×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دو قومی نظریہ اور حکمرانوں کی نالائقیاں
Dated: 01-Jan-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com عوامی مسائل سے اغماض برتنے والی حکومت بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے لیے ہنوز پُرعزم ہے۔ اکتوبر2011ء میں حکومتی سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ بھارت کو یکم جنوری 2013ء کو پسندیدہ ملک قرار دے دیا جائے گا۔ اس کے لیے تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ بھارت کو یہ درجہ دینے کے لیے محض کابینہ کے اجلاس سے رسمی منظور لینا باقی تھی۔ وہ اس لیے نہ لی جا سکی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے باعث وزرا ء مصروف تھے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا آغاز وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کے ذریعے کیا گیا انہوں نے چند روز قبل اپنے بھارتی ہم منصب کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان بدستور بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے پر تیار ہے۔ اب حکومت کی طرف سے فی الحال بھارت کو MFNکا درجہ دینے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اب نہیں تو چند روز بعد اس فیصلے کو عملی جامہ پہنا دیا جائے گا جس کے لیے عوامی رائے لی گئی نہ قوم کے جذبات کااحترام کیا گیا۔ کچھ لوگ دو قومی نظریہ کی مخالفت اور اس حوالے سے مقتول بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے رعونت بھرے اس بیان کی حمایت کرتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹنے سے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈو ب گیا۔ دو قومی نظریہ اگر کسی نے زندہ جاوید دیکھنا ہو تو وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچوں میں نظر آ جاتا ہے۔حتیٰ کہ نابینا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کو تیزاب تک پلا دیا جاتاہے۔ میچ کرکٹ کا ہو ہاکی یا کسی بھی گیم کا۔ میدان کے اندر کھلاڑی ٹینشن کا شکار ہوں نہ ہوں گرائونڈ میں موجود شائقین اور ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھے ناظرین میچوں کو زندگی موت کا مسئلہ سمجھ کر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بھارتی کھلاڑیوں کی برتری دیکھ پاکستانی شائقین حاضرین اور ناظرین پژمردہ ہوتے ہیں تو پاکستان کی برتری دیکھ کر بھارتیوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ شکست کی صورت طرفین عموماً مشتعل ہو کر جلائو گھیرائو کرتے اور کھلاڑیوں کے پتلے تک جلانے سے گریز نہیں کرتے۔ جیت کی صورت میں ایئرپورٹ پر والہانہ استقبال کے لیے موجود ہوتے ہیں، شکست پر کھلاڑیوں کے گریبان بھی پکڑ لیتے یں۔ شائقین میں مڈبھیڑ ہو تو جو تم بیزار ہوتے بھی دیکھا گیا ہے۔ یہ ہے زندہ جاوید دو قومی نظریہ۔ پاکستان اوربھارت کے مابین سب سے بڑا بنیادی اور خطے کے امن کو دائو پر لگانے والا ایشو مسئلہ کشمیر ہے۔ کشمیری اپنی آزادی کی خاطر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ اس مسئلہ پر پاکستان کا دیرینہ موقف کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دینا ہے۔ اس سے کوئی بھی سیاستدان ، بیوروکریٹ اور حکمران انحراف نہیں کر سکتا ایساکرے گا تو اس کی پاکستانیت پر سوال اٹھے گا۔ آج ہمیں ایسا ہوتا ہوا نظر آ گیا ہے۔ وہ دشمن جوآج بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتا اس کے ساتھ تجارت ہو رہی۔ تعلقات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ دوستی کے عہدوپیمان ہوتے ہیں۔ اب اسے MFN کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں بانیانِ پاکستان کی روح کیوں تڑپ تڑپ نہیں جاتی ہو گی۔ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے تو کالاباغ ڈیم سے پاکستان کی بقا منسلک ہے۔ تمام ماہرین بلاامتیاز کالاباغ ڈیم کی افادیت کے قائل ہیں۔ بدقسمتی سے قومی مفاد کے بہترین منصوبے کو متنازعہ بنا دیا گیا۔ بھارت پاکستان آنے والے دریائوں پر بند باندھ کر پاکستان کے حصے کا پانی پاکستان ہی کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ کبھی پانی کو اپنے ڈیموں میں منتقل کرکے پاکستان کو خشک سالی سے دوچار کرکے اور کبھی ڈیموں کے دروازے کھول پرپاکستان کو پانی میں ڈبو کر۔ دونوں صورتِ احوال سے نمٹنے کا بہترین منصوبہ کالاباغ ڈیم ہے جس میں سیلابوں کا پانی جمع کرکے ضرورت کے مطابق اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اسی ڈیم سے 4ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہو گی۔اس منصوبے کو سیاست کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے سیاستدان سیاسی مفادات سمیٹ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس منصوبے کو دریائے سندھ میں ڈبو دینے کا اعلان کیا۔ ہائی کورٹ نے اس کی تعمیر کا حکم دیا تو مخالفین آپے سے باہر ہو گئے جو اس منصوبے کے حامی تھے وہ بھی انتخابات کو سر پر دیکھ کر اتفاق رائے کی تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ پنجاب میں کالاباغ ڈیم پر ٹون اور ،سندھ اور بلوچستان میں اور ہوتی ہے ۔اس منصوبے پر کوئی بھی پارٹی اپنی مرضی قوم پر مسلط نہیں کر سکتی۔ مخدوم احمد محمود گورنر پنجاب لائے گئے ہیں تو ان کی ہر بات کی تان بہاولپورصوبہ کی بحالی اور سرائیکی صوبہ کے قیام پر ٹوٹتی ہے۔اگر موصوف گورنر کو بہاولپور صوبے کی بحالی یا پنجاب کو تقسیم کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر انہوں نے متحدہ پنجاب کا گورنر بننا کیسے قبول کیا؟کیا یہ دوہری اور انتہائی نچلی سطح کی منافقت نہیں ہے کہ موصوف گورنر کہتے ہیں کہ میں پیپلزپارٹی کا جیالا بھی نہیں بنوں گا اور پیپلزپارٹی کو فائدہ بھی پہنچائوں گا۔سابق وزیراعظم گیلانی جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے زبردست حامی رہے۔ ان کے دور میں ہنگامہ آرائی کے دوران قومی اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کرا لی گئی۔ پنجاب اسمبلی نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے ساتھ ساتھ صوبہ بہاولپور کی بحالی کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی۔ ابھی صوبوں کے قیام کا عمل پوری طرح سے شروع بھی نہیںہوا تھا کہ سندھ کی تقسیم کی تجویزیں سامنے آنے لگیں۔ بلوچستان کے حصے بخرے کیے جانے کے مطالبات سامنے آ گئے۔ ہزارہ والے صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے بعد اپنے لیے الگ صوبے کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ کسی نے پوٹھوہار اور کسی نے سالٹ رینج کو صوبے کا درجہ دینے پر زور دیا۔ خیرپور،قلات اور سوات بھی کل صوبائی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ صوبے اگر بنانے ضروری ہیں تو انتظامی ضرورت کے مطابق بنائیں، لسانی بنیاد پر نہیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ ڈوبتی ہوئی ملکی معیشت ایسی عیاشی کی متحمل بھی ہو سکتی ہے۔ اگر جواب ہاں میں ہے تب بھی کسی کے پاس ایسا کرنے کا مینڈیٹ نہیں۔ بھارت کو پسندیدہ قرار دینا، کالاباغ ڈیم کی مخالفت اور نئے صوبوں کے قیام کی بے تابی ،یہ نہایت اہم قومی معاملات ہیں۔ ان پر حتمی رائے قائم کرنے یا فیصلہ کرنے کا کسی کو اختیار اور حق حاصل نہیں ۔ہر پاکستانی یہ جانتا ہے کہ دوقومی نظریے کے بغیر پاکستان کی سالمیت کاسوچنا بھی دیوانے کی ’’بڑ‘‘ کے مترادف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر سیاسی جماعت کو اپنے اپنے منشور کے مطابق سیاست کرنے کا حق حاصل ہے لیکن خدا را اسے ذاتی مفادات کی بھینٹ مت چڑھائیں۔ ان اہم ایشوز پر ریفرنڈم کرایاجائے یا ہر پارٹی انہیں اپنے منشور کا حصہ بنا کر عوام کے سامنے رکھے اور انتخابات میں عوامی رائے کا انتظار کرے ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus