×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کرپشن حکمرانوں کا ٹریڈ مارک بن گیا، انتخابات میں کیا ہوگا؟
Dated: 22-Jan-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com چند دن سے میں یورپ میں ہوں، میرا جس ملک اور شہر میں جانا ہوا پاکستانی مجھے جیالا سمجھ کر پاکستان میں گورننس کے بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ بعض غصے میں کڑوی کسیلی سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے، بعض کا بس چلے تو گریبان پکڑ لیں۔ خدا لگتی بات ہے کہ میں ان کے جذبات کو درست سمجھتا ہوں اور میرے پاس اپنی اور شہیدوں کی پارٹی کے دفاع میں کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حکمران جماعت کا ٹریڈ مارک کرپشن بن چکا ہے۔ میگاکرپشن، اربوں اور کھربوں کی کرپشن، جس میں معمولی اہلکار سے لے کر اعلیٰ ترین عہدیدار سمیت سب برابر کے شریک ہیں۔لوگوں کے ذہن میں یہ بات پختہ ہو چکی ہے جو جتنا بڑا عہدیدار ہے وہ اتنا ہی بڑا کرپٹ ہے۔ بلاامتیاز اس کے سیاستدان اور بیوروکریٹ ہونے کے۔ ایک وزیر کے اکائونٹ میں کوئی 18کروڑ روپے رکھ گیا۔ وزیر صاحب کو نہیں معلوم کہ رقم کس نے رکھی اور کیوں رکھی لیکن وہ اس سے دستبردار ہونے کو بھی تیار نہیں۔ ایک اوگرا کا چیئرمین80ارب روپے لے اڑا، اس کو ملک سے فرار کرنے میں ایک سینیٹر کی گاڑی استعمال ہوئی دونوں ہنوز محفوظ ہیں۔ کراچی میں شاہ زیب کے مبینہ قاتل کو دبئی سے گرفتار کر لیا گیا۔ اوگرا کو 80ارب کا ٹیکہ لگانے والے کی گرفتاری معمہ بنی ہوئی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی موجودگی میں مفرور اور فرار کرنے والا دونوں محفوظ رہیں گے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی خاندان سمیت لوٹ مار کرنے کی داستانیں میڈیا میں لکھی جاتی رہیں۔ موجودہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو سپریم کورٹ نے رینٹل منصوبوں میں کرپشن میں ملوث قرار دے کر گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ان کی کرپشن سے اسی حکومت کی اتحادی جماعت کے لیڈر فیصل صالح حیات پردہ سرکاتے رہے ہیں۔ خود صدر پاکستان پر بھی کرپشن کے الزامات کچھ کم نہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف پہلے صدر صاحب کو چوروں کا سردار علی بابا قرار دیا کرتے تھے اب ان کو ان کی ٹیم کو زربابا اور چالیس چوروں کے نام سے پکارتے ہیں۔ کرپشن کی کہانیاں جو میڈیا لکھ رہا ہے اور مخالف جو الزام لگا رہے ہیں ان کے خلاف کسی نے کبھی بھی کسی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر نہیں کیا، اس سے ہر پاکستانی الزامات کو سچ سمجھنے میں حق بجانب ہے۔ بلوچستان میں گورنر راج لگا تو وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ ان کو ریکوڈک منصوبے میں اربوں ڈالر کی کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بننے کی سزا دی گئی۔ اس منصوبے کے ٹھیکے ذوالفقار مگسی کے دورِ اقتدار میں ہی دیئے گئے تھے۔ اب وہ پھر گورنر راج میں کلی طور پر بااختیار ہونے کے باعث جو بھی چاہیں گے کریں گے۔ مرکزی حکومت نے کیا اسی لیے گورنر راج لگایا اور مگسی کو باختیار گورنر بنایا؟ اسلم رئیسانی کو غلط اور غیرذمہ دار کہا جا سکتا ہے لیکن ان کے اس بیان کو سرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو ریکوڈک منصوبے میں مرضی کے فیصلے کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ مجبور کرنے والے مرکز کے علاوہ کون ہو سکتا ہے؟ آخر کرپشن کا سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔ خود چیئرمین نیب نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ بارہ سے چودہ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ماہانہ 800ارب روپے کی لوٹ مار کی بات کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی پاکستان میں کرپشن کے انتہا کو پہنچنے کی رپورٹ منظر عام پر لا چکی ہے۔ کرپشن ہی کی وجہ سے آج قوم و ملک بدترین بحرانوں میں مبتلا ہیں۔ سردیوں میں گیس دستیاب نہیں اور گرمیوں میں بجلی کی شدید قلت ہوتی ہے۔ اب عجب صورت حال ہے بجلی سردیوں میں بھی نایاب ہے۔ حالانکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے لیکن کمپنیوں کو پیسہ دینے کے بجائے یہ حکام کی جیب میں چلا جاتاہے۔انتخابات کے انعقاد میں زیادہ سے زیادہ تین ماہ کا عرصہ ہے لیکن حکومت کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کا کوئی قدم اٹھتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ حکمرانوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں اور شاید یہ عام انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کیے بیٹھے ہیں یا اس امید پہ ہیں کہ ہر ایم این اے نے اربوں کھربوں روپے بنائے ہیں وہ ان سے کچھ خرچ کرکے اپنی اپنی سیٹ جیت جائیں گے لیکن انہیں شاید عام آدمی کے اشتعال کا ادراک نہیں ہے، اس کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہے۔ لوگ تو بھوکوں مر رہے ہیں ۔ متوسط طبقہ پسماندہ طبقے میں شامل ہو رہا ہے اور غریب مفلسی کی لکیر پر پہنچ رہے ہیں۔ اس انجام سے دوچار کرنے والوں کو وہ کیونکر دوبارہ اپنے سر پر سوار کریں گے؟ پیپلزپارٹی یقینا پورے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے الیکشن لڑے گی ۔ بعض لیڈروں کو یہ یقین بھی ہے کہ نگران سیٹ اپ جتنا بھی غیرجانبدار ہو، صدر تو ہمار اہی ہوگا اس لیے بھی ان کو ووٹر کی پرواہ نہیں۔ ویسے بھی سابق اور موجودہ وزیراعظم، وزراء، مشیروں اور ان کے حواریوں نے انفرادی طور پر بیرونِ ممالک اربوں کی جائیدادیں، گھر اور کاروبار بنا لیے ہیں۔ جو جیت گئے وہ تو یہیں رہیں گے، ہارنے والے فیملیز سمیت بیرونِ ممالک منتقل ہو جائیں گے۔یہی ان کا ایجنڈا نظر آتا ہے۔ میری آج بھی حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے مخالفوں سے باری کے مک مکا کے بجائے عوام کو ریلیف دے کر شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کو بچانے اور ایک مرتبہ پھر اقتدار میں لانے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے کارکنوں کی مایوسیوں اور محرومیوں کو دور کرکے فعال اور متحرک کرنا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus