×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ڈیوڈ ملی بینڈ کا کرداراور پاکستان کی سفارتی کامیابیاں
Dated: 18-Jan-2009
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے وطنِ عزیز میں مفاہمت کی جس سیاست کی داغ بیل ڈالی تھی صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب اس کو نقطہ عروج تک لے گئے۔ وہ مفاہمت کی سیاست کو ملک کی سرحدوں سے باہر بھی لے جا رہے تھے۔ پہلے اقدام کے طور پر انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے۔ اپنی بطور صدر حلف برادری کی تقریب میں اپنے افغان ہم منصب کو مدعو کرکے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان سے مشرف حکومت پر تعاون نہ کرنے کے الزامات کی بھرمار تھی۔دونوں ماملک کے درمیان تعلقات کشیدگی کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے آج کہیں کشیدگی موجود نہیں ہے۔ حامد کرزئی پاکستان کی حکومت کی پالیسیوں سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔ دونوں ملکوں میں تعلقات کو صدر کے دورہ افغانستان سے مزید فروغ ملا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے تھے، مسئلہ کشمیر پر مذاکرات جاری تھے، مسئلہ کے حل میں پیشرفت ہو رہی تھی۔ منموہن سے صدر پاکستان کی چین اور امریکہ میں کامیاب ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ بھارتی وزیراعظم نے پانی کے مسئلہ حل کرانے کی یقین دہائی کرائی تھی۔ صدر آصف علی زرداری پاکستان بھارت مشترکہ مضبوط معیشت کی بات کر رہے تھے، میاں نواز شریف صاحب نے مزید دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے ویزے کے خاتمے کی تجویز دی لیکن امن کے دشمنوں نے ممبئی میں حملوں کا اہتمام کرکے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ مسئلہ کشمیر کون لٹکائے رکھنا چاہتا ہے؟ پاکستان اور بھارت کو کون قریب آتے نہیں دیکھ سکتا ؟ وہ بھارت اوررپاکستان کی انتہا پسند قوتیں ہیں۔ بھارتی انتہا پسندوں کو ’’را‘‘ کی مدد حاصل ہے۔ دونوں نے مل کر مسئلہ کشمیر کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔ پانی کی کمی کا جو مسئلہ حل ہوتا نظر آتا تھا وہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا۔ جس سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر بنتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ جمہوری حکومت کی امن کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا گیا۔ بھارتی حکومت نے آئو دیکھا نہ تائو ممبئی حملوں کا پاکستان پر الزام دھر دیا۔ بہت سے اشتعال انگیز اقدامات بھی کیے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی اور ایسا تاثر پیدا بھی کر دیا گیا لیکن جو حقیقت تھی اس نے آشکار ہونا تھا وہ آشکار ہو کر رہی۔ جنگ کے بادل نہ صرف منڈلا رہے تھے بلکہ برسنا چاہتے تھے۔ پاکستان نے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا بھارتی اقدامات کا صبر اور برداشت سے جواب دیا۔ بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوا اس نے جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ پر سلامتی کونسل کی کمیٹی سے پابندی لگوا دی تو پاکستان نے بادل نخواستہ عالمی برادری کی پابندیوں پر فوری طور پر عملدرآمد کر دیا جس سے اقوام متحدہ کو پاکستان سے شکایت نہ رہی۔ اس طرح پاکستان دشمن کی اس چال سے بڑی خوبصورتی سے بچ کر نکل گیا وگرنہ دشمن چاہتا تھا کہ پاکستان مزاحمت کرے اور اس پر عالمی برادری نہ صرف پابندیاں لگا دے بلکہ پاکستان کا امیج پوری دنیا میں ایک دہشت گرد ملک کی حیثیت سے مشہور ہو جائے۔پاکستان نے خود مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کی مگر بھارت نے انکار کر دیا۔ اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بہتر ہوئی۔ بھارت بار بار لسٹیں دے کر مطلوب افراد حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا رہا پاکستان نے اس ناجائز مطالبے کو مسترد کر دیا۔ آج عالمی برادری پاکستان کے اس اقدام کی حمایت کر رہی ہے۔ بھارت نے آخر ی حربے کے طور پر پاکستان کو دبائو میں لانے کے لیے غیرروایتی طور پر اپنے آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی پریس کانفرنس بھی کروا ڈالی 14جنوری کو ان کی دھمکی تھی کہ تمام آپشنز ناکام ہو گئے تو جنگ ہو سکتی ہے۔ جنرل کپور کی دھمکی کے اسی روز برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھارت میں تھے۔ انہوں نے بھارت کو ایسا آئینہ دکھایا کہ جنرل کپور کی دھمکیاں ہوا ہو گئیں۔ برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے جو ایک برطانوی ہونے کے ناطے سے برصغیر پاک و ہند کے مزاج اور سیاست کو بخوبی سمجھتے ہیں چونکہ برطانوی حکومت کا دولت مشترکہ کے حوالے سے دونوں ممالک کے ساتھ رابطہ ہے اس لیے برطانوی حکومت نے جہاں اس وقت لاکھوں انڈین،پاکستانی اور سائوتھ ایشین لوگ کئی ملین کی تعداد میں آباد ہیں۔ جب یہ محسوس کیا کہ پاکستان کے موقف میں سچائی ہے تو ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھارت کی سرزمین میں بھارت کو یہ آئینہ دکھا دیا جس کے بعد بھارتی دفتر خارجہ جناب ڈیوڈ ملی بینڈ کے خلاف ہرزہ سنائی میں مصروف ہو گئے اور بھارت نے خجلت میں برطانوی دفتر خارجہ سے اپنے تعلقات کو دائو پر لگا لیا اس طرح سفارتی محاذ پر یہ پاکستان کی ایک ایسی کامیابی ہے جس کا جشن منانے کی بجائے اس کے ثمرات کو یورپی یونین اور بین الاقوامی برادری تک پہنچایا جائے کہ بھارت صرف اپنے سیاسی سٹنٹ کی خاطر ایک ایسی جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے جس سے بین الاقوامی برادری کو بھی اتنا ہی خطرہ جتنا کہ پاکستان کی سلامتی کو۔پاکستان کی کامیاب ڈپلومیسی اور خارجہ پالیسی کے باعث اس کے دوست سرگرم ہیں۔ رچرڈ بائوچر نے اپنا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے جنگ کے بادل چھٹ گئے تھے۔ اسی وجہ سے ان کو ہلال قائداعظم کا ایوارڈ دیا گیا۔نئے امریکی منتخب نائب صدر جوزف بائیڈن نے پاکستان کو مالی امداد میں اضافے کے لیے سرتوڑ کوشش کی اور پاکستان کے لیے پندرہ بلین ڈالر کا بل سینیٹ سے منظور کروایا جو کہ آگے چل کر پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ایک سنگ میل ہوگا۔اور پھر امریکن نائب صدر ہونے کی حیثیت سے ان کی آئندہ چار سال کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اسی لیے دوراندیشی کی سیاست اور وسیع نگاہ رکھتے ہوئے صدر مملکت نے جناب جوزف بائیڈن صاحب کو ہلال امتیاز کا میڈل دیا۔ان کا بطور نائب صدر دور چند روز بعد شروع ہونے والا ہے یقینا وہ پاکستان کے لیے حسب سابق اچھے دوست ثابت ہوں گے۔ حکومت پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کی بدولت موجودہ اور آنے والی امریکی حکومتیں ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان کے اختیار کیے گئے موقف سے مطمئن ہیں۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا ہونے کے طعنے دینے والوں کی آنکھیں اب تو کھل جانی چاہئیں جب چین،ایران،سعودی عرب اور برطانیہ سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ بھارتی وزیرخارجہ مکھرجی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران برطانوی وزیر خارجہ کے لب و لہجہ سے پاکستانی اقدامات کی تعریف ہو رہی تھی اور ان کی ہر بات سے پاکستان کی دوستی ٹپک رہی تھی۔ ان کے چند الفاظ دہرائے دیتاہوں۔ ’’بھارت ٹھوس شواہد دے، ممبئی حملوں کے ملزموں کو پاکستان میں سزا ملی چاہیے ملزموں کی حوالگی کا بھارتی مطالبہ بلاجواز ہے، حملوں میں پاکستان ملوث نہیں۔ دہشت گردی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے بھارت مسئلہ حل کر دے تو دہشت گردوں کے پاس کاروائیوں کا جواز نہیں رہتا۔ پاکستان پر کوئی پابندی لگنی چاہیے نہ فوجی کاروائی ہونی چاہیے۔‘‘ملی بینڈ کی اس پریس کانفرنس کے بعد بھارت ملزموں کی حوالگی کے مطالبے سے دستبردار ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن قائم کرکے عالمی برادری پر ثابت کر دیا کہ وہ ذمہ دار ملک ہے اور خود دہشت گردی کا شکار ہے اس لیے کہیں بھی دہشت گردی کا سخت مخالف ہے۔ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے باعث ایک طرف جہاں پاکستان کا موقف صحیح ثابت ہوا وہیں بھارت کو روز اپنے بیان بدلنے سے عالمی سطح پر ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ممبئی حملوں کے بعد جہاں پاکستانی حکومت عالمی برادری کے سامنے سرخرو ہو کر نکلی ہے وہیں ملک میں مفاہمت کی بہترین فضا نظر آ رہی ہے۔ اس کی ایک مثال تو قومی سطح پر پیپلز پارٹی، اے این پی، جے یو آئی کی مخلوط حکومت، سندھ میں پی پی،ایم کیو ایم اور پنجاب میں پی پی،مسلم لیگ ن حکومتی اتحاد اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تمام جماعتوں کا اتحاد ہے۔ اورمسلم لیگ ق کے ساتھ بھی اچھی ورکنگ ریلیشن شپ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ دوسری بہترین مثال اورجمہوریت کے لیے اچھا شگون 13جنوری کو حکومت کی طرف سے سعودی سفیر اورشہزادہ مقرن کے اعزاز میں ظہرانہ ہے جس میں پارلیمنٹ میں موجود اور پارلیمنٹ سے باہر کی ہر قابل ذکر پارٹی کے رہنمائوں نے شرکت کی ہے۔ایسا پہلے کبھی خال خال ہی ہوا ہے۔ یہاں میں اپنے ناعاقبت اندیش دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک موجود ہے کہ جس کے سربراہان نے اپنے مہمانوں کو عزت اور میڈل سے نوازا ہو تو اس ملک کی اپوزیشن کی طرف سے اس کی اس حد تک مخالفت کی گئی ہو اور ذرائع ابلاغ نے اس کو ایک ایسا جرم ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جیسے خدانخواستہ حکومت وقت نے پاکستان کی سلامتی پر کوئی سوداکر لیا ہو۔ ہماری پاکستان کے سیاستدانوں اور میڈیا کے لکھاریوں سے یہ درخواست ہے کہ خدا کے لیے سیاسی مخالفت میں کوئی ایسا قدم مت اٹھائیں جس سے بین الاقوامی برادری میں آج 2009ء میں ہمارا امیج دورجاہلیت کی کسی قوم کی طرح ابھر کر سامنے آئے۔ماضی میں بھی ایوب،یحییٰ،بھٹو،ضیاء،محترمہ بے نظیر،جونیجو، نواز شریف اور مشرف ادوار میں غیرملکی مہمانوں کو اعزازت اور خطابات سے نوازا جاتا رہا ہے۔لیکن اپنی سیاست چمکانے کے شوق میں اپنے ملک کو عالمی برادری میں رسوا کرنے کا یہ گھنائونا عمل اب بند ہو جانا چاہیے۔ اب یہ دنیا ایک گلوبل ولیج کی طرح ہے ہم اپنی چالاکیوں اور جھوٹ کی سیاست سے دنیا اور اپنی عوام کو ایک لمبے عرصے تک بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ کیا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو اقوام متحدہ نے جو ایوارڈ دیا ہے یا آج سے پہلے پاکستانی سربراہان مملکت،رہنمائوں اور سائنسدانوں کو دوسرے ممالک سے ملنے والے اعزازات صرف اس لیے واپس کر دینے چاہئیں کہ ہمارے ملک کے چند مذہبی جنونی جو کہ خود کبھی بھی اس رتبے تک نہیں پہنچے ان کی مخالفت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus