×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ذوالفقار علی بھٹوکی حب الوطنی اور آج کی پیپلز پارٹی
Dated: 05-Jan-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج پاکستان میں جب حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹوکا یوم ولادت بڑے تزک واحتشام اور اہتمام سے منارہی ہے، میں اپنے کاروبار کے سلسلے میں یورپ میں موجود ہوں۔حکومت کی عوام کش پالیسیوں کے باعث بیرون ِ ممالک میں موجود جیالوں کا ہاتھ میرے گریبان تک بھی آجاتا ہے، یہ جانے بغیر کہ میں پیپلزپارٹی میں تو ضرور ہوں لیکن میراحکومتی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں ،میں ان جیالوں میں سے ہوں جن کی قربانیوں کو قیادت نے بری طرح فراموش کرتے ہوئے کھڈے لائن لگا رکھا ہے۔جیالوں کے ساتھ ایسا سلوک شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کیانہ بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔شہید باپ بیٹی نے کارکنوں کو عزت دی بدلے میں کارکنوں اور جیالوں نے اپنی جانوں تک دے دیں۔آج وفادار کارکنوں اور جیالوں کو نظر انداز کرکے دوسری پارٹیوں سے لیڈرشپ مستعار لے کر لوٹا کریسی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ملک کو بحرانوں میں دھکیل کر عوام کو ناراض کیا جا چکا ہے اوپر سے جیالوں کو بھی ساتھ رکھنے کی کوئی کاوش نظر نہیں آتی۔خدا جانے آئندہ انتخابات میں پارٹی کس مقام پر ہوگی؟۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پارٹی کے اتحاد میں بھی دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی وراثت کا دعویٰ کرتے ہیں ، اسی سوچ کے ساتھ مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ اور بیٹا ذوالفقار جونیئر بھی آگے آگئے توبھٹوز کی پیپلز پارٹی شدید انتشار کا شکار ہو جائے گی۔آج پیپلزپارٹی میں جو اتحاد بظاہر نظر آرہا یہ اتحاد نہیں بلکہ مفاد پرستوں کااقتدار کے گرد اجتماع ہے۔نگران حکومت کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی کے اندر کا انتشار کھل کر سامنے آجائے گا۔عوام مخالف پالیسیوں،کارکنوںکو احترام دینے کے حوالے سے اورقومی مفادات پر کمپروز مائز کو دیکھتے ہوئے لگتا نہیں کہ یہ شہیدوں کی پارٹی ہے۔حب الوطنی کے حوالے سے میری پارٹی کے رہنمائوںکی سوچ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی ذوالفقار علی بھٹوکی جیل کی سوچ سے مختلف ہے۔آج حب الوطنی کا شہکار وہ خط میرے سامنے ہے جو شہید بھٹو نے پھانسی کی کال کوٹھڑی سے جولائی 1978کوفرانس کے صدر جسکارڈ کو لکھا تھا۔اس کی عبار ت جناب بھٹو کے ان جذبات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے جو وہ عام حالات میں اپنی قوم اور ملک کے بارے میں رکھتے تھے اس خط سے جناب بھٹو کے بارے میں کئے گئے اس دعوے کی بھی تائید ہوتی ہے کہ وہ موت کی کال کوٹھڑی میں بھی صرف ملک اور قوم کے بارے میں ہی سوچتے رہے۔ ( یہ خط ’’دی ہندوستان ٹائمز‘‘ نے اپنی 16 اپریل 1979ء کی اشاعت میں رائٹر کے حوالے سے شائع کیاتھا)ملاحظہ کیجئے۔ ’’اگر موت کی اس کال کوٹھڑی سے جس پر سخت ترین حفاظتی پہرہ ہے ہاتھ باہر نکالنا اتنا مشکل نہ ہوتا تو میں آپ کو اپنے جذبات سے آگاہ کرنے کے لئے بہت پہلے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا۔اس وقت جب کہ میں زندگی اور موت کے ترازو میں جھول رہا ہوں، مسٹر صدر آپ جانتے ہیں میرا فخر اور دل کی سچائی آپ کے مفکرانہ لگائو کے نتیجے میں ممنونیت کے اظہار پر پیش رقت مجبور کر رہی ہے خواہ کچھ بھی ہو لیکن میں یہ کہنا ضرورت سمجھتا ہوں کہ ایک معصوم آدمی کی عزت بچانے کے لئے آپ نے جس تردد کا مظاہرہ کیا ہے اس سے آپ اور آپ کے ملک کے عوام نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں۔فرانس 1781ء سے پہلے خاص طور پر اور اس کے بعد عام طور پر مغربی تہذیب کا عظیم مرکز رہا ہے۔ لگ بھگ 1958ء تک فرانس جنت کی نظیر بنا رہا ہے۔ اس سے پہلے مجھے یورپ کے بارے میں اس انداز سے لکھنے کا موقع نہیں ملا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یورپ کے وہ سامراجی عزائم ہیں جس کے سامنے میں ہمیشہ سینہ سپررہاہوں۔ آپ نے کمیونسٹ چیلنج کا براہ راست اپنی ٹیکنالوجی اورٹیکنک کے ساتھ مقابلہ کیا ہے خارجی طور پر دفاع کو تقویت بخش کر طاقت کا توازن قائم کر لیا ہے۔کمیونسٹ ریاستوں کے ساتھ آپ کے روابط کی حالت حوصلہ کن ہے روس اور چین کے ساتھ آپ کے تعلقات کا توازن خاص طور پر قابل ذکر ہے۔داخلی طور پر یورو کمیونزم اوراسی قسم کے دوسرے نظام حکومت کے اثرات کی وجہ سے فوجی بغاوت کی اس ’’چیونگم‘‘ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا عظیم فیصلہ درپیش ہے۔ جسے ان فوجی ڈکٹیٹروں نے جنم دیا ہے جو قانون کی بحالی کے نام پر حکومتوں کا تختہ الٹتے لیکن لاقانونیت کو رواج دیتے ہیں یہ لوگ آئینی اتھارٹی کو کمیونزم کی دھمکی کے نام پر اختیار کرتے اور خود کمیونزم کی وجوہا ت پیدا کرتے ہیں ان کی پشت پناہی کی وجہ سے یورپ نے خود اپنے اندر تباہی کے بیج بوئے ہیں اور یہی طبعی مساوات میں بنیادی اختلاف ہے ہو سکتا ہے کہ آپ میرے اس خیال سے اتفاق نہ کریں کیونکہ فرانس نے دو غیر معمولی پیشہ ور سپاہی پیدا کئے ہیں جن کی قیادت میں آپ کے ملک کے قابل ذکر ترقی کی۔1۔ نپولین بوناپارٹ2۔ چارلس ڈیگال۔ مذکورہ بالا تیسری دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے لیکن میں فی الحال صرف اپنے ملک کی بات کروں گا وادی سندھ کی تہذیب بڑی قدیم اور پروقار ہے لیکن اس وقت یہ وادی ایک بیمار پانی سے سیراب ہو رہی ہے۔ کہ یہاں کے باشندوں کو خوف اور دہشت کی بہت لمبی راتوں کا سامنا کرناپڑا ہے۔آزادی سے لے کر اب تک یہ ملک تین بارفوجیوں کی حکومت کے تجربے سے گزرا ہے سریاب فوجی بغاوت اس ملک کو پہلی فوجی بغاوت کے دور سے بھی کمزور تر کرتی رہی ہے اگر یہی حادثے بھارت کو پیش آتے تو وہ اب تک تین یا چارٹکڑوں میں تقسیم ہوچکا ہوتا۔جی ہاں لاقانونیت تو ہندوستان میں بھی ہے لیکن وہاں جمہوریت کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ ان کا بڑے سے بڑا سیاستدان بھی ہمارے ڈکیٹروں سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ میں عظیم فتوحات کا امین ہوں اور میری رگوں میں جنگجو بہادروں کا خون دوڑ رہا ہے میں نے دو بار فوجی آمریت کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور آخر کار تیسرے میں موت کے گھاٹ اتارے جانے کا حکم پا چکا ہوں۔ لیکن اگر مجھے قتل کیا جاتا ہے تو میرا لہو برصغیر کے نوجوان مردوں اور عورتوں کے چہروں پر ایسی سرخی بن کر ابھرے گا جیسی بہار کے موسم میں فرانسیسی گلاب کی پتیوں میں ہوتی ہے۔ میں پندرہ سال کی عمر سے آزادی کے لئے غیر متزلزل جنگ لڑ رہا ہوں میں نے نہرو اور قائداعظم کے شانہ بشانہ کام کیا ہے میں نے ڈیگال کو ان کے عروج کے زمانے میں دیکھا ہے مجھے مائوزے تنگ کی عزت کا شرف بھی حاصل ہوا ہے میری سیاست رومانس اور شاعری کا امتزاج ہے۔ میں نے آج تک سوائے عوام کے کسی سے محبت نہیںکی۔ اسی لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں یہ کوئی سیاسی سلوگن نہیں بلکہ میرا غیر فانی استعارہ ہے۔چاہے مغرب کی خود غرض طاقتیں اور مشرق کے اندھے خواہش مند انسان کو تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر لے جائیں انسان اس چتا کے جشن کی راکھ سے اور بھی زیادہ طاقتور ہو کر ابھرے گا۔ سب سے زیادہ خوبصورت بات یہ ہے کہ ایک مرے ہوئے شخص کے لئے مرنے میں فتح سمجھی جائے گی اور مرنے والے کی قبر سے فتح و نصرت کے پھول اگیں گے۔لہٰذا مسٹر پریذیڈنٹ اگر میں زندہ رہا تو میں ہرحال میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا خواہ اس کے لئے مجھے کتنی بھی بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑے۔ عوام کی بھلائی کے لئے میری مقاصد کے حصول کی خاطر میرے خاندان کو ناقابل برداشت حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔جہاں تک اس علاقہ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کا تعلق ہے تو میرے خیال میں ان پر بحث کرنے سے پہلے ان خطرات کا ذکرزیادہ ضروری ہے کہ جن کا پاکستان کواندرونی طور پر سامنا ہے پاکستان کو اندرونی خطرات سے بچانا پہلی ضرورت ہے۔ بہ نسبت خود کو کسی نئے یا پرانے یا نئے اور پرانے ہر دن خطرے سے آگاہ کرنے کے دوسرے الفاظ میں پہلے کام پہلے۔آپ کے ملک سے میری محبت کو بھی آپ جانتے ہیں اور آپ سے متعلق میں جو تعریفی جذبات رکھتا ہوں انہیں بھی آپ جانتے ہیں اگر میں زندہ رہا تو ہم بلاشبہ انسانیت کی بھلائی کے اقدامات سے حاصل ہونے والی خوشیاں مشترکہ طور پر محسوس کریںگے۔لیکن اگر میں مارا جاتا ہوں تو میں آپ کو دوبارہ ملنے تک کے لئے اس دعا کے ساتھ خدا حافظ کہتا ہوں کہ میرے ملک کے لوگوں کو مفلسی، بے بسی، بے کسی اور بھیک مانگنے سے بچانے کے لئے جو پیش رفت ہم نے کی تھی اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بہتر لوگ آئیں۔’’قاتل قرار دیئے شخص کی حیثیت سے میں اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ میں آپ کو دوست کہوں۔ سمندر جیسی وسیع عزت اور گہرے لگائو کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو ‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus