×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یومِ پاکستان پر تجدید عہد کی ضرورت
Dated: 23-Mar-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج ہم ایک مرتبہ پھر یومِ پاکستان منا رہے ہیں۔ ان حالات میں کہ پورا پاکستان دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ بدامنی کا دور دورہ ہے۔ لاقانونیت کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں۔ کون سی خرابی ہے جس نے پاکستان اور پاکستانیوں کو اپنے بے رحم پنجوں میں جکڑ نہیں رکھا۔ امن کی مخدوش صورت حال کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ یومِ پاکستان پر پاک افواج کی پیریڈ پاکستان کا طرئہ امتیاز رہی ہے۔ قوم کا سر پاک آرمی، بحریہ ا ور فضائیہ کو قطار اندر قطار بینڈ کی حسین دھن پر اپنے اپنے اسلحہ سمیت مارچ کرتے دیکھ کر فخر سے بلند ہو جاتا تھا۔ اب شاید آٹھواں سال ہے کہ یومِ پاکستان پر یہ حسیں مناظر دیکھنے میں نہیں آرہے ۔ آج جو نسل دس گیارہ سال کی ہے وہ تو ایسی پیریڈ سے مطلق نابلد ہے۔پیریڈ کا یہ سلسلہ نیم آمرانہ دور میں بند ہوا اور سلطانی جمہور کے دور میں بھی بند ہے۔ یہ پیریڈ اسلام آباد میں ہوا کرتی تھی۔ اس میدان کی سکیورٹی کو یقینی بنانا اگر پاک فوج کے بھی بس میں نہیں تو پھر پوری قوم کو لاحق دہشت گردی کے خطرات کا اندازہ آسانی سے ہو سکتا ہے۔یہ دہشت گردی جنرل مشرف کی دین ہے جس کو جمہوری حکمرانوں نے مزید فروغ دیا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن تو بہت ہوئے اور ہو بھی رہے ہیں لیکن اس کی بنیاد کو ختم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان صرف اس دہشت گردی کا ہی شکار نہیں جو غیرملکیوں اور پاکستان کے دشمنوں نے برپا کر رکھی ہے۔ پاکستان میں بہت سی دہشت گردیاں ان لوگوں نے بھی مسلط کی ہیں جن کو عوام نے اپنا نمائندہ بنا کر نجات دہندہ سمجھا لیکن انہوں نے پانچ سال میں ہر دن کو آخری دن سمجھ کر مفادات اور مراعات حاصل کیں اور شرفا کے روپ میں ان سلطانی ڈاکوئوں نے لوٹ مار کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔وطن عزیز کو یہ لوگ نوچتے اور کھسوٹتے رہے جو جتنا بڑا سیاسی لیڈر تھا اس نے اتنا ہی زیادہ لوٹا اور اس کارِ خیر میں ہماری عسکری قیادت اور صحافتی برادری بھی پیچھے نہ رہے غرضیکہ مالِ غنیمت اور دل بے رحم کے مصداق سارے نشتر ہی اپنوں نے چلائے اور اس مملکت عزیز کی جڑیں کھوکھلی کرکے رکھ دی گئی ہیں۔ آج ہر پاکستانی پریشان ہے اور اس کی یہ پریشانی حق بجانب ہے کہ وطن عزیز کا کیا بنے گا ؟کیا ہمیں پھر سے ایک نیا پاکستان بنانے کی ضرورت ہے ؟مگر جو بھی حالات ہوں ہمیں لوٹنے والے چور ،ڈاکوئوں اور لٹیروں کو سزا کون دے گا؟کون ہے جو 18کروڑ عوام کے غموں سے چور جسم پر مرہم رکھے گا؟ یا پھر ہماری بے حس عسکری قیادت اور مفادات پرست دانشور یہ تماشا دیکھتے رہیں گے۔ سلطانی جمہورکے دور میں ملک مقروض ہوتا چلا گیا۔ کوئی بھی ادارہ اپنے پائوں پر کھڑا نہ رہ سکا۔ بجلی کی قلت کے باعث انڈسٹری تباہ اور لاکھوں کی نفری بے روزگار ہوئی۔ حالانکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے۔ 500ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کا رونا رویا جاتا ہے۔ اتنا سرکلرڈیٹ ہو کیسے گیا۔ صارفین سے بجلی کی کمی کے باوجود دو گنا بل وصول کر لیے جاتے ہیں۔ صارف 10روپے بجلی استعمال کرکے تیس روپے ادا کرتا ہے۔حکمران تیس کے تیس ہی ہڑپ کرتے رہے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط کرکے اس سے نجات کے لیے رینٹل منصوبوں کا دلاسا دیا گیا وہ بھی ایک جھانسہ ثابت ہوا، یہ تو محض اربوں روپے ہڑپ کرنے اور قومی خزانے کو لوٹنے ایک بہانہ تھا۔ آج لاہو راور دیگر بڑے شہروں میں 16`16گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ۔ میں نے اپنے قصبہ میترنوالی میں فون کیا تو مجھے بتایا گیا کہ صرف 2گھنٹے روزنہ بجلی آتی ہے اور ہم لوگ نہ کپڑے دھو سکتے ہیں او ر نہ ان کو استری کر سکتے ہیں حتی کہ ہمارے موبائل فون بھی چارج نہیں ہو پاتے۔ ان حالات میں ہونے والے آئندہ الیکشن میں حکمران عوام سے کس قدر خیر کی توقع کر رہے ؟ حکمران آخری دن تک قومی وسائل سمیٹتے رہے۔ راجہ پرویز اشرف کو 16مارچ کو وزیراعظم ہائوس خالی کرنا تھا۔ نگران وزیراعظم پر اتفاق رائے نہ ہونے سے ان کو دو چار دن اور اقتدار گردی کے مل گئے۔ ان دنوں میں بھی وہ ذاتی مفاد اٹھانے سے باز نہ رہے۔ حکم امتناعی کے باوجود اپنے داماد شاہ نواز محمود کو چینی کمپنی جوائن کرا دی۔ چیئرمین این ٹی سی کی بھی جاتے جاتے تقرری کر گئے۔ عبوری عرصہ میں حالانکہ ان کو ایسی تقرریوں کا اختیار نہیں۔ چیئرمین این ٹی سی کی آسامی کچھ ماہ سے خالی تھی اس عرصہ میں وزیراعظم سوتے رہے۔ اب شاید اچھا ریٹ مل گیا۔ گذشتہ پانچ سال کی حکمرانی نے عوام کا جمہوریت سے اعتماد متزلزل کر دیا۔ حالانکہ اس میں جمہوریت کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ جمہوریت کو بدنام کرنے کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے جمہوریت کو اپنے مفادات کے لیے پانچ سالوں تک استعمال کیا۔ جنہوں نے آئین پر عمل کیا نہ قانون کی پاسداری کی۔ عدلیہ کے احکامات اور فیصلوں کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔ پانچ سال تک یہ واویلا تو کیا گیا کہ ہمیں استثنیٰ حاصل ہے یہ کسی نے کہا کہ ہم نے ڈاکہ نہیں ڈالا۔ سپریم کورٹ نے جس کو اربوں لوٹنے کا مجرم قرار دیا اس کو سب سے بڑے منصب پر بٹھا دیا گیا۔ 5سالہ کارکردگی یہ ہے اس سلطانی جمہورکی کہ قومی خزانہ خالی ہے۔ قوم بحرانوں میں مبتلا ہے۔ راہزن ایک بار پھر اپنے ہتھیار اٹھانے کو تیار ہیں۔ ایسے میں عوام کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ عوامی مسائل اور مشکلات کے ذمہ دار دونوں بڑی پارٹیاں ہیں ۔ ملکی وسائل کی بندربانٹ میں دونوں برابر کی شریک ہیں۔ نگرانوں کی تقرری کو مقررہ مدت کے بعد بھی لٹکائے رکھنا ایک ڈرامہ ہے تاکہ مزید گھر، جیبیں اور بینک کائونٹس بھرے جا سکیں۔ انتخابات 11مئی کو کرانے کے اعلان کے پیچھے بھی یہی ذہنیت کارفرما ہے۔نگرانوں کو 60دن ملنے چاہئیں جبکہ ان کو 50دن بھی نہیں دیئے جا رہے تاکہ الیکشن کمیشن جعلسازوں اور فراڈیوں پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ یہ نگران بھی اپنی طرح کے لانا چاہتے ہیں۔ چوروں کو اپنے جیسے چوکیداروں کی ضرورت ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے ’’خربوزے کے کھیت کی رکھوالی گیڈر کے سپرد کر دی جائے‘‘اور پھر توقع کی جائے کہ وہ خربوزوں کو چیرے اور پھاڑے گا نہیں۔ان کو ہی موقع ملا تو پاکستان کے پلے یہ کیا رہنے دیں گے؟ مجھے آج تحریک آزادی کی جدوجہد یاد آ رہی ہے۔ جب قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں پوری قوم متحد تھی۔ صوبہ سرحد کا ریفرنڈم مجھے یاد آ رہا ہے۔ جب سرحد کے غیور عوام نے اپنی مقامی قیادت کو یکسر مسترد کر دیا۔ قوم نے قائداعظم کی قیادت میں پاکستان حاصل کیا اور صوبہ سرحد کے محب وطن عوام نے پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کیا۔ آج قوم کو انتخابات کی صورت میں نئی قیادت منتخب کرنے کا موقع مل رہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کریں۔ الیکشن کمیشن کی چھلنی لگ چکی ہے اس میں سے بھی ہو سکتا ہے بہت سے جعلساز خود کو پارسا باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن آخری چھلنی عوام کے پاس ہے ۔عوام ان کی کرتوتوں اور کمالات سے آگاہ ہیں، اپنے معمولی معمولی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے وطن او راپنی نسلوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی کوشش کریں۔ آج پھر تحریکِ پاکستان جیسے جذبے کی ضرورت ہے۔ اس جذبے کے تحت ووٹ کاسٹ کیا تو ڈاکوئوں اور راہزنوں سے نجات ممکن ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus