×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گوربا چوف ثانی؟
Dated: 05-Mar-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پانچ سال قبل 2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں ایوان اقتدار میں براجمان ہونے والے جمہوری حکمرانوں کا سب سے بڑا کارنامہ اپنی آئینی مدت پوری کرناہے۔ وہ اس نے فوج کی مدد سے بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا۔ اس کے علاوہ ان لوگوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے ماتھے پر جھومر نہیں بلکہ کلنک کا ٹیک ہے جس پر جیالے شرمندگی سے اپنے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ قوم میںایک امید پیدا ہوئی تھی کہ جن لوگوں کو این آر او کا غسل دے کر ایک نیا سیاسی خم دیاگیا وہ اب اپنی تمام تر صلاحیتیں قوم و ملک کی خدمت کے لیے بروئے کارلائیں گے۔ ماضی سے سبق سیکھیں گے اور مستقبل میں شفافیت کو میرٹ اور اصول بنائیں گے لیکن ہواا س کے بالکل الٹ۔ ایسی لوٹ مار، کرپشن، اقرباپروری ،لاقانونیت، نااہلی و نالائقی اور پامال ہوتا ملکی و قومی وقار پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ آج لوٹ مار کے ذریعے قومی خزانہ خالی ہو چکا ہے۔ قرضوں کا ایسا بوجھ کہ آج پیدا ہونے والے ہر پاکستانی بچے کے سر بھی 80ہزار کا قرض موجود ہے۔ کرپشن غریب آدمی کے حصے کا رزق بھی کھا گئی۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا نہ تھمنے والا طوفان ہے۔ رینٹل منصوبوں میں اربوں کی کرپشن اور صارفین کے بلوں کی رقم ہڑپ کرکے بجلی کا بحران شدید تر کر دیا گیا۔ گیس وافر مقدار میں موجود ہے جو عوام تک پہنچنے نہیں دی جاتی۔ جس کے باعث صنعتوں اور گاڑیوں کا پہیہ جام ہے۔ اوگرا میں لوٹ مار انتہا کو پہنچ گئی۔ ریلوے، پی آئی اے، پیپکو، سٹیل مل، سوئی ناردرن دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر ہیں۔ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں ،نیب کے چیئرمین اور وفاقی محتسب اور غیرجانبدار عالمی تنظیمیں بھی پاکستان میں کرپشن کے دندناتے جن اور عفریت کی چلا چلا کر نشاندہی کر رہی ہیں ۔ حکومت کے مقرر کردہ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے روزانہ 14ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف کیا ہے جو سرکاری سطح پر ہوتی ہے۔ لینڈ مافیا کا سرغنہ ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت کو پانچ ارب روپے کے محل کا تحفہ دے دیتا ہے اس کو دیانت کے کس درجے پر رکھا جا سکتا ہے؟ ایک ادارے کے چیئرمین نے 82ارب روپے کی کرپشن کی۔ اس پر کیس بنا، مقدمہ سپریم کورٹ گیا، ملزم کا نام ای سی ایل میں تھا وہ پھر بھی فرار ہو کر بیرونِ ملک چلا گیا۔ فرار کرنے والے ہنوز محفوظ ہیں۔ حکمرانوں کی کس کس کرپشن کی بات کی جائے؟ سپریم کورٹ نوٹس لیتی ہے تو اس کی کوئی سنتا ہی نہیں۔ ایسی اندھیر نگری، اداروں کی تباہی، حکمرانوں کی کرپشن و لوٹ مار کے ساتھ ساتھ دیدہ دلیری کبھی دیکھی نہ سنی، یہ سب کچھ اس فوج کی ناک کے نیچے پانچ سال ہوتا رہا جس کا ملکی سیاست میں پس پردہ بھی ہمیشہ کردار رہا ہے۔ فوج یقینا وطن کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے۔ اس کا سیاست میں کوئی آئینی کردار نہیں ہے ۔ گھر کی سکیورٹی پر مامور محافظوں کو کیا گھر کے اندر لگی آگ کو خاموش تماشائی بن کر دیکھنا چاہیے اگر گھر کا محافظ دیکھے کہ گھر کے اندر ڈاکہ پڑ رہا اور وہ خاموش تماشائی بنا رہے کہ یہ میرا کام نہیں میرا کام گھر کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے تو کیا یہ جائز ہے ؟اس ملک کے اندر بدامنی کرپشن لوٹ مار، لاقانونیت، دہشتگردی، مہنگائی و بیروزگاری کی آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ آگ لگانے اور اس کو ہوا دے کر بھڑکانے والے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ فوج مارشل لاء لگا دے اور جمہوریت کو ڈی ریل کر دے۔ یہ کم از کم آگ بجھانے اور اس کے ذمہ داروں کا ہاتھ تو روکے۔ جنرل اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے اپنے اپنے دور میں جمہوریت کا دھڑن تختہ کیے بغیر اپنا کردار ادا کیا۔اگر وہ دونوں بھی ملکی حالات پر آنکھیں بند کیے رکھتے تو آئینی ڈیڈ لائن نہ جانے کس قومی بدقسمتی پر منتج ہوتا۔ خصوصی طور پر صدر اسحق خان اور میاں نواز شریف کے درمیان چپقلش ایک خوفناک کروٹ لے چکی تھی۔ اس موقع پر جنرل کاکڑ نے دونوں کو استعفیٰ کا مشورہ دیا اور انتخابات کی راہ ہموار کر دی یوں جمہوریت کا سفر جاری رہا اور جنرل کاکڑ نے بڑے باعزت طریقے سے اپنی مدت ملازمت پوری کی۔ آج حالات پاکستان کی تاریخ کے کسی بھی دور سے بدتر ہیں۔ لیکن جنرل کیانی کی قیادت میں فوج خاموش ہے۔ اس نے میمو گیٹ میں اپنی سبکی پر تھوڑی سی انگڑائی لی پھر نہ جانے اس کیس کو کیوں ادھورا چھوڑ دیا۔میرے دل میں فوج کا بڑا احترام ہے یہ واقعی میرے وطن کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے۔ یہ جاگتی تو میں سکون سے سوتا ہوں۔ میری حفاظت کی خاطر یہ اپنے سینے پر گولی کھاتی ہے لیکن افسوس ہوتا ہے کہ وطن فروشوں کی سرگرمیوں کو جرنیل کیوں نظرانداز کر رہے ہیں؟ لوگ نجی محفلوں میں برملا کہہ رہے ہیں کہ جنرل کیانی کو پاکستان کے تمام کنٹونمنٹ ایریاز اور ایئرپورٹوں سمیت نیٹوں کے ٹھیکے ملے ہوئے ہیں۔میرے ذرائع بتاتے ہیں کہ جنرل کیانی جب صدر سے ہاتھ ملاتے ہیں تو وہ پہلا سوال بڑی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ یہی کرتے ہیں کہ ’’آپ کے بھائی کا بزنس کیسا جا رہا ہے؟‘‘اگر ہمارے آرمی چیف نے ایسا کوئی سودا کیا ہے تو خود کو بڑے سستے داموں فروخت کیا ہے۔ آج ملک کی سلامتی اور سالمیت دائو پر لگی ہے۔ بلوچستان ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے اورکراچی میں حالات بدترین ہیں۔ وزیرداخلہ رحمن ملک کراچی کے چھن جانے کی بات کرتے ہیں۔ ایسے میں ملک کو بچانا فوج کی نہیں تو کس کی ذمہ داری ہے۔ میرے وطن کو کچھ ہوا تو جنرل کیانی کو تاریخ گوربا چیف ثانی کے طور پر یاد رکھے گی۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو لوٹنے اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کو بھاگنے نہ دیں۔ ان کو اب الیکشن سے دلچسپی نہیں اپنی دولت کو سمیٹ کر محفوظ بنانے کی جلدی ہے۔ یہ چور ،ڈاکو ،لٹیرے لوٹے ہوئے مال غنیمت کے ساتھ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے اور عسکری قیادت کے ماتھے پر پھر بھی جوتک نہیں رینگ رہی کیونکہ وہ نام نہاد جمہوریت کو وقت پورا کر لینے دینا چاہتے ہیں۔عوام اب جاننا چاہتی ہے اس خاموش کردار کے پیچھے چھپے اس راز کو بھی اب کھل جاناچاہیے۔ جب روم جل رہا تھا تو ’’نیرو ‘‘ بانسری بجا رہا تھا ۔کیا غیور پاکستانی فوج جس نے دنیا کی تمام بڑی خفیہ ایجنسیوں کو عسکری میدانوں میں شکست فاش دی ہے کیا اب وہ صرف بانسری بجاتی رہے گی ۔میری پاک فوج سے گزارش ہے کہ لاشوں کے ڈھیروں اور قبرستانوں کو کسی فوج یا محافظ کی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus