×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ضمنی الیکشن کے نتائج! اب بھی کوئی شک ہے؟
Dated: 10-Dec-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تو ان کی خالی کردہ این اے 151کی سیٹ سے 19جولائی کو ان کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی الیکشن لڑ کر آزاد امیدوار شوکت بوسن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ اس حلقے سے واحد پیپلز پارٹی ہی وفاقی حکومت کے وسائل کے بل بوتے پر الیکشن لڑ رہی تھی۔جہاں کامیابی کا مارجن انتہائی کم محض چار ہزار تھا۔جبکہ 2008ء میں یوسف رضا گیلانی نے اپنی جیب سے انتخابی اخراجات پورے کر کے اپنے حریف کو 24ہزار کے ماجن سے ہرایا تھا۔جیت ،جیت ہوتی ہے خواہ ایک ووٹ سے ہو لیکن عبدالقادر گیلانی کی چار ووٹوں کی سبقت نے مستقبل کی سیاسی پوزیشن کو بالکل واضح کردیا تھا۔یہ بھی سننے میں آیا کہ قادر کی جیت کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔پانچ پانچ ہزار کے نوٹوں کی تقسیم کی بھی اطلاعات تھیں۔ اس کامیابی پر پی پی پی نے جشن منایا اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کرعدلیہ اور مخالفین کو باورکرایا کہ عوام نے عدالت کا فیصلہ مسترد کردیا ہے ۔ہم نے اس وقت بھی حکمران پارٹی کے لئے اس انتخاب کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ وہ عوام کے سر سے مہنگائی ، بیروز گاری اور لاقانونیت کی تلوار ہٹائے،اعلیٰ سطح کی کرپشن کاخاتمہ کرتے ہوئے عوام کی زندگی آسان بنانے کی کوشش کرے لیکن یوں ہے کہ حکمران اپنی آئینی مدت کے آخری دن اور آخری لمحے تک قومی وسائل کو نچوڑنے کا عزم کئے ہوئے ہیں اور زعم یہ ہے کہ اتحا دیوں کو ساتھ ملاکر جوڑتوڑ کریں گے اور مزید پانچ سال قوم و ملک پر مسلط ہو جائیں گے لیکن ضمنی الیکشن میں عوام نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ قومی اسمبلی کی دو، پنجاب اسمبلی کی 6 اور سندھ اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات کے نتائج کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے 7 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اس نے حکومتی اتحاد کا صفایا کر دیا۔ ایک نشست پر (ق) لیگ جیت گئی ۔ پیپلز پارٹی صرف سندھ کی صوبائی سیٹ حاصل کر سکی۔پیپلز پارٹی اور اتحادیوں کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے انتخابی نتائج پر سرسری سی نظر ڈالنا ضروری ہے۔این اے 162 چیچہ وطنی میں مسلم لیگ (ن) کے زاہد اقبال 75970 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار رائے حسن نواز نے 65755 ووٹ حاصل کئے۔ این اے 107 گجرات میں مسلم لیگ (ن) کے ملک حنیف اعوان 106658 ووٹ لے کر پہلے (ق) لیگ کے رحمن نصیر مرالہ 76041 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 26 جہلم میںچودھری خادم حسین 39154 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تاہم الیکشن میں کامیابی کے بعد انہوں نے مسلم لیگ ن میں شرکت کا اعلان کردیا۔ان کے مقابل آزاد امیدوار راجہ محمد افضل خان 20156 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر اور (ق) لیگ کے چودھری محمد عارف 16821 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 122 سیالکوٹ میں مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد اکرام 27291 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے راجہ عامر خان 4797 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے یہاں ووٹنگ کی شرح 22.07 فیصد رہی ۔پی پی 129 ڈسکہ میں مسلم لیگ (ن) کے محسن اشرف 55120 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ (ق) لیگ کے انصر بریار 30846 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔ پی پی 92 گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے نواز چوہان 36547 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے لالہ اسد اللہ 14492 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 133 نارووال میں (ق) لیگ کے امیدوار چودھری عمر شریف 28989 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ ان کے مخالف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ڈاکٹر نعمت علی جاوید نے 22535 اور آزاد امیدوار علامہ محمد غیاث الدین نے 22524 ووٹ حاصل کئے۔ پی پی 226 کسووال میں مسلم لیگ (ن) کے حنیف جٹ 42294 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ (ق) لیگ کی امیدوار مسز اقبال نے 35369 ووٹ حاصل کئے۔ صدرپاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سیاست میں مفاہمت کی شہرت رکھتے ہیں انہوں نے اپنے اتحادیوں کو بھی بڑی مضبوطی سے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پنجاب کو فتح کرنے کا برملا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ اس کے لیے ق لیگ کے ساتھ مل کر پنجاب میں کامیابی کی حکمت عملی ترتیب دی۔ زیرک سیاستدانوں چودھری پرویز الٰہی کو ڈپٹی وزیراعظم بنایا اور منظور وٹو کو پنجاب میں پیپلزپارٹی کا کرتا دھرتا مقرر کر دیا۔ انتخاب میں فیصلہ کارکنوں کی محنت اور دلچسپی سے ووٹر کے ذریعے ہوتا ہے۔پولنگ سٹیشن پر سیاسی زیرکی اور پختگی بیلٹ پیپر پر مہریں نہیں لگاتی۔ آپ اپنے سیاسی مخالفین بھول سکتے ہیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا خون بیچ سکتے ہیں، کارکن ابھی ایسی ’’مصلحت اور مفاہمت‘‘ سے دور،کوسوں دور ہیں۔ اوپر کے حلقوں میں پلاننگ یہی ہوئی کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو لڑا کر درمیان میں سے کامیابی اچک لو لیکن یہ حکمت عملی دھری کی دھری رہ گئی۔ چودھری گجرات میں بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے مخلص کارکنوں اور رہنمائوں کو بُری طرح سے نظرانداز کیا جس کا خمیازہ 9نشستوں کے ضمنی الیکشن میں بھگت لیا۔ بجائے اس کے کہ انتخابی نتائج سے کچھ سبق حاصل کیا جاتا اور ان کو خوش دلی سے قبول کیا جاتا ۔دھونس دھاندلی اور حکومت وسائل کے ناجائز استعمال کے الزامات کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ ماضی وحال کو نظر میں رکھ کر مستقبل کا جائزہ لینے والوں کو یقین ہے کہ اگلے الیکشن میں پیپلزپارٹی کا کوئی چانس نہیں ہے ۔ ضمنی الیکشن عام انتخابات کا ایک ٹریلر ہے۔ ہم کل تک حکمرانوں کومشورہ دیتے رہے کہ وہ اپنی اصلاح کر لیں لیکن انہوں نے اس پر کان نہ دھرے۔ ہر ایک کے سر پر ایک ہی دُھن دَھن اور زر کا حصول سوار رہی تاآنکہ پوری وفاقی مشینری استعمال کرکے، ووٹروں کو خرید کے ایک آزاد امیدوار کے مقابلے میں گیلانی کا بیٹا تو معمولی برتری سے جیت گیا لیکن جہاں قومی وسائل کا اندھادھند استعمال نہ ہو سکا وہاں حکمران پارٹی عبرت کا نشان بن گئی۔ عام انتخاب میں بھی ایسا ہی حشر ہونے والا ہے۔ یہ نتیجہ ہے وفادار جیالوں کو نظرانداز کرنے کا۔ اب تیر پیپلزپارٹی کی کمان سے نکل چکا ہے یہی نوشتہ دیوار ہے۔ اب شہیدوں کی پارٹی کے بزعمِ خویش جاں نشیں اگلے الیکشن کی تیاری اور جیت کے لیے حریفوں کی ایسی ہی غلطیوں کا انتظا ر کریں جیسی خود کرکے مقبولیت کی اوج ثریا پر پہنچی پارٹی کو پستیوں کی گہرائی میں گرا لیا۔اگر مخالفین پیپلزپارٹی جیسی غلطیاں نہیں دہراتی اور پالیسیاں نہیں بناتی تو موجودہ قیادت کی موجودگی میں پیپلزپارٹی کبھی اقتدار میں نہیںآ سکتی۔ گذشتہ روز6دسمبرکو لاہور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری مس ناہید خان اور ان کے شوہر سینیٹر صفدر عباسی نے میڈیا کی اطلاع کے مطابق جیالے کارکنوں کے ساتھ ایک کامیاب یومِ تاسیس کا انعقاد کیا ہے جب کہ پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت بے شمار وسائل کے ساتھ ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ان حالات و وقعات کی روشنی میں وفادار جیالے یہ اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ پیپلزپارٹی دھڑوں میں بٹنے سے پہلے کچھ ہوش کے ناخن لے۔اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر روٹھے ہوئے اپنوںکو منانے میں اَنا کی جھوٹی دیوار حائل کرنا مناسب نہیں۔کیا ہماری قیادت کو مستقبل کے بارے میں اب بھی کوئی شک ہے ؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus