×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کالے کوّے سفید جھوٹ
Dated: 26-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com انسان نے جو بویا وہی کاٹنا ہوتا ہے۔ ببول بیج کر پھولوں اور خوشبو کی توقع پاگل پن ہے۔ برائی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے آج نہیں تو کل اس کو عیاں اور نمایاں ہو جانا ہوتا ہے۔ انسان کا یومِ حساب یقینا قیامت ہے لیکن کچھ اعمال کا حساب اسی دنیا میں بھی قدرت کاملہ برابر کر دیتی ہے۔ پاکستان کو دولخت کرنے والے ہر کردار کو خدا نے عبرت بنا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کو پھانسی لگانے والوں کا حشر پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ آج قوم کے ساتھ جو ہو رہا ہے اچھا یا بُرااس کا ثمر بھی اس کے ذمہ داروں کو مل جائے گا اس دنیا میں اور آخر میں بھی۔ قیامت انسان کا یومِ حساب ہے تو سیاستدانوں کی کارکردگی جانچنے ان کی مقبولیت کا تعین کرنے کا پیمانہ الیکشن ہے۔ جس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آ جاتا ہے۔ الیکشن ابھی چند ماہ اور حکومت کی مدت چند دن کی دوری پر ہے۔ پھر سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ سیاست دانوں نے انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔2008ء کے الیکشن میں حصہ لینے والی ہر پارٹی حکومت میں ہے اور اقتدار کاحصہ ہے۔ جو کچھ ان پارٹیوں نے کیا وہ لوگوں کے سامنے ہے۔ آج ہر پارٹی اپنے گن گنوا رہی ہے گمراہ کن دعوے کیے جا رہے ہیں۔ انتخابی مہم میں خوش کن وعدے بھی کیے جائیں گے۔ دیکھیں لوگ ایسے دعوئوں سے کس حد تک گمراہ اور وعدوں کے سنہری جال میں پھنستے ہیں۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف گذشتہ دنوں اپنے بچپن کے دنوں کی یادیں تازہ کرنے سانگھڑ گئے۔ جہاں ایک کالج کے لیے 50کروڑ روپے کے فنڈز کا اعلان کیا۔ اتنی رقم سے ایک یونیورسٹی کھل سکتی ہے۔ اب دیکھیے ان 50کروڑ میں سے کالج کی قسمت میں کتنے ہیں۔ اسی علاقے میں انہوں نے بڑے بڑے دعوے کیے اور چیلنج دیئے۔ انہوں نے فرمایا کہ 5سال کا حساب دینے کو تیار ہیں۔ اتنے ترقیاتی کام 65سال میں نہیں ہوئے جتنے ہم نے 5سال میں کیے۔ خدا کی قسم جو بات کی باکمال کی واقعی قوم و ملک کے ساتھ 65سال میں نہیں ہوا جو ان حکمرانوں نے پانچ سال میں کرکے دکھا دیا۔آج ملک میں بجلی ہے نہ گیس، البتہ ان کے بل ہر ماہ ہونے والے اضافے کے ساتھ ضرور موصول ہو تے ہیں۔ پٹرولم مصنوعات آسمان سے باتیں کرتی ہیں، جو پٹرول نیٹو کو 44روپے لیٹر فراہم کیا جاتا ہے وہی پاکستانیوں کو دگنا سے بھی زیادہ اضافے کے ساتھ 104روپے میں دیا جاتا ہے۔ مہنگائی کی کوئی انتہا ہے نہ بیروزگاری کی، انرجی کرائسز کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا کاروبار اور سرمایہ دوسرے ممالک منتقل کر رہے ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ کے بہیمانہ سانحات لاقانویت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دہشت گردی نے ہر علاقے کو اپنی پشت میں لیا ہوا ہے، ڈرون حملوں ا ورایل او سی پر بھارتی فوج کی شرانگیزی نے قومی وقار اور ملکی سلامتی کو دائو پر لگا رکھا ہے۔ کرپشن کا جن ہر سو دندنارہا ہے۔ حکومت کے مقررہ کردہ چیئرمین فصیح بخاری کہتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں روزانہ 12ارب روپے کی لوٹ مار ہوتی ہے، وفاقی محتسب شعیب سڈل نے انکشاف کیا ہے کہ 70فیصد ارکان پارلیمنٹ ٹیکس ہی ادا نہیں کرتے۔ ایف بی آر جس نے ٹیکس وصول کرنے ہوتے ہیں اس کے اندر بھی کرپشن کی جڑیں پھیلی ہوئی ہیں۔ سابق وزیر خانہ شوکت ترین نے کہا تھاکہ صرف ایف بی آر میں ہر سال 500ارب روپے بے ایمان حکام کی توندوں میں اتر جاتے ہیں۔ میڈیا میں آنے والی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے اعلیٰ سطح کی شخصیات اور ان کے عزیز و دوست لوٹ مار میں ایک دوسرے سے سبق لے جانے کی کوشش میں مگن ہیں۔ ایک محکمے کے سابق چیئرمین پر80ارب کی خوردبرد کا الزام ہے۔ موجودہ وزیراعظم اپنے پیشرو کی طرح نوکریاں تقسیم اور فروخت کر رہے ہیں۔ اپنے داماد کو عالمی بینک میں لگوا کر نیک نامی کما رہے ہیں۔ رینٹل پاور پراجیکٹ نامی منصوبے میں اربوں روپے کی خرد برد کرکے کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے اور آج دنیا بھر میں ’’راجہ رینٹل‘‘کے نام سے مشہور ہیں۔یہ ہے ہلکی جھلک ان کاموں کی جو موجودہ حکومت نے پانچ سال میں عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے کیے ہیں۔ یقینا ان کا حکومت کو حساب دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ حساب حکمرانوں کے ذمے ہے۔ ایک پراپرٹی ٹائی کون کو عوام کے مقدر کے فیصلے کرنے کی کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔اعلیٰ عہدوں کی تعیناتیاں اس ٹائی کون کی جنبش ابرو پر ہوتی ہیں۔ معاہدوں میں اس سے مشاورت اور معاونت لی جاتی ہے۔کچھ لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کی قومی معاملات اور حکومت امور میں اس قدر مداخلت کیوں ہے۔ لاہور میں 5ارب روپے کا محل صدر محترم کو گفٹ کیا تو حقیقت حاصل لوگوں پر واضح ہوگئی۔ 5ارب کا تحفہ دینے سے قبل کیا کیا مفادات حاصل نہیں کیے ہوں گے اور باقی کی کسر آئندہ کیوں کر نہیں نکالی جائے گی۔ اس شخص کی بنیادیں بھی جھوٹ اور فریب کار پر استوار ہیں۔یہ شخص آج سے چند سال پہلے تک پاکستان نیوی کے کلیریکل ڈیپارٹمنٹ میں بطور کلرک تعینات تھا۔خود ان کی زوجہ محترمہ نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ ان کے شوہر نامدار جھوٹے ہیں ،جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ جو اب ایک ایک کرکے قوم کے سامنے آ رہے ہیں۔لاہور میں اپنے تعمیراتی منصوبوں کی تشہیر کی گئی، اربوں روپے کے پلاٹ فروخت کر دیئے گئے یہ سلسلہ کئی فیزوں میں جاری ہے، جن کو ایل ڈی اے نے غیرقانونی قرار دیا تو بحریہ ٹائون کی انتظامیہ نے کہا کہ ٹی ایم اے اقبال ٹائون سے منظوری کے لیے درخواست دی ہوئی ہے۔ اگلے دن ٹی ایم اے نے بھی تردید کر دی۔ آج کل بحریہ ٹائون کے ڈائریکٹر ملک ریاض حسین نہیں ،ملک صاحب بحریہ ٹائون کے کنسلٹنٹ ہیں۔ ابوظہبی گروپ کے ساتھ کراچی میں 45ارب ڈالر کے تعمیراتی منصوبے کی دستاویز پر دستخط بحریہ ٹائون کے مالک نہیں کنسلٹنٹ نے کیے۔پاکستان کا سب سے بڑا منصوبہ جس پر دستخط کنسلٹنٹ کرتا ہے اس کی ساکھ کتنی ہو گی۔ اس کا راز بھی دستخط ہونے کے ایک ہفتہ کے اندر ہی کھل گیا۔ جس روز اس منصوبے کی تشہیر کا اعلان کیا گیا ہے میرا ماتھا اسی دن ٹھنکا میں نے اس پر لکھنا چاہا تو میرے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کیونکہ آپ کے پاس کوئی ثبوت یا جواز نہیں ہے اس لیے رہنے دیں۔ابوظہبی گروپ نے ایسی کسی بھی منصوبے سے لاتعلقی ظاہر کر دیا ۔اب ملک صاحب نیا جال پھینک رہے ہیں، کہتے ہیں 45ارب کا یہ منصوبہ برطانیہ ،امریکہ اور دیگر ممالک کے گروپوں سے مل کر مکمل کریں گے۔ آج ہماری قوم کالے کوّئوں اور کالے چوروں کے سفید جھوٹوں میں پھنس گئی ہے،اس سے نکلنا مشکل نہیں۔ پاکستان کے ہر گروپ نے، چاہے وہ عدلیہ ہو، فوج،سیاستدان،حکمران ،صحافی ،اپوزیشن غرضیکہ ہر شخص نے پاکستان کی قسمت سے کھیلنا اور اس کو لوٹنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی ہے جس طرح سیانے لوگ کہتے ہیں ’’ماڑے دی جنانی ہوندی بھابی سب دی‘‘کے مصداق پاکستان کو ماڑے کی بھابی بنا دیا گیا ہے جس کا جی چاہتا ہے وہ اس کے ساتھ کھیل کھیلتا ہے۔انتخابات سر پر ہیں جن کو موجودہ حکمران جن کا تعلق ہر پارٹی سے ہے، سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی کالی کرتوتوں کا پردہ چاک نہ ہو سکے ۔پاکستان کی قسمت سے کھیل کھلواڑ کرنے والے یہ لوگ نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ انہیں ذرا بھی شرم اور پرواہ نہیں کہ کوئی ان کے متعلق کیا سوچتا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی دولت کے بل بوتے پر جنت میں بھی ایک کارنر پلاٹ حاصل کر لیں گے ۔ میری ہم وطنو! سے گزارش ہے کہ گرتی ہوئی اس دیوار کو بس ایک آخری دھکے کی ضرورت ہے۔ خدارا ہر پاکستانی اپنا فرض ادا کرے ،وگرنہ یہ کالے کوّے اور ان کے سفید جھوٹ ملکی سلامتی اور بقا کے لیے زہر قاتل ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus