×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ناہید خاں کے کھوٹے سکّے
Dated: 11-Jan-2009
1979ء میں جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے شہید بابا کی شہادت کے بعد پارٹی کی قیادت سنبھالی اور اس وقت سے لے کر 1988ء میں انتخابات میں کامیابی کے بعد جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو اس درمیان شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بیشتر ساتھی حیات تھے۔ ان میں سے متعدد محترمہ کے ساتھ چلے اورکئی ان کی ٹیم کا حصہ نہ بن سکے۔ حفیظ پیرزادہ،غلام مصطفی جتوئی، ڈاکٹر غلام حسین، ڈاکٹر مبشر حسن، غلام مصطفی کھر، معراج محمد خان، جے اے رحیم، ملک معراج خالد، حنیف رامے اور مولانا کوثر نیازی جیسے اہم لیڈر محترمہ کے ساتھ چل نہ سکے یا دو چار گام ہی چل کر تھک گئے۔ کچھ پارٹی میں ہی رہے کچھ نے اپنی راہیں یکسر جدا کر لیں۔ کوئی بھی کپتان اس وقت تک اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتا جب تک اسے اپنی مرضی کی ٹیم منتخب کرنے کا حق اور اختیار نہ ہو۔ جناب آصف علی زرداری صاحب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں۔ چیئرمین بلال بھٹو زرداری کی ذمہ داریاں سنبھالنے تک وہ پارٹی اور حکومتی معاملات کے لیے جوابدیدہ ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریاں کماحقہ تب ہی ادا کر سکتے ہیں جب ان کو پارٹی اور حکومت چلانے کے لیے پُراعتماد اور باصلاحیت لوگوں کے انتخاب کا حق حاصل ہوگا۔ پارٹی نے یہ حق اور اختیار ان کو تفویض کردیا ہے۔ اگر محترمہ ناہید خان صاحبہ جنہیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بااعتماد ساتھی ہونے کا اعزاز حاصل رہا کو اگر موجودہ ٹیم میں وہ مقام اور جگہ حاصل نہیں رہی تو اس پر سیخ پا ہونے کی اور پارٹی معاملات کو میڈیا میں لے جانے کی کیا ضرورت تھی؟اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن یہ پارٹی کے اندر ہونا چاہیے۔ پارٹی میں فیڈرل کونسل اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی جیسے پالیسی ساز ادارے موجود ہیں جن کے اکثر و بیشتر اجلاس ہوتے رہتے ہیں۔ اگر پارٹی کے کسی رکن کو کوئی تجویز یا گِلہ ہو تو اس کا وہ اظہار ان پلیٹ فارم پر کر سکتا ہے یا اس کے علاوہ پارٹی کے عوامی جلسوں میں وہ اپنی دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی وصیت کے حوالے سے اختلافی بیانات اورگورنر پنجاب سمیت تمام گورنرز کے متعلق تضحیک آمیز بیانات اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات کے حوالے سے بلاجواز شور شرابا دراصل میڈیا میں توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا گیا جب کہ پارٹی کے کارکنان و لیڈران اور پوری قوم جانتی ہے کہ پارٹی کی فیڈرل کونسل و سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور قومی اسمبلی سے یہ قرارداد پاس کر واکراقوام متحدہ کو بھیجوائی جا چکی ہے۔اور اقوام متحدہ نے متعدد مواقعوں پر اس کی یقین دہانی کروائی ہے کہ تحقیقات کو مکمل کرکے شہید محترمہ کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ محترمہ ناہید خان صاحبہ نے 22 سال تک بلاشرکت غیر پارٹی اور حکومت کا اقتدار انجوائے کیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دوران تو وہ مختار کل تھیں اور پارٹی کے اجلاسوں کے دوران کسی کو ان کی مرضی کے بغیر سانس لینے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ضروری نہیں کہ اقتدار ایک مرتبہ مل جائے تو جان اس کے ساتھ جائے یا اقتدار جان کے ساتھ جائے؟ اب وہ باقی عرصہ ماضی کے اقتدار کی سہانی یادوں کے ساتھ گزارنے کی کوشش کریں۔ البتہ قسمت یاوری کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ ع پیو ستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ۔ 2002ء کے الیکشن میں جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطن تھیں تو میں بھی جیل سے رہائی کے بعد ان کے ساتھ کام کرتا رہا اور اوورسیز میں خدمات سرانجام دیں۔جب الیکشن کے کاغذات داخل کروائے جا رہے تھے تو خواتین کی سپیشل سیٹوں پر پارٹی لسٹیں تیار کر رہی تھی تو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی شدید خواہش پر میری بیوی بیگم بدرالنساء وڑائچ کے کاغذات بھی داخل کروائے گئے اور میں اس چیز کا چشم دید گواہ ہوں کہ جب صوبائی چیف الیکشن کمیشن کو جب سپیشل سیٹوں کی لسٹ جمع کروائی گئی تو میری بیوی کا نمبر ساتواں تھا جس کے گواہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سینئر عہدیدار ہیں لیکن ایک سازش کے تحت الیکشن سے کچھ دیر پہلے کمال مہارت سے ایک ایسی امیدوار کو جو کہ محترمہ ناہید صاحبہ کی انتہائی قریبی ساتھی تھی کو گیارہ نمبر سے اٹھا کر سات اور ہمیں سات سے اٹھا کر گیارہ پر کر دیا گیااور یہ پھر مکافات عمل ہے کہ ساتویں نمبر پر منتخب ہونے والی وہ خاتون رکن قومی اسمبلی بعد میں پیٹریاٹ بنانے والی ٹیم میں شامل تھی۔ میں نے اس سیاسی ناانصافی کا ذکر جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے کیا تو ان کو بے حد ملال تھا اور وہ پارٹی میں ہونے والی اس واردات کی تلافی بھی کرنا چاہتی تھیں لیکن میں نے انہیں کہا کہ محترمہ ہم آپ کے سپاہی ہیں یہ عہدے اور سیٹیں میرے اندر موجود جانثاری کے جذبے پر اثرانداز نہیں ہو سکتے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے محترمہ کی شہادت تک ان کا ایک بااعتماد ساتھی ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔یہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ 2002ء کے الیکشن کے بعد بننے والی پیٹریاٹ کے گروپ کو محترمہ ناہید خاں سے بے حد شکایات تھیں اور وہ اپنی نجی محفلوں میں یہ کہتے سنے جاتے تھے کہ ہمیں پارٹی سے دور ی پر ناہید خاں صاحبہ نے مجبور کیا ہے۔اس طرح وہ دانستگی یا نادانستگی میں پارٹی کے اندر ہونے والی اتنی بڑی توڑ پھوڑ کا موجب بنی اور جو ان کے سیاسی کیریئر پر ایک سوالیہ نشان کی طرح ہمیشہ موجود رہے گا۔ پیپلز پارٹی کے ساتھیوں اور دوستوں کی قیادت اور پارٹی کے خلاف بیانات اس شاخ کو کاٹنے کے مترادف ہیں جس پر خود بیٹھے ہیں۔ 5نومبر1996ء سے23مارچ2008ء تک کا قیامت خیز عرصہ کارکنوں نے صبر، جبر، سیاسی انتقام اور انتظار کی سولی پر چڑھ کر گزارہ۔ کراچی اور اسلام آباد میں سینکڑوں کارکن شہادت کے رتبہ سے سرفراز ہوئے اور ہمیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی عظیم لیڈر کی قربانی دینا پڑی۔اختلافِ رائے کے نام پر پارٹی کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے حضرات ذرا سوچیں کہ بھٹو خاندان کا سلسلہ شہادت اسی لیے تھا کہ جب ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع آئے تو ہم اپنی کم عقلی سے اور ذاتی پسند ناپسند کو بنیاد بنا کر پگ غیروں کے سر باندھ دیں۔ آج جناب آصف علی زرداری صاحب کی ٹیم کا حصہ بننے والے تقریباً تمام ساتھیوں نے قیدوبند کی صعوبتوں اور مصائب کا سامنا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ لیڈرشپ کے اطراف موجود ہیں۔ خود صدر مملکت اور شریک چیئرپرسن جناب آصف علی زرداری صاحب نے آٹھ سال تک ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹی۔ میں اور راجہ پرویز اشرف نے بھی اڈیالہ جیل میں ان کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل کیا۔مجھے معلوم ہے کہ قید میں ہر دن قیامت اور رات محشر کی ہوتی ہے۔ پارٹی لیڈروں اور کارکنوں نے یہ انتقامی قید جرأت و مردانگی سے کاٹی، تشدد پر کبھی واویلا نہیں کیا بلکہ بھٹو کے مشن پر قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ قوم کو یاد ہے جب آمریت کے سیاہ اندھیروں میں کارکنوں کو پھانسیاں دی گئیں کوڑے مارے گئے تو ان کے لبوں پر یہی نعرہ مستانہ بلند ہوتا تھا کہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘۔ تاریخ گواہ ہے پیپلز پارٹی سمندر کی مانند ہے جو اس بحر سے نکل گیا یا جس کسی کو اس نے اچھال کر باہر پھینک دیا جو طغیانی حالات کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے خود نکل گیا تو وہ ایسا گم ہوا کہ تاریخ کے اوراق میں اس کو ڈھونڈنا مشکل ہو گیا۔ یہ کیسا مکافات عمل ہے کہ جب ماضی میں محترمہ ناہید خاں صاحبہ لاہور آتیں تھیں تو جس گھر میں ان کے قیام و طعام کا انتظام ہوتا تھا، مکین ان کی راہ میں آنکھیں بچھاتے نہ تھکتے تھے۔ آج انہی لوگوں نے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ میں نے خود محترمہ ناہید خاں صاحبہ سے سنا کہ وہ دوست اب میرا فون تک نہیں اٹھاتے۔ ایک دوست بتا رہے تھے کہ جس دن محترمہ ناہید خاں اور ان کے شوہر اس دوست کے گھر ان کے والد کی وفات پر افسوس کرنے کے لیے گئے تو وہ دوست بہت زیادہ پریشان تھے اور بار بار گھڑی کو اور باہر کے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے کیونکہ عین اسی وقت وہاں گورنر پنجاب کی بھی تعزیت کے لیے آنے کی اطلاع تھی۔تو ان حالات کو بھانپتے ہوئے محترمہ ناہید خاں اور ساتھیوں نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ محترمہ ناہید خاں صاحبہ نے جو کھوٹے سکّے اپنے پرس میں رکھے تھے آج وہ کسی اور کی جیب میں چلے گئے ہیںتوانہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ کھوٹا سکّہ کبھی کھرا نہیں ہوتا چاہیے وہ کسی کی بھی جیب میں چلا جائے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus