×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کالا باغ ڈیم لاشوں ہی پر سہی
Dated: 15-Dec-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کالا باغ ڈیم کی تاریخ بھی تقریباً قیام پاکستان جتنی پرانی ہے۔ قائداعظم کی زندگی میں ہی حکومت کی طرف سے مارچ1948ء میں ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے پیش کی جانے والی سفارشات میں کالاباغ ہائیڈروپراجیکٹ (مشرقی پاکستان میں) اور کرنافلی ہائیڈرو پراجیکٹ کی پر جلد کام شروع کرنے پر زور دیا گیا۔ قائداعظم کی وفات حسرت آیات کے بعد نہ صرف کئی منصوبے بلکہ پاکستان بھی ادھورا رہ گیا۔ ڈیم بنانے کی طرف کسی حکومت کو توجہ دینے کی توفیق ہی نہ ہوئی۔ایوب خان نے اس طرف دھیان ضرور دیا لیکن بہت کچھ لٹانے کے گناہوں کے بعد۔ سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئرمین محمد سلیمان خان کا مشن ہی کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے جدوجہد اور کالا باغ ڈیم کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان کو پانی سے محروم رکھنا دشمن کی بہت بڑی سازش ہے جس کی تکمیل وہ ہمارے لوگوں پر نوازشات کی بارش برسا کر کرتا ہے اور کچھ مہربان جذباتی ہو کر ایسی سازشوں کی نادانستگی میں حمایت کرتے ہیں۔ دشمن پاکستان کو قحط اور خشک سالی سے دوچار کرکے جو کرتا رہا ہے اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمایئے۔ ایوب خان کے دور حکومت میں ورلڈ بینک کے تحت ہونے والے پاکستان اور بھارت کے درمیان معاہدے میںانڈس واٹر ٹریٹی 1960 میں دریائے راوی بیاس اور ستلج بھارت کو دیئے گئے۔ حالانکہ بین الاقوامی قوانین میںدریاؤں کے پانی کی تقسیم کے مسلمہ اصول ہیں۔ اس طرح بیاس میں پاکستان کا ایک تہائی حصہ جبکہ راوی اور ستلج میں سے دو تہائی حق تھا۔ لیکن ایوب خان کے انڈس واٹر کمیشن کے CSP چیئرمین جمعہ معین الدین نے مذاکرات کے ڈیڑھ سال عیاشی کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں گزارے۔ ورلڈ بینک کی دی گئی مراعات کے ساتھ اپنی 62سال کی عمر میں ایک 22سالہ امریکی لڑکی سے شادی رچا کر مست رہے اور پاکستان کے تمام ماہر انجینئرز کی سخت مخالفت کے باوجود ان کی رائے کو ورلڈ بینک کے بھاری قرضہ کی خوشی میں ایوب خان سے مسترد کروا کر راوی بیاس اور ستلج بھارت کے حوالے کر دیئے۔ منصوبے کے مطابق دریائے سندھ پر کالا باغ ڈیم بنانے کی تجویز تھی جسے غلام اسحٰق خان کے کہنے پر ایوب خان نے موخر کرکے پہلے تربیلا ڈیم بنایا۔ تربیلا ڈیم شہید ذوالفقار علی بھٹو دور میں مکمل ہوا ۔ تربیلاڈیم کے مکمل ہوتے ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کالا باغ ڈیم کو تعمیر کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے تیزی سے کام کرنے کی ہدایت کی مگر ضیاء الحق کی مارشل لاء لگانے سے یہ عظیم منصوبہ رک گیا۔ ان کے دور میں جنرل فصل حق نے اپنے مخصوص مفادات حاصل کرنے کیلئے اس میں روڑے اٹکائے۔ بھارتی آبی جارحیت کے منصوبہ ساز خوشی سے اچھل پڑے اور پھر ان کے کارپردرازوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کو اپنا ایمان بنا لیا اور آج تک یہ عظیم منصوبہ مسلسل کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ ضیاء الحق کے دورمیں جنرل فضل حق کی مخالفت کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے کالا باغ ڈیم کیلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھا۔ اس سلسلہ میں چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان کی کمیٹی بھی بنائی گئی۔ جن کے ذمہ اس ڈیم کا ہر لحاظ سے جائزہ لینا تھا۔ چاروں چیف جسٹس صاحبان نے اس ڈیم کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس میں سندھ کے چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ چیف جسٹس صاحبان نے تمام صوبوں کے اعتراضات بھی سنے تھے۔ محمد خان جونیجو کے بعد بے نظیر بھٹوکے دور حکومت میں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے 1989میں سندھ حکومت نے اعتراض کیا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے پہلے ضروری ہے کہ صوبوں کے درمیان Water Apportionment کا کوئی معاہدہ ہونا ضروری ہے۔ اس کی تائید صوبہ بلوچستان نے بھی کی۔ 1991ء میں میاں نواز شریف کی حکومت میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے پانی کی تقسیم کے معاہدہ پر 16مارچ 1991کو ایک فارمولے پر متفق ہوئے اور کالا باغ ڈیم کیلئے گرین سگنل دے دیا گیا۔ معاہدہ میں تمام وزراء اعلیٰ کواپنی صوابدید پر نمائندہ وزیر کا انتخاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ چنانچہ پنجاب کی طرف سے وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کے ساتھ ان کے وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی، سندھ کی طرف سے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کے ساتھ ان کے وزیر قانون سید مظفر شاہ، سرحد کی طرف سے وزیر اعلیٰ میر افضل خان کے ساتھ ان کے وزیر خزانہ محسن علی خان اور بلوچستان کے طرف سے وزیر اعلیٰ میر تاج محمد جمالی کے ساتھ ان کے ہوم منسٹر ذوالفقار مگسی جو اس وقت گورنر بلوچستان ہیں نے نمائندگی کے فرائض انجام دیئے۔ پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے 21مارچ 1991 کے اجلاس میں باقاعدہ منظور کیا۔ پانی کے اس تاریخ ساز معاہدے میں چاروں صوبوں کے درمیان اعتماد کی بہترین فضا قائم ہوئی۔ یہ طے پایا گیا کہ دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں پر جتنے بھی ممکنہ ڈیم اور واٹر سٹوریج بنائے جا سکتے ہیں اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ گذشتہ ماہ کے آخر میں لاہور ہائی کورٹ نے 1991ء کے مشترکہ مفادات کونسل کی طرف سے دی گئی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ’’آئین کے آرٹیکل 154کے تحت مشترکہ مفادات کونسل میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کی پابند ہے۔ جب کوئی منصوبہ تیکنیکی اور معاشی پہلوئوں سے قابلِ عمل قرار دے دیا جائے تو اس کو فرضی بنیادوں پر بند نہیںکیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت ہر طرح کے سیاسی و دیگر خدشات دور کرکے مشترکہ مفادات کونسل میں 1991اور 1998ء میں کیے گئے فیصلوں پر انتظامی دائرہ کار کے مطابق عمل درآمد کرے۔‘‘ لاہور ہائیکورٹ نے براہ راست کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا حکم جاری نہیں کیا۔ اس کی طرف سے بھی سیاسی و دیگر خدشات دور کرنے کی بات کی گئی لیکن افسوس کہ سندھ اسمبلی میں متفقہ طور پر لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر مذامتی قرارداد یں پیش کی گئیں جو بذات خود قابل مذمت ہیں۔ سندھ اسمبلی کے ارکان بڑھ چڑھ کر پنجاب کے خلاف بدزبانی بھی کرتے رہے۔ بار بار یہ بات بھی دہرائی گئی کہ کالاباغ ڈیم ان کی لاشوں پر بنے گا۔ اب کچھ 30نومبر2012ء کو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر کچھ قومی رہنمائوں نے بھی کہا تھا۔ یہ ارکان کہتے رہے کہ کالاباغ ڈیم ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ کالاباغ ڈیم سے سندھ کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کالاباغ ڈیم کیا پانی پی جائے گا۔ اس میں ہر سال سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلانے والا پانی جمع ہو گا جو اچھے نظم و ضبط کے ساتھ تمام صوبوں کو پہلے کی طرح جاری ہوتا رہے گا۔ سندھ کو پانی اب بھی پنجا ب سے ہی گزر کر جاتا ہے۔ پنجاب نے اس طرح سندھ کا پانی کبھی نہیں روکا جس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آنے والے دریائوں کا پانی روک رہا ہے۔ سندھ اسمبلی کے معزز اور گریجوایٹ ارکان کو اگر کوئی خدشات ہیں تو وہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ معاملہ سپریم کورٹ میں لے جا سکتے ہیں۔ عدلیہ کے خلاف یا وہ گوئی کی اخلاقیات اجازت نہیں دیتی۔ آپ کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد بے شک لائیں ہائیکورٹ کے فیصلے کی مذمت کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ کیا پیپلزپارٹی کے سندھ اسمبلی میں موجود ارکان شہید ذوالفقار علی بھٹو سے بڑے دانشور اور زیادہ سندھ کے خیرخواہ ہیں؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم ان کی لاشوں پر بنے گا یہ سودا بھی مہنگا نہیں ہے۔ حکومت کالاباغ ڈیم کی تعمیرشروع کر دے جو وہاں جا کر اپنا خون دینے پر مصر ہے اس کو اُس کی خواہش کی تکمیل کر لینے دی جائے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus