطر،روس، سعودی عرب،سنگاپور، سری لنکا، تاجکستان،تھائی لینڈ،متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور ویت نام شامل ہیں۔ 16اکتوبر کو کویت سٹی میں ہونے والے اجلاس میں کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے غیر عرب ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کیلئے 2 ارب ڈالر مالیت کا فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ بیان محل میں ایشیائی تعاون ڈائیلاگ کے پہلے سربراہ اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر کویت نے اس فنڈ کیلئے 300 ملین ڈالر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ غربت کے خاتمے کے لیے کویت کے امیر کی طرف سے 2ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز اور اس میں سب سے پہلے اپنی طرف سے تیس کروڑ کی فراہمی کا اعلان قابل ستائش اقدام ہے۔ اوپر دیئے گئے ایشیائی تعاون مذاکرات کے ممالک کے ناموں پر ایک مرتبہ پھر غور فرمایئے۔آپ کو معلوم ہوگا کہ سوائے جیوز کے، ہر قومیت یا مذہب کے ممالک اس تنظیم کا حصہ ہیں۔ ان میں غریب ترین ممالک بھی ہیں اور امیر ترین بھی ہیں۔ مجموعی طور پر دنیا کے ہر خطے میں اکثریت پسماندہ مسلم ممالک کی ہے۔ اس کی وجہ امیر مسلم ممالک کی طرف سے ان کو نظرانداز کرنا ہے۔ اس کے برعکس دیگر اقوام اپنی کمیونٹی کو ساتھ لیکر چلتی ہیں۔ جیوز جہاں کہیں بھی ہیں ان میں سے کوئی بھی تنگ دست اور فاقہ مست نہیں ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی عیسائیت سے تعلق رکھتی ہے۔ امیر کرسچین ریاستیں غریب ریاستوں کی مدد پر کمربستہ رہتی ۔ ایک لیے دنیا میں کوئی غریب عیسائی ریاست موجود نہیں ہے۔ سالویشن آرمی جیسی عیسائیت کے فروغ اور عیسائی برادری کی ترقی و خوشحالی کے سرگرم تنظیمیں سالانہ ان مقاصد پر کھربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔ دنیا میں اجارہ دار قوتوں کا تعلق چونکہ عیسائیت سے ہے اس لیے وہ نہ صرف اپنی برادری کی تعلیم و صحت اور وسائل کی فراہمی کے لیے کوشاں رہتی ہیں بلکہ جہاں بھی ان کو موقع ملتا ہے حالات ایسے پیدا کرکے مسلمان ممالک کے اندر سے کرسچین ریاست نکال کر گھڑی کر دیتی ہیں۔انڈونیشیا اور سوڈان کو تقسیم کرکے بالترتیب مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان ممالک چند سال میں قائم کر دیئے گئے۔ اس سے قبل فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل نام کی ایک ریاست بنا کر فلسطینیوں کو اپنے ہی وطن میں بے وطن کر دیا گیا تھا۔ وہ ساٹھ سال سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ادھر کشمیر پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے مظلوم کشمیری بھی فلسطینیوں کی طرح 65سال سے آزادی کی خاطر جانیں دے رہے ہیں۔ ایک طرف عالمی چودھری مسیحی ریاستوں کے قیام کی راہ ہموار کر دیتے تو دوسری طرف مسلمان صدیوں تک آزادی کی جدوجہد کرکے بھی سرخرو نہیں ہوتے۔ رونگیا مسلمانوں کی ریاست تھی جس پر برمی قابض ہوئے۔ آج رونگیا مسلمان صرف اپنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عالمی برادری ان کو زندہ رہنے کا حق دلانے میں بھی ناکام ہے۔ امیر مسلم ممالک کی نظر نہ جانے صومالیہ ،سوڈان ، یوگنڈا جیسے ممالک پر کیوںنہیں پڑتی جہاں انسان لنگوٹ کے لیے کپڑے اور سانسیں بحال رکھنے کے لیے چند نوالوں کی حسرت لیے جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ قحط سے ان کے جسم سکڑ کر ہڈیوں کی مٹھی بن جاتے ہیں۔ بھارت میں 28کروڑ مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند ، ان کے گھروں اور مساجد کو جلا دیا جاتا ہے۔ اسی بھارت کی پذیرائی عرب اور خلیجی ممالک میں ہوتی ہے۔جہاں بلاامتیاز مذہب بھارتیوں کو ملازمتیں اور کاروبار کے مواقع دیئے جاتے ہیں۔ ایشیائی ممالک میں 40فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ کویت کے امیر نے دوسرے ممالک کے لیے فنڈز کی تجویز دی ہے۔ وہ مسلمانوں کی غربت دور کرنے پر غور کیوں نہیں فرماتے؟ عرب ممالک کے پاس وسائل سنبھلے نہیں سنبھلتے۔ہر عرب ملک بڑی آسانی سے دس دس بار ہ بارہ ارب ڈالرفراہم کر سکتا ہے۔جس سے غریب اور ترقی پذیر مسلم ممالک بھی ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔اس لیے امیر مسلم ممالک ٹریلین ڈالرز کا فنڈ قائم کریں اور پسماندہ ممالک کو بھی ترقی کی راہ پر لے آئیں۔ایک اور طریقہ بھی ہے آپ اپنے ہاں صرف مسلمانوں کو ہی اکاموڈیٹ کریں۔ اس سے بھی مسلم ممالک سے غربت کاخاتمہ ہو سکتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus