×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ملکی سلامتی پر تحفظات
Dated: 08-Mar-2009
منگل کی صبح اٹھتے ہی ٹیلی ویژن آن کیا تو طبیعت میں جو بے چینی اور چھٹی حِس جس خطرے کی گھنٹی بجا رہی تھی وہ ٹی وی سکرین پر سلائیڈ کی صورت میں نظر آ رہا تھا۔ درجن بھر دہشت گردوں نے لاہور کے معروف ترین لبرٹی چوک کو میدان جنگ بنایا ہوا تھا اور ویڈیو فوٹیج جو نظر آ رہا تھا کہ اس ملک کے اندر اب گوریلا جنگ کا جیسے آغاز ہو چکا ہے۔ ہاتھوں میں بندوقیں لیے دہشت گرد پاکستان کے امیج کو جو طمانچہ مار رہے تھے اس کی بازگشت جب جب بیرونی دنیا میں پہنچی تو دوستوں کے فون آنے شروع ہو گئے کہ یار یہ مناظر جو ہم ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں یہ لبرٹی چوک کے ہیں یا لبنان کے ؟یہ بات صحیح ہے کہ ایسے حملے گذشتہ تاریخ میں اولمپک کھیلوں کے دوران بھی ہوتے رہے اور وہ ان ملکوں میں ہوتے رہے جن کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں لیکن ہمارا پیارا وطن تو پہلے ہی مسائل میں الجھا ہوا ہے۔چند دن پہلے ہی میں یورپ کے دورے کے بعد واپس آیا ہوں تو اخبار میں صوبہ سرحد سے متعلق ایک خبر پڑھی جس کی وجہ سے آج لاہور میں ہونے والے واقعے کا دیکھ کر دل اور بھی پریشان ہوا۔ میں نے پشاور میں موجود اپنے ایک دوست عمر وزیر سے خبر کی تصدیق کی۔ بندوق صحیح ہاتھوں میں ہو تو یہ وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے، قوم کی حفاظت کرتی ہے، قانون اور قانون پسندوں کی حفاظت کرتی ہے۔ غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو تباہی پھیلا دیتی ہے۔ ہنستے بستے گھر اجاڑ دیتی ہے، وادیوں کو بیابان اور شہریوں کا سکون برباد کر دیتی ہے، خوف و ہراس پھیلا دیتی ہے۔ یہ بندوق ظلم اور جبر کا نشانہ بن جاتی ہے جس کا مظاہرہ 26نومبر2008ء کو ممبئی اور 3مارچ 2009ء کو لاہور کی لبرٹی مارکیٹ میں دیکھا گیا۔ کسی بھی شہر میں تمام شہری تعاون کریں تو امن قائم ہو سکتا ہے۔ ایک بھی شر پھیلانے پر تُل جائے تو صرف ایک بندوق کے زور پر کسی بھی چوک، گھر، دکان، مسجد،مدرسے یا سکول کو نشانہ بنا کر پورے شہر کا امن غارت کر سکتا ہے۔ میں چند روز قبل یہ خبر پڑھ کر دہل گیا کہ صوبہ سرحد میں اے این پی کی حکومت دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے30ہزار رائفلیں تقسیم کرنا چاہتی ہے، سرحد جہاں لوگوں کے پاس اسلحے کی کمی نہیں، بندوق تو کیا کئی گھروں میں راکٹ اور راکٹ لانچر تک موجود ہیں اور چلانے والے بھی ماہر ہیں۔ سرحد میں سکولوں میں باچا خان کے پیروکار طلبہ کالی یونیفارم اور سر پر ’’بیرٹ‘‘ کیپ پہن کر جاتے ہیں جسے غیر مسلح ملیشیا کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں بندوق تھما دی جائے تو باقاعدہ ملیشیا بن جائے گی اور بندوقوں کی تقسیم کے وقت قوی امکان ہے کہ یہ اے این پی کے کارکنوں میں ہی تقسیم کی جائیں گی۔ آج وہاں اے این پی کی حکومت ہے، کل کسی اور پارٹی کی حکومت ہو سکتی ہے۔ کیا یہ لوگ واپس بندوقیں جمع کرا دیں گے؟ اس کا جواب یقینا نفی میں ہے۔ ممبئی کو دس دہشت گرد بندوق کے زور پر تین دن تک یرغمال بنا سکتے ہیں تو یہ تیس ہزار کیا کچھ نہیں کر یں گے۔ اسلحہ کی اس طرز پر تقسیم سے حالات بگڑتے بگڑتے باچا خانی فلسفہ کے پیش نظر علیحدگی کی خوفناک تحریک پر منتج ہو سکتے ہیں۔ جب آپ سرحد میں تیس ہزار رائفلیں تقسیم کریں گے تو آبادی کے تناسب سے پنجاب اور سندھ حکومتیں لاکھوں کی تعداد میں رائفلوں کی ڈیمانڈ کریں گی۔ بلوچستان بھی حصہ بقدر جثہ کی بات کرے گا۔ ایسے میں بات کہاں جا کر کے گی۔پھر ایسے میں فوج اور پولیس چاروں صوبوں میں موجود رائفلوں کے درمیان سینڈوچ بن کر رہ جائے گی۔ اگر اے این پی واقعی صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے اسلحہ تقسیم کرنا چاہتی ہے تو پیپلز پارٹی کی حکومت کی بینظیر سپورٹ سکیم کو مثال بنائے جس نے ہر ایم این اے کو بلاامتیاز اس کی پارٹی وابستگی کے آٹھ ہزار فارم فراہم کیے۔ اے این پی بھی ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو مخصوص تناسب سے اسلحہ کے لائسنس جاری کرنے اور اسلحہ تقسیم کرنے کا ذمہ دار بنائے، واپسی بھی اسی نمائندے کی ذمہ داری میں شامل ہو۔ بلوچستان بھی سرحد کی طرح جل رہا ہے، یہی عمل وہاں بھی دہرایا جانا چاہیے۔ لیکن میری رائے میں سیکورٹی اور امن قائم کرنے کا کام منظم اداروں پر چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ غیرمنظم اور ڈسپلن کے نہ پابند لوگ کبھی بھی حکومتی کمان میں نہیں ہوتے، پولیس اور فوج کو تو حکومت حکم دے سکتی ہے جب لاکھوں رائفلیں پرائیویٹ سیکٹر میں تقسیم ہوں گی تو کون کس کا حکم مانے گا؟ بہتر یہی ہے کہ مرکزی حکومت صوبہ سرحد میں اسلحہ کی تقسیم کی تجویز یا منصوبے کا نوٹس لے اور کرسٹل کلیئر شفافیت کی یقین دہانی تک اس منصوبے پر عمل نہ ہونے دے۔ اے این پی پر مرکزی حکومت کی طرف سے خصوصی نوازشات کا سلسلہ جاری ہے، مفاہمت کے لیے یہ اچھا سائن ہے۔ اے این پی کی طرف سے یہ ملک اور صوبے کے مفاد میں ہونا چاہیے۔ ان کو سب سے بڑا پیکیج صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے کی صورت میں دیا جا چکا ہے۔اے این پی کی حکومت اور راہنما پیپلز پارٹی کے کولیشن پارٹنر ہیں اور وہ اپنا رول بہت ہی احسن طریقے سے نبھا بھی رہے ہیں۔اس لیے میری ان سے بھی التماس ہے برائے کرم اس تجویز کو ایک دفعہ پھر دوراندیشی سے دیکھ لیں کہ کہیں آج یہ چھوٹی سی جذباتی غلطی کل کو ملکی سلامتی کے لیے اور زخموں سے چور پاکستان جس کی فضا اس وقت بارود سے مقتدر ہے کہیں اور پراگندہ نہ کر دے۔میرے خیال میں ہمیں اسلحے بارود کی بجائے پاکستان کے سترہ کروڑ عوام میں امن اور شانتی کے پھول بانٹنا چاہیے ناکہ بندوقیں۔ کیونکہ بندوقیں صرف آگ اگلتی ہیں پھول نہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus