×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نگران وزیراعظم سے کڑے احتساب کی ضرورت
Dated: 26-Mar-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com 16مارچ2013ء کو حکومت کی آئینی مدت پوری ہو گئی۔حکمرانوں نے اپنے اقتدار سے ایک دن بھی کم کرنا گوارہ نہ کیا۔صدر پاکستان نے 11مئی کو انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ اگر انتخابات اپنے شیڈول کے مطابق ہو جاتے ہیں تو 2008ء کی طرح 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آنے والی حکومت اور اسمبلیوں کی مدت جون کے آغاز میں شروع ہو گی اور اس کا اختتام تین چار جون 2018ء کو ہوگا اور اسی ترتیب میں معاملات چلتے رہے تو2018ء کے بعد انتخابات اگست2023ء میں ہوں گے۔گویا ہم قیامت تک جمہوریت کے مضبوط ہونے کے باوجود یورپ اور دوسرے مہذب ممالک کی طرح انتخابات کے لیے ایک دن یا تاریخ مقرر نہیں کر سکتے۔اس انتخابات کے انعقاد اور اگلی حکومت کی مدت کا آغاز پانچ سال کے اندر ہی ہو جانا چاہیے۔اس پر کیا ہمارے سیاستدان متفق ہوں گے۔ان کی موجودہ کارکردگی کو دیکھ کر ایسا ہونا ممکن نہیںالبتہ کوئی دوسری قوت ایسا کرنے پر سیاستدانوں کو آمادہ کر لے تو اور بات ہے۔سیاستدان اپنے ایک لمحے کے مفاد کو بھی قربان کرنے کو تیار نہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت نگرانوں کی تقرری ہے۔نگران وزیراعظم کا تقرر 16مارچ کو ہو جانا چاہیے تھالیکن وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کے درمیان اتفاق نہ ہو سکا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔اس کے پاس تین دن کا وقت تھا۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے جہاندیدہ سیاستدان تین دن خوش گپیاں لگاتے رہے، ایک دوسرے کی دعوت کرتے رہے، ایک دوسرے کے لیے پیار و محبت اور احترام بھرے جذبات کا اظہار کرتے دیکھے گئے۔نگران وزیراعظم پر اتفاق رائے کوئی مسئلہ کشمیر نہیں تھا۔اپنے ہی دیئے ہوئے کوئی چارناموں پر ایک نام پر متفق ہونا تھا۔تین روز کی مشق میں اتفاق نہ ہو سکا۔ آئین کے مطابق معاملہ الیکشن کمیشن جانا تھا۔ وہاں گیا تو الیکشن کمیشن نے گو فیصلہ تو کر دیا لیکن اس نے بھی دو دن لے لیے تاکہ راجہ پرویز اشرف ان کی کابینہ کے سبکدوش ہونے والے وزیر اور مشیر آخری گھنٹہ تک اقتدار سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔میر ہزار خان کھوسو نگران وزیراعظم قرار پائے وہ جیسے بھی ہیں ان کی نامزدگی پر میاں نوازشریف سمیت ہر قابل ذکر سیاستدان نے مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔کھوسو صاحب کا پاکستان کے رقبے اور پسماندگی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان سے تعلق ہے۔اس سے بلوچستان میں بدامنی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور بلوچوں کسی حد تک محرومیاں بھی دورہوں گی۔ نگرانوں اور الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری تو انتخابات کا شفاف انعقاد ہے۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن فعال اور کمٹڈہے۔ اس نے کاغذات نامزدگی میں 15ترامیم کیں جن کی حکومت کی طرف سے بھرپور مخالفت کی گئی۔ ان ترامیم پر صدرمملکت نے ابھی تک دستخط نہیںکئے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ صدر کے ان ترامیم پر دستخط رسمی ہیںاس لیے کاغذات پرنٹنگ کے لیے بھجوا دیئے گئے تھے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس اقدام کو درست قرار دیا ۔سپریم کورٹ ایسا حکم جاری نہ کرتی اور حکومت موجود ہوتی تو ان ترامیم کو رکوانے کی ہر ممکن کوشش کرتی۔جعلی ڈگری والوں کو تحفظ دینے کے لیے بھی پارلیمنٹ میں واویلا کیا گیااور الیکشن کمیشن کو دبائو میں لانے کی کوشش کی گئی،الیکشن کمیشن نے بھی کسی حد تک پسپائی اختیار کی جس کے باعث اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اب الیکشن کمیشن کو دبائو لا کراپنے مفادات میں فیصلے کرانے والے سبکدوش ہو چکے ہیں۔الیکشن کمیشن اور نگران سیٹ اپ کے پاس منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کرانے کا بہترین موقع ہے۔گذشتہ حکمرانوں نے ملکی وسائل نچوڑ لیے ہیں۔کرپشن آسمان کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے۔کسی کا بھی احتساب نہیں کیا گیا جس سے لٹیروں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔2008ء کے الیکشن میں جیتنے والی تمام پارٹیاں اقتدار میں رہیںاور خود کو اپوزیشن بھی باور کراتی رہیں۔یہ وسائل اور قومی خزانے کی بندربانٹ میں مگن رہیںاور عوام مصیبتوں کی سولی پر لٹکے رہے۔یہ لوگ ایک بار پھر اپنے منشور میں عوام کو سبز باغ دکھا کر بچے کھچے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔پہلے سے آزمائے ہوئے لوگ سامنے آ رہے ہیں۔سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے دونوں صاحبزادوں پر کرپشن کیسز ہیں۔گیلانی کے جانشین راجہ پرویز اشرف کو سپریم کورٹ نے کرپشن میں مجرم قرار دیا۔اس کے علاوہ مخدوم شہاب الدین، حامد سعید کاظمی،ن لیگ کے ایم این اے حنیف عباسی، مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم اور آخری چند دن وزیر مملکت برائے خزانہ سلیم مانڈی والا اور کابینہ کے متعدد اراکان اس میں شامل ہیں۔جعلی ڈگری والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے یہ لوگ اقتدار میں آئے توملک و قوم کا مقدر مزید تاریک ہو گا۔انتخابات کا انعقاد تو یقینا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ہونا چاہیے وہ اسی صورت ممکن ہے کہ قومی خزانہ لوٹنے والوں پر پارلیمنٹ کے دروازے بند کرکے ا ن سے لوٹ مار کا ایک ایک پیسہ اگلوایا جائے۔امیدواروں کی مکمل سکروٹنی ہونی چاہیے اس کے لیے ایک ماہ بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں ہے۔ وسائل لوٹنے والے یہ کرپٹ سیاستدان اب اس تاک میں ہیں کہ الیکشن کمیشن ، احتساب بیورو اورسپریم کورٹ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایک بار پھر متفق ہو جائیں لیکن اب ایک تیسری قوت تحریک ِ انصاف کی موجودگی میں شاید انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔اس میں عوام کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ ان لٹیروں کے پاس جھانسے دینے کے لیے مادی و مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں اور پھر سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں ان کے عزیز و اقربا ہی براجمان ہیںجو کہ ان کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔لیکن عوام کو ان کے کھوکھلے نعروں اور اس بوسیدہ سسٹم کو شکست دینا ہو گی ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus