×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیااوورسیز پاکستانیوں کو سمندر بُرد کر دیا جائے؟
Dated: 16-Apr-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آئین اور قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل پاکستانی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔آئین کے اس آرٹیکل کی بعض دوہری شہریت والوں نے دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ اس دوران الیکشن کمیشن اور اس وقت کی حکومتیں لمبی تان کرسوئی رہیں۔ اگر سپریم کورٹ نوٹس نہ لیتی تو شاید الیکشن کمیشن بدستور خواب خرگوش کے مزے لوٹتا رہتا اور دوہری شہریت والے ایک بار پھر پارلیمنٹ میں پہنچ کر اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہو جاتے۔ دوہری شہریت والوں کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنا میرے نزدیک بالکل درست فیصلہ ہے۔ آپ میرے گذشتہ کالموںمیں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکی شہریت کا حلف نامہ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ جس میں ملکہ سے وفاداری اور امریکہ کی خاطر ہتھیار اٹھانے کی قسم کھائی جاتی ہے۔ جو کسی دوسرے ملک کی وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے اس کی یقینا پاکستان سے وفاداری کا سوال اٹھتا ہے۔ دوہری شہریت والے جب وزارت داخلہ، وزارتِ دفاع، وزارت خارجہ جیسے حساس اداروں کے سربرا ہ بنتے ہیں تو گویا ان وزارتوں کے رازغیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے لوگ تو وزارتِ عظمی کے منصب پر بھی تعینات رہے ہیں جن کی وفاداریاں کہیں اور تھیں۔ شوکت عزیز نے تو ایٹمی پاور پلانٹس کا بھی دورہ کیا جہاں تک کسی دوسرے وزیراعظم کو رسائی نہیں مل سکی۔ یہ اعزاز صرف شوکت عزیز کو ہی حاصل ہوا جس کی قیمت پاکستان کو یقینا ادا کرنا پڑی ہو گی۔ دوہری شہریت والوں کی پاکستان سے ہمدردی اوروفاداری کوئی اور نہیں یہ لوگ خود مشکوک بناتے ہیں۔ اصولی اور اخلاقی طور پر ان کو پاکستان میں سیاسی عمل کا حصہ بننے کے لیے دوہری شہریت احتیاط کرنی چاہیے ۔جو لوگ جان بوجھ کر آئین اور قانون کی خلاف وزری کرتے ہیں ان پر پھر قانون تو لاگو ہوگا،کچھ پر ہوا بھی ہے۔ وہ نااہل ٹھہرے ہیں اور ان کو مراعات اور تنخواہیں بھی لوٹانا پڑیں گی۔ ایسے لوگوں سے کسی کو ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ ایسے لوگوں کی تعداد چند ہزار سے زائد نہیں۔ ان کو پاکستان میں ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں سوائے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے۔ پاکستان کی انڈسٹری میں اوورسیز پاکستانیوں کا ناقابل فراموش کردار ہے لیکن افسوس کہ دل میں پاکستانیت کا عظیم جذبہ رکھنے والے پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ 8کروڑ میں سے ایک کروڑ کو ووٹ کے حق سے محروم رکھیں گے تو ایسے انتخابات کی ساکھ قابل اعتبار نہیں رہے گی۔ (مثال کے طور پر سعودی عرب میں اس وقت سترہ (17)کروڑ پاکستانی تارکین وطن موجود ہیں جن میں سے کسی ایک کے پاس بھی سعودی عربی کی شہریت نہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور کویت میں مجموعی طور پر 20لاکھ سے زائد پاکستانی موجود ہیں ان کے پاس بھی وہاں کی مقامی شہریت نہیں ہے جبکہ یورپ ،امریکہ اور کینیڈا میں بسنے والے تقریبا70لاکھ پاکستانیوں میں سے صرف پانچ فیصد کے پاس دوہری شہریت ہے اور اس طرح ہم صرف ان پانچ فیصد لوگوں کی وجہ سے ایک کروڑ محبت وطن پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں)چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام ان کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو حق دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں پھر دوچار دن بعداپنی مجبوریوں کا اظہار کرنے لگ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں وقت کم ہے اور قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔ قانون سازی کے لیے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ آرڈیننس جاری ہو سکتا ہے۔ اصل بات نیت درست ہونے کی ہے اگر اوورسیز پاکستانیوں کو الیکشن کمیشن ووٹ کا حق دے دے تو انتظامات کچھ مشکل نہیں ہیں۔یہ قلم دوات کا دور نہیں کمپیوٹر کا دور ہے۔ ووٹر لسٹیں موجود ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ ایک کلک کے فاصلے پر ہے۔ کمپیوٹر کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جا سکتا ہے۔اس کے سامنے ہماری کچھ تجاویز ہیں کہ جس کام کو الیکشن کمیشن نے بہت بڑا پہاڑ بنا رکھا ہے وہ حقیقت میں ’’رائی‘‘ کے برابر ہے۔یہ بات تو طے ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے پاس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ موجود ہوتا ہے ۔ اور اس پر جو مستقل ایڈریس لکھتا ہوتا ہے اس حلقے سے وہ اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔حکومت کوئی ایسا اقدام کرے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو بتا دیا جائے کہ آپ 11مئی سے پانچ دن پہلے تک کسی بھی پاکستانی ایمبیسی یا کونسلیٹ جنرل میں اپنا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ساتھ لے جا کر اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔پھر یہ ایمبیسی سٹاف کا صرف دو دن کا کام ہے کہ ان کے جس جس حلقے اور جس پارٹی کے لیے ووٹ کاسٹ ہوئے ہوں اس کی لسٹ بنا کر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوا دی جائے۔جس کو الیکشن کمیشن آف پاکستان ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی جمع تفریق کر لے ۔اس طرح نہ تو کروڑوں ڈالر کی مشینری انٹرنیٹ سافٹ ویئر خریدنا پڑے گا اور الیکشن کے مقاصد بھی پورے ہو جائیں گے۔ دراصل کچھ سیاسی جماعتیں یہ نہیں چاہتیں کہ اوورسیز پاکستانی ووٹ کاسٹ کریں کیونکہ ان سیاسی جماعتوں کی اوورسیز میں کوئی تنظیم یا حیثیت نہیں ہے۔اور اپنے اس تحفظ کی خاطر وہ لاکھوں پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔اوورسیز پاکستانی دراصل جدید پاکستان کے معمار ہیں ۔آج ہمارے ملک میں جو روپے پیسے کی چہل پہل ہے ۔ ہمارا پاکستان انڈیا کے مقابلے میں ہزار درجے خوبصورت ہے۔(اگر کبھی آپ گوگل ارتھ پر جا کر انڈیا،بنگلہ دیش، افغانستان،سری لنکا، نیپال کے شہروں مکانات اور عمارات کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ 70%سے زیادہ کچے مکانات بنے ہوئے ہیں جبکہ الحمد اللہ پاکستان میں 90%سے زیادہ پکے اور جدید اصولوں کے مطابق مکانات کی تعمیر ہوئی نظر آتی ہے اور یہ سب اوورسیز پاکستانیوں کی بدولت ہے جو سالانہ اربوں ڈالر پاکستان کی معیشت میں داخل کرتے ہیں)۔اگر حکومت پاکستان ذرا سا کنٹرول کرے اور ان اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات بہم پہنچائے تو جو پیسہ اوورسیز پاکستانی ’’ ہُنڈی‘‘کے ذریعے بھیجتے ہیں اگر یہ رقم بینکوں یا لیگل طریقے کے ذریعے آنا شروع ہو جائے تو پاکستان کو ایک روپیہ بھی آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لینا پڑے گا۔اوورسیز پاکستانیوں کی وطن سے محبت اور ان کا خلوص کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔جہاں تک دوہری شہریت پر قدقن ہے تو وہ ہر طبقہ ہائے فکر کے لیے ہونا چاہیے یعنی ججز، جرنیل، بیوروکریٹس ،سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیارغیر میں ملازمت سرانجام دینے والے سفارتی عملے کے اراکین پر بھی یہ پابندی ہونی چاہیے کہ وہ دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے۔انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے اور ملکی معاملات تک رسائی حاصل کرنے والے دیگر عہدوں پر بھی یہ قانون لاگو ہونا چاہیے۔کیونکہ صرف سیاستدانوں ہی کی نہیں نیت تو کسی انسان کی کسی وقت بھی خراب ہو سکتی ہے۔سفری سہولیات کے لیے دوہری شہریت کے ہونے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن دوہرا حلف نامہ اٹھانے کے بعد ملکی معاملا ت میں مداخلت مشکوک ہو جاتی ہے۔کیا صرف اسی وجہ سے ایک کروڑ پاکستانیوں سے ان کے وٹ کا حق چھین کر ان کو سمندر بُرد کر دینا چاہیے؟ ہم آئے روز اوورسیز پاکستانیوں پر مختلف پابندیاں اور قانون لاگو کرتے رہتے ہیں ۔پاکستان کے ایئرپورٹس پر داخل ہوتے ہی ان کو بے شمار مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کسٹم سے لے کر گھر پہنچنے تک مختلف جگہوں وردی اور وردی کے بغیر ڈاکو ناکہ لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔یہ پاکستانیوں کی جائیدادیں، گھر ،دوکانیںاور زمینیں بڑی محنت سے بناتے ہیں لیکن کوئی بھی قبضہ مافیا اٹھ کر ان کی ساری زندگی کی کمائی پر قبضہ کر لیتا ہے اور وہ اپنی بیرون مملک ملازمتوں یا کاروبار کی وجہ سے پاکستان زیادہ عرصہ قیا م نہیں سکتے ہیں اور نہ اپنے عدالتی کیسوں کی پیروی احسن طریقے سے کر پاتے ہیں ۔اور دیگر مشکلات کے باوجود بھی دیارِ غیر میں بستے ہوئے یہ لاکھوں کروڑوں پاکستانی وطن کے نام پر مرمٹنے کو تیار رہتے ہیں۔یہ پاکستان سے باہر رہتے ہوئے پاکستان کے اصل سفیر ہیں۔ان کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔گذشتہ وفاقی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کا اپنے پیاروں سے ٹیلی فون پر بات کرنا تک ناممکن بنا دیا ۔اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کے پاکستان ٹیلی فون کرنے کے ریٹس ہمارے قریبی ممالک کے مقابلے میں پچاس گنا زیادہ ہے ۔یعنی ہم ہر طریقے سے اپنے ان سمندر پار مکین بھائیوں کا ماس نوچ نوچ کر کھانے تک تُلے ہوئے ہیں۔رحمان ملک اور اس کے ساتھیوں نے پچھلے ایک سال میں اس مد میں کروڑوں ڈالر اپنی جیبوں میں ڈالے۔میرے سمیت کروڑوں پاکستانی اس بات پر متفق ہیں کہ سمندر پار بسنے والے ان پاکستانیوں کو چاہے ان کی دوہری شہریت مگر ان کو ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہیے یا پھر ان کی تمام محبتوں کے عوض ان کو سمندر بُرد کر دینا چاہیے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus