×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
Dated: 25-Jan-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com محسن انسانیت ، رہبر آدمیت، سیّد عرب و عجم ، ہادی عالم، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی ولادت باسعادت اور دنیا میں تشریف آوری ایک ایسا تاریخ ساز لمحہ اور عظیم انقلاب ہے ، جس نے کائنات کو ایک نئی جہت ، نیا موڑ اور فلاح و کامرانی کا ایک نیا دستور عطا کیا۔انسانیت کو جینے کا حوصلہ اور زندہ رہنے کا سلیقہ عطا کیا۔ اس نور مبین کی آمد سے عالم شش جہات کا ذرّہ ذرّہ اور حیات انسانی کا گوشہ گوشہ جگمگانے لگا۔ ظلم ، جہالت، ناانصافی ، کفر و شرک اور بت پرستی میں مبتلا انسانیت مثالی ضابطہ حیات، احترام انسانیت کے شعور سے باخبر، عدل کی بالادستی کے تصوّر سے آگاہ اور ایمان کے نور سے منور ہوئی۔ عالم انسانیت کی خزاں رسیدہ زندگی میں پرکیف بہار آئی۔ ایمان کی دولت نصیب ہونے سے بندگان خدا کو وہ منزل ملی ، جس سے توحید کا نور عام ہوا اور کفر و شرک کی تاریکی چھٹ گئی۔ علامہ شبلی نعمانی کے الفاظ میں : " آج کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیر کہن سال دہرنے کروڑوں برس صرف کر دیے۔ سیارگان فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے۔چراغ کہن مدّت ہائے دراز سے اسی صبح جاں نواز کے لئے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کارکنان قضا و قدر کی بزم آرائیاں، عناصر کی جدّت طرازیاں ، ماہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں ،ابر و باد کی تردستیاں ، عالم قدس کے انفاس پاک ، توحید ابراہیم ، جمال یوسف ، معجز طراز موسیٰ ، جاں نوازی مسیح (ع)، سب اسی لئے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے دربار میں کام آئیں گے۔آج کی صبح۔۔۔ وہی جاں نواز، وہی ساعت ہمایوں ،وہی دورفرخ فال ہے۔ آج کی رات ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے گرگئے، آتش کدہ فارس بجھ گیا۔ دریائے ساوہ خشک ہوگیا، لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسریٰ ہی نہیں ، بلکہ شان عجم ، شوکت روم، اوج چین کے قصرہائے فلک بوس گر پڑے ، آتش کدہ فارس ہی نہیں ، بلکہ آتش کدہ کفر، آزرکدہ گمراہی سرد ہوکر رہ گئے۔ صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی۔ بت کدے خاک میں مل گئے ، شیرازہ محبوسیت بکھر گیا ، نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کرکے جھڑگئے۔توحید کا غلغلہ اٹھا ، چمنستان سعادت میں بہار آگئی، آفتاب ہدایت کی شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں۔ اخلاق انسانی کا پرتو قدس سے چمک اٹھا۔یعنی یتیم عبداللہ، جگرگوشہ آمنہ ، شاہ حرم، حکمران عرب ، فرماں روائے عالم ، شہنشاہ کونیں عالم قدس سے عالم امکان میں تشریف فرما ہوئے۔ اللّہمّ صلّ علیہ و علی الہ و اصحابہ و سلّم۔ ( شبلی نعمانی / سیرت النبّی ) آپ ﷺکی ولادت سے متعلق بہت سے ایسے اموررونماہوئے جوحیرت انگیزہیں مثلاآپ کی والدہ ماجدہ کوبارحمل محسوس نہیں ہوااوروہ ولادت کے وقت کثافتوں سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ تھے آپ کے ظہورفرماتے ہی آپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا، بروایت ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ھ شیطان کورجم کیاگیااوراس کاآسمان پرجانابندہوگیا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے تمام دنیامیں ایسازلزلہ آیاکہ تمام دنیاکے کنیسے اوردیگر غیراللہ کی عبادت کرنے کے مقامات منہدم ہوگئے ، جادواورکہانت کے ماہراپنی عقلیں کھوبیٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ایسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہیں کسی نے کبھی نہ دیکھاتھا ساوہ کا دریا خشک ہوگیا وادی سماوہ جوشام میں ہے اورہزارسال سے خشک پڑی تھی اس میں پانی جاری ہوگیا، دجلہ میں اس قدرطغیانی ہوئی کہ اس کاپانی تمام علاقوں میں پھیل گیا کاخ کسری ٰمیں پانی بھر گیااورایسازلزلہ آیاکہ ایوان کسری کے ۴۱ کنگرے زمین پرگرپڑے اورطاق کسری شگافتہ ہوگیا، اورفارس کی وہ آگ جوایک ہزارسال سے مسلسل روشن تھی، فورابجھ گئی۔(تاریخ اشاعت اسلام دیوبندی ۸۱۲ طبع لاہور) اسی رات کوفارس کے عظیم عالم نے جسے (موبذان موبذ)کہتے تھے، خواب میں دیکھاکہ تندوسرکش اوروحشی اونٹ، عربی گھوڑوں کوکھینچ رہے ہیں اورانہیں بلادفارس میں متفرق کررہے ہیں، اس نے اس خواب کابادشاہ سے ذکرکیا۔ بادشاہ نوشیرواں کسری نے ایک قاصدکے ذریعہ سے اپنے حیرہ کے گورنرنعمان بن منذرکوکہلابھیجاکہ ہمارے عالم نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھاہے توکسی ایسے عقلمنداور ہوشیار شخص کومیرے پاس بھیج دے جواس کی اطمینان بخش تعبیردے کر مجھے مطمئن کرسکے۔ نعمان بن منذرنے عبدالمسیح بن عمرالغسافی کوجوبہت لائق تھابادشاہ کے پاس بھیج دیانوشیروان نے عبدالمسیح سے تمام واقعات بیان کئے اوراس سے تعبیر کی خواہش کی، اس نے بڑے غوروخوض کے بعد عرض کی’’اے بادشاہ شام میں میراماموں ’’سطیح کاہی‘‘ رہتاہے وہ اس فن کابہت بڑاعالم ہے وہ صحیح جواب دے سکتاہے اوراس خواب کی تعبیربتاسکتاہے۔ نوشیرواں نے عبدالمسیح کوحکم دیاکہ فوراشام چلاجائے چنانچہ روانہ ہوکر دمشق پہنچااوربروابت ابن واضح ’’باب جابیہ‘‘ میں اس سے اس وقت ملاجب کہ وہ عالم احتضارمیں تھا، عبدالمسیح نے کان میں چیخ کراپنامدعا بیان کیا۔ اس نے کہاکہ ایک عظیم ہستی دنیامیں آچکی ہے جب نوشیرواں کی نسل کے ۱۴ مردوزن حکمران کنگروں کے عدد کے مطابق حکومت کرچکیں گے تویہ ملک اس خاندان سے نکل جائے گا ثم’’ فاضت نفسہ‘‘ یہ کہہ کر وہ مرگیا۔(روضہ الاحباب ج ۱، ص ۶۵، سیرت حلبیہ ج ۱ ص ۳۸ ، حیات القلوب ج ۲ ص ۶۴ ، الیعقوبی ص ۹) ۔ آج ہم مسلمان پوری دنیا میں اس ہستی کا یو م ولادت پورے جوش ولولے اور احترام سے منا رہے ہیں جن کے بارے میں حافظ شیرازی نے کیا خوب کہا ہے؛ یا صاحب الجمال و یا سید البشر من وجہک المنیر لقد نور القمر لا یمکن الثنا کما کان حقہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ہمیں نبی کریم ﷺکا یوم ولادت واقعی شان وشوکت سے منانا چاہیے لیکن نبی محترم ومکرم ﷺکو خراج عقیدت پیش کرنے اور آپﷺکا قربت حاصل کرنے کا بہترین طریقہ آپﷺ کے اسواء حسنہ پر کاربند رہنا ہے۔ کیا ہم ایسا کررہے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus