×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شہیدِ جمہوریت کی سالگرہ
Dated: 21-Jun-2008
قرآن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور وہ کبھی نہیں مرتے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی آج کے دن پوری دنیا میں بڑی دھوم دھام اور جوش و جذبے سے سالگرہ منائی جاتی تھی۔ جیالے اپنے مخصوص انداز میں جشن مناتے شہر شہر، گائوں گائوں، قریہ قریہ، گلی گلی، کیک کاٹے جاتے، ہزاروں ٹن مٹھائیاں تقسیم ہوتیں، بھنگڑے ڈالے جاتے، دیگیں چڑھائی جاتیں تھیں۔ یوں تو آج شہیدِ جمہوریت کی 55 ویں سالگرہ ہے لیکن یہ نہایت دکھ رنج و الم اور سادگی کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ جس چھری کے ساتھ ہم لوگوں نے سالگرہ کا کیک کاٹنا تھا یوں لگتا ہے کہ وہ ہمارے دلوں پر چل رہی ہے۔ جگر کے پار ہو رہی ہے دل اور جگر سے بہنے والا خون آنکھوں سے قطرہ قطرہ آنسو بن کر ٹپک رہا ہے، کتنا ظالم ہے وہ شخص جس نے کروڑوں دلوں پر حکمرانی کرنے والی ملکہ جمہوریت کی جان لینے کی منصوبہ بندی کی اس شخض، گروپ یا گروہ کے اس نفرت انگیز اقدام سے ملک بیسیوں سال پیچھے چلے گیا وہ دنیا کی بلاشرکت غیرے سب سے بڑی سیاستدان تھیں جن کا خلا سالوں نہیں صدیوں میں بھی پُر نہیں ہو سکتا۔ ظالموں کو نہ جانے ایک عظیم خاتون کے قتل سے کیا حاصل ہوا۔ یقیناقاتل نسلِ یزید سے تعلق رکھتے ہوں گے جن کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کو شہید کرتے ہوئے ذرہ ترس نہ آیا۔ پھر کام کر دکھایا ہے نسل یزید نے آباد پھر سے کرب و بلا آ ج ہو گئی محترمہ بے نظیر بھٹو اتفاقیہ سیاستدان نہیں بنیں بلکہ شہید وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹونے ان کی بھرپور سیاسی تربیت کی وہ اہم اجلاسوں میں اپنی پنکی کو ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ جون جولائی 1972ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھارت گئے تو شملہ معاہدہ کے موقع پر 19سالہ پنکی بھی ان کے ساتھ تھیں، اپریل 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹوشہید کا جوڈیشل مرڈر کیا گیا تو بھٹو خاندان کی ایک اور آزمائش سروع ہو گئی۔ یہ اس خاندان کے لیے بہت بڑی آزمائش تھی جس میں سے پورا خاندان خصوصی طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سرخرو ہو کر نکلیں۔ محترمہ نے بڑی جرات بہادری ہمت سے مصائب و آلام کا مقابلہ کیا جس کی وجہ سے 35سال کی عمر میں وہ منجھی ہوئی سیاست دان بن چکی تھیں چنانچہ ان کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کر دیا گیا۔ ہر پارٹی کے کارکنوں کی طرف سے قربانیاں دینے کی روایت ہے لیکن پاکستان میں پیپلز پارٹی کے بانی بھٹو خاندان کی عجب تاریخ ہے ملک قوم کے لیے کارکنوں سے زیادہ قربانیں اس خاندان نے دی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید، شاہنواز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور آخر میں بے نظیر بھٹو شہید جمہوریت وطن اور قوم کی خاطر قربان ہو گئیں۔ اس خاندان کے حصے ایک بدقسمتی یہ بھی آئی کہ اسے محسن کشوں کا ہر قدم پر سامنا رہا۔ ضیاء الحق،غلام اسحق، سید سجاد علی شاہ اور فاروق لغاری محسن کشی کی واضح مثالیں ہیں۔ سکندر اقبال، فیصل صالح، نوریز شکور جیسے لوگوں نے بھی اس تھالی میں چھید کیا جس میں کھاتے رہے تھے۔ محسن کشوں اور سازشی لوگوں نے 1988ء اور پھر 1993ء میں پیپلز پارٹی کو اپنے ادوار مکمل نہ کرنے دیئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید دو مرتبہ مختصر مدت کے لیے وزیراعظم بنیں جس میں بہت سے یادگار کام کیے جن میں امریکہ کی طرف سے روکے گئے ایف سولہ طیاروں کا حصول، میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی، تھرمل بجلی کی پیداوار، سستے منصوبے، کسانوں کی قرضوں اور ٹریکٹرز کی فراہمی، مضبوط خارجہ اور مربوط داخلہ پالیسیاں اور خواتین کے لیے ویمن بینک اور چادر اورچاردیواری کے تحفظ کے لیے اور خواتین پولیس اسٹیشنوں کا قیام شامل ہیں۔قوم کی خدت کی پاداش میں نہ صرف ان کا بلکہ ان کے شوہر آصف علی زرداری سمیت پورے خاندا ن کا 1996میں حکومت سے علیحدگی کے بعد ناطقہ بند کر دیا گیا۔ محترمہ کو 9 سال تک جبری جلاوطنی کی زندگی گزار نا پڑی۔ آصف علی زرداری کو گورنر ہائوس سے اٹھایا گیا پھر مسلسل آٹھ سال قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ دونوں پر درجنوں مقدمات قائم کیے گئے تحقیقات پر اربوں روپے خرچ کرکے بھی کچھ ثابت نہ کیا جا سکا۔اس عرصے میں محترمہ جلاوطنی کی زندگی گزارتی رہیں لیکن ملکی حالات پر ان کی مکمل نظر تھی وہ پاکستان کی سیاست کے حوالے سے بیرون ملک رہ کر بھی اپنا کردار ادا کرتی رہیں اور اپنے حق ایسے موافق حالات پیدا کر لیے کہ آمریت کے اقتدار کے نصف النہار کے دوران وہ بھرپور مخالفت کے باوجود وطن واپس آ گئیں۔ جہاں آ کر انہوں نے اپنے ماضی کے حریف اور حال کے میثاقِ جمہوریت کے پارٹنرمیاں محمد نوازشریف کی واپسی کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور میاں صاحب انتخابات سے قبل ملک میںموجود تھے۔ صدر مشرف تاحیات صدر اور آرمی چیف رہنے پر مصر تھے اور اپنی چہیتی پارٹی کی جیت کی مکمل منصوبہ بندی کیے ہوئے تھے شہید محترمہ نے ایک تو ان کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا دوسرا عالمی سطح پر مہم چلا کر ان کی انتخابات میں دھاندلی کی منصوبہ بندی خاک میں ملا دی۔ خدا نے ان کو انتخابی مہم چلانے کی بہت کم مہلت دی۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ 18 فروری کو پیپلز پارٹی کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ہمدردی کے ووٹ ملے۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ محترمہ کے قوم کے لیے درد، عوام سے ہمدردی اور وطن سے محبت اور اس کو مضبوط تر بنانے کے عزم کے باعث دیئے۔ محترمہ کا پیغام جہاں تک پہنچا لوگوں نے ووٹوں کے انبار لگا دیئے وہ انتخابی مہم پر سندھ سے سرحد گئیں ابھی راولپنڈی میں تھیں کہ شہید کر دی گئیں اگر ان کو پنجاب میں بھی مہم چلانے کا موقع ملتا تو یقینا پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت ہی نہیںدوتہائی اکثریت مل جاتی۔ وہ 18 اکتوبر کو دبئی سے کراچی آئیں تو بہت خوش تھیں میں ان کی جلاوطنی کے دوران اور واپسی پر اکثر ان کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کو قتل کی دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔ زندگی اور موت کے حوالے سے ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین تھا۔ 24دسمبر پنجاب میں انتخابی مہم کے آغاز میں، میں محترمہ کے رحیم یار خاں کے جلسے سے اختتام سے پہلے نکل کر ان کے اگلے جلسے جو کہ بہاولپور میں ہونا تھا چل پڑا اور وہاں جا کر انتظامات کا جائزہ لیا، کچھ دیر کے بعدمحترمہ بھی وہاں پہنچ گئیں سٹیج پر مجھے دیکھا اور مجھ سے گویا ہوئیں کدھر چلے گئے تھے تم تو میں نے کہا محترمہ میں یہاں پر حفاظتی انتظامات چیک کرنے آیا تھا تاکہ آپ کی آمد سے پہلے اطمینان ہو سکے۔ تو محترمہ نے مجھے کہا کہ موت آئی تو کیا تم مجھے بچا لو گے؟ وہ آندھی اور طوفان کی طرح انتخابی مہم چلا رہی تھیں کہ 27دسمبر کو ظالموں نے ان کی جان لے لی۔ یہ ایک عظیم سانحہ اور ناقابل برداشت سانحہ تھا۔ آہیں اور سسکیاں تھیں پورے ملک میں ہو کا عالم تھا۔ ہفتہ بھر وطن عزیز سوگ اور غم میں ڈوبا رہاساتھ ہی پنجاب میںسانحہ کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے سندھ میںزبردست اشتعال پایا جاتا تھا۔اس صورت میں کسی ایک شخصیت کی ضرورت تھی جو پارٹی کو متحد رکھنے کے ساتھ ساتھ ملک میں انتشار برپا نہ ہونے دے اور انہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر پاکستان بچا لیا۔پیپلز پارٹی نے پارٹی کی چیئرمین شپ بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کر دی وہ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں یوں آصف علی زرداری کو پارٹی امور چلانے کے لیے چیئرمین بنایا گیا یہ ایسے مدبر شخص ثابت ہوئے جنہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کا حق ادا کر دیا۔ محترمہ کی شہادت پر سندھ میں جو اشتعال تھا اس کو ٹھنڈاکیا۔ پارٹی کو نہ صرف متحد رکھا بلکہ 40روزہ سوگ کے باوجود انتخابی مہم بڑی ذہانت کے ساتھ چلائی۔ شہید بے نظیر بھٹو نے میاں نواز شریف کے ساتھ مفاہمت کی جو بنیاد رکھی تھی اس کو مضبوط کیا اور حکومت سازی کے دوران تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلے۔ یوں بقول جناب مجید نظامی صاحب مردِ جر اور مردِ راہوار نے خود کو بھٹوکا صحیح جانشین ثابت کر دیا۔ سمجھ نہیں آتا کہ شہید بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر نوحہ پڑھوں یا تحسین کروں لیکن ایک بات ضرور ہے کہ وہ آج بھی میرے سمیت دنیا بھر کے کروڑوں جمہوریت پسند لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور پاکستان کی غیر متنازعہ شہید جمہوریت ہونے کا شرف حاصل ہے اور جب تک پیپلزپارٹی کا ایک بھی جیالا یا پاکستان میں کوئی ایک بھی جمہوریت پسند فرد زندہ ہے اس وقت تک شہید جمہوریت کی سالگرہ اسی طرح شان سے منائی جاتی رہے گی۔ شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے میںنے ایک کتاب ’’بے نظیر بھٹو:شہیدِ جمہوریت کے آخری 72 دن‘‘ تصنیف کی ہے۔ یہ میرا ایک چھوٹا سا خراج تحسین ہے اور جیالوں کے لیے سالگرہ کا اس سے بڑھ کر کوئی اور تحفہ ہو نہیں سکتا۔ دل کیوں نہ خون روئے، ماتم کرے جگر ہم سے بہن ہماری جُدا آج ہو گئی
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus