×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بند گلی
Dated: 15-Mar-2009
میاں قاسم ضیاء صاحب سے میری دوستی کا آغاز شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی معرفت ہی ہوا۔ایک دن ہم شہید محترمہ کے ہمراہ امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدے دارسے ملنے کے لیے گئے تو محترمہ نے ساتھ موجود قاسم ضیاء کا تعارف اس طرح کروایا کہ یہ ہاکی کے اولمپیئن ہیں اور ہم ان کو سیاست میں لے کر آئے ہیں یہ ہمارے قابل اعتماد ساتھی ہیں۔امریکن کانگرس مین نے کہا مجھے یقین ہے کہ یہ یقینا سیاست میں بھی گول کریں گے۔اور آج ان کی مدبرانہ گفتگو سن کر احساس ہوا کہ قاسم ضیاء جو کہ آئندہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں ملکی مفاد اور سلامتی کو سب سے مقدم جانتے ہیں۔دو دن پہلے ایک لنچ کے دوران بیٹھے ہوئے گورنر پنجاب کے علاوہ قاسم ضیاء،راجہ پرویز اشرف،امتیاز صفدر وڑائچ، رانا آفتاب احمد، میاں منظور وٹو،تسنیم قریشی،سمیع اللہ،اورنگ زیب برکی اورملک حفیظ الرحمن بھی موجود تھے۔ ان حضرات کی گفتگو سے مجھے کسی بھی مرحلے پر محسوس نہیں ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد اپنے منشور سے روگردانی کر رہی ہے۔ان میں سے ہر کوئی ہر حال میں جمہوریت کی گاڑی کا پہیہ چلتے رہنے پر متفق تھا۔ زیادہ تر پنجاب کی سیاسی صورت حال زیربحث رہی۔ سب کی خواہش تھی کہ پنجاب میں اکثریت شو کرنے والی پارٹی کو حکومت سازی کا موقع ملنا چاہیے۔ کئی جوازوںکے باوجود کوئی بھی گورنر راج کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں تھا۔ خود گورنر بھی اسے پسندیدہ نہیں سمجھتے۔ وطن عظیم میں اگر کچھ لوگ جمہوریت کی آبیاری کرنا چاہتے ہیں تو ایسے بھی ہیں جو سیاست اور جمہوریت کو بند گلی میں لے جانا چاہتے ہیںجہاں واپسی کی تمام راہیں محدود اور مسدود ہو جاتی ہیں۔ مجھے آج بھی دسمبر 2000ء اور جنوری 2001ء کے وہ دن یاد ہیں جب میں امریکہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھا۔ امریکہ میں صدارتی الیکشن ہو چکے تھے۔ یہ غالباً امریکی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ صدارتی نتائج متنازعہ ہوئے۔ بات سپریم کورٹ تک پہنچی، جس نے سماعت کے لیے 20دن بعد کی تاریخ دی۔ الگور کو بش پر معمولی برتری حاصل تھی۔ قوی امکان تھا کہ ڈیموکریٹک جج الگور کے حق میں فیصلہ دیتا۔ (امریکہ میں جج سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈیموکریٹک اور ری پبلکن کہلاتے ہیں)لیکن الگور نے اس کے باوجود سپریم کورٹ سے اپنی درخواست یہ کہہ کر واپس لے لی کہ میرا ملک متنازعہ نتائج کی وجہ سے 20 دن تک عدم استحکام کا شکار رہا تو امریکی معیشت ڈوب جائے گی۔ الگور نے اپنے ملک کی خاطر صدارت وہ بھی دنیا کی واحد سپر پاور کی صدارت کی قربانی کی کڑوی گولی نگل لی۔ جب میں الگور جیسے سیاستدانوں کا اپنے ملک کے سیاستدانوں سے موازنہ کرتا ہوں تو مجھے ڈھونڈنے سے بھی شاد ہی کوئی ایسا رہنما ملتا ہو جو ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کروطن عظیم کے لیے معمولی قربانی پر آمادہ ہو۔ ہم نے ججوں کا کردار بھی دیکھ لیا فیصلہ سننے والوں اور اسے تسلیم نہ کرنے والوں کا بھی۔ میں ان کو دیکھتا ہوں تو ذہن میں سوال ابھرتا ہے یہ لوگ میری طرح کیوں نہیں سوچتے؟ 9مارچ 2007ء سے 9مارچ2009ء تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ اس دوران پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی راہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ 561 کارکنوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ سانحہ کراچی،لیاقت باغ اور اسلام آباد اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔ ہمارے روپے کی قدر 50فیصد تک گر گئی۔ اس دوران آٹے، گندم،چاول،تیل، بجلی، گیس اور سیمنٹ کے بحران ہمیں ورثے میں ملے۔ اس کی وجوہات سابق حکمرانوں کی پوری توجہ اپنا اقتدار بچانے اور اسے طویل تر بنانے کے منصوبوں پر مبذول تھی۔ ہمارے جن دوستوں نے 2008ء کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا انہوں نے ترقی و خوشحالی کی ٹرین کو ریورس گیئر میں ڈال دیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پانچویں اہم ستون میڈیا میں کچھ ذمہ داروں (نوائے وقت گروپ نہیں) کو آزادی صحافت راس نہیں آ رہی یہ لوگ خبر بتانے کے بجائے خبر بنانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ یہ رویہ افسوس ناک ہے جس سے جمہوریت کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں گزارا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں جہاں دوسرے قوانین ہوتے ہیں وہاں میڈیا کے لیے بھی قوانین ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں پیمبرا کو ایک گالی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ میڈیا کو سیلف کنٹرول سسٹم کے تحت اپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔اگر ملک کے اندر اس وقت ٹرینڈاور قابل سٹاف کی کمی ہے تو اس کمی کو دیارِ غیر میں بسنے والے ان پاکستانی جرنلٹس اینکر پرسن اور میڈیا سے متعلقہ دیگر کوالیفائیڈسٹاف امپورٹ کیا جا سکتا ہے۔آج جب بھی کوئی محب وطن پاکستانی ٹی وی چینل آن کرتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اینکر پرسن یا تو گیسٹ کے منہ میں اپنی زبان ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے یا دو مہمانوں کو آپس میں لڑانے کی حتی الامکان کوشش۔ہم صحافت میں نقل تو ترقی یافتہ قوموں سے بھی بڑھ کر کرتے ہیں مگر ہمارے وسائل اور ہمارا لٹریسی ریٹ حتی کہ ایشیا کے اندر بسنے والے بے شمار ممالک کے مقابلے میں انتہائی نچلی سطح پر ہے اور کچھ میڈیا باس تو کہتے سنے گئے ہیں کہ اب پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ہم کیا کریں گے۔ان حالات میں پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے بس کچھ ادارے میڈیا کے ساتھ مل کر عنانِ حکومت سنبھال لے اور باقی سب سیاستدانوں کو جبری رخصت پر بھیج دیا جائے۔ بربادی کا میرے کیا پوچھتے ہو دوست تھوڑی سی خاک ہوا میں اڑا کے دیکھ بُرے سے بُرے حالات میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی 42 فیصدپاکستانی عوام کی نمائندہ جماعت ہے اگر اسے اس طرح تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تو وفاق کی نمائندہ اکلوتی جماعت کی ٹوٹ پھوٹ سے خدانخواستہ پاکستان کا وفاق بھی شدید متاثر ہوگا۔پاکستان معاشی اور سیاسی سطح پر اتنا کمزور کبھی نہیں ہوا تھا جتنا مفاد پرستوں نے اب کر دیا ہے۔ سیاست کا حسن یہی ہے کہ ایک سیاسی پارٹی اگر آج اقتدار میں ہے تو کل اپوزیشن میں ہو گی۔ کائنات میں مستقل بادشاہی اور اقتدار صرف خدائے وحدہٗ لاشریک کو حاصل ہے۔ کچھ سیاستدانوں کو اپوزیشن میں بیٹھنا پسند نہیں لیکن فیصلے پسند یا ناپسند سے نہیں عوامی رائے سے ہوتے ہیں جس کا احترام سب پر لازم ہے۔یقینا پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے اس میں بھی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن دوسری بڑی پارٹی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو ڈیورسپیکٹ دیں تو مفاہمت کی طرزِ سیاست جو صدر آصف علی زرداری نے متعارف کرائی ہے فروغ پذیر رہے گی،یہی سب کے مفادات میں ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ اچھا سیاستدان وہ ہوتا ہے جودروازے سے گزرنے کے بعد دروازہ کھلا چھوڑ دے شاید اسے اُسی دروازے سے واپس آنا پڑے۔ محترم مجیدنظامی صاحب مسلم لیگیوں کو یکجا کرکے اسے قائداعظم اور علامہ اقبال کی مسلم لیگ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ میں درخواست کروں گا کہ وہ ایک قدم مزید آگے بڑھائیں، وہ تمام پارٹیوں کے لیے محترم ہیں ان کی بات اور مشورے کو یقینا پذیرائی بخشی جائے گی۔اس ملک کی باقی سیاسی جماعتیں بھی قائداعظم اور علامہ اقبال کی ماننے والی ہیںصرف مسلم لیگ ہی قائداعظم اور علامہ اقبال کی وراثت نہیں بلکہ اس ملک کے سترہ کروڑ عوام ان کی وراثت ہیں۔اس لیے مجید نظامی صاحب اس وقت جب کہ ملک اس نازک موڑ سے گزر رہا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کروانے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔کیونکہ حمید نظامی ؒنوائے وقت اور مجید نظامی صاحب کسی ایک پارٹی کی میراث نہیں، یہ قومی اثاثہ ہیں اور جب قوم کو ان کی ضرورت ہے تو انہیں ان دو ساحلوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنا ہوگا۔وگرنہ اگر ملک اور وفاق کی سب سے بڑی جماعت کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا تو مفاہمت اورامن کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus