×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میاں جی! اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے
Dated: 14-May-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مسلم لیگ ن کو انتخابات میں اس کی توقعات سے بھی بڑھ کر کامیابی ملی۔ وہ ایسی بجا طور پر توقع کر سکتی تھی اگر پی ٹی آئی درمیان میں فعالیت کے ساتھ نہ آ جاتی۔ عوام نے اینکرز اور تجزیہ نگاروں کے تمام اندازے باطل ثابت کر دیئے جو ہنگ پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کے دعوے کرتے تھے۔ اب مسلم لیگ ن بغیر کسی پارٹی کی مدد کے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ یہی صوبے اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے کہ کوئی پارٹی اسے بلیک میل کرکے وزارتیں نہیں حاصل کر سکے گی۔ مرکز میں مسلم لیگ ن کو چند سیٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ خلا آزاد امیدوار ن لیگ میں شمولیت اختیار کرکے پوری کر دیں گے۔ آزاد امیدواروں کی حکومتی پارٹی میں شمولیت غیر مشروط شرکت مجبوری بن چکی ہے۔ ان کے لیے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یوں ن لیگ اپنی پالیسیوں کے نفاذ میں آزاد ہو گی اور اتنی ہی ذمہ دا ربھی ہو گی۔ن لیگ کی اکثریت کے بہت سے تقاضے بھی ہیں۔ اسے عوام کی امنگوں اور اعتماد پر پورا اترنا ہے۔ آج نتائج واضح ہونے کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن کا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ اندرونی معاملات اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اسے بہترین ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اسے بیرونی محاذ پر بھی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ خاص طور پر دہشتگردی کے خلاف جنگ اور ڈرون حملوں کے حوالے سے مسلم لیگ ن نے جو وعدے کیے نہ صرف پاکستانیوں بلکہ پوری دنیا کی اس پر نظریں ہیں۔ اس کی قیادت کی طرف سے دوسری جماعتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے اعلانات اور دعوے رسمی ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان دعوئوں کے غبارے سے ہوا نکلنا شروع ہو جائے گی۔اپوزیشن اور میڈیا سے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نواز لیگ کا ریکارڈ مثالی نہیںہے۔ اس میں عدلیہ کو بھی شامل کر لیں تو یہ بھی بجا ہے۔ ن لیگ نے ماضی کو دہرانے کی کوشش کی تو خود اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور عوامی مقبولیت پیپلزپارٹی کی طرح زمین بوس ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ دوتہائی اور سادہ اکثریت کا نشہ اعلیٰ قیادت کا رکن تک کو مدہوش کر دیتا ہے۔ اعلیٰ قیادت ہوش سے کام لے تو دوسرے تیسرے درجے کی قیادت اور کارکن بے قابو نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود بھی بے ضابطگی کا کوئی نہ کوئی دروازہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بہتر ہے کہ مسلم لیگ ن ایک کمیشن تشکیل دے دے جس کا کام ہی پارٹی کے بااثر افراد اور خاندان کے صاحب اقتدار طبقہ کی کارکردگی کو مانیٹر کرنا ہو تاکہ کرپشن اور بدانتظامی کی صورت حال اور الزامات سے بچا جا سکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کا ہمارے خدشات کے عین مطابق پنجاب سے مکمل صفایا ہو گیا۔اس کے لیے یہ نتائج 1997ء کے انتخابات کی طرح بھیانک ثابت ہوئے۔ اسے ذلت آمیز شکست کا سامنا ہے۔ جس میں سراسر قصوروار پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہے جو خود کرپشن سے باز رہی نہ اپنے وزیروں ،مشیروں اور بیوروکریسی کو منع کیا۔ بھٹوز کی شہادتوں کو مزید کتنا عرصہ بیچا جا سکتاتھا۔ شہادتیں کچھ کارکردگی کا بھی تقاضا کرتی ہیں جو پانچ سال میں انتہائی لو لیول پر آگئی اور لوگوں نے برج الٹتے دیکھے۔ راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی کا پورا خاندان، فردوس عاشق اعوان، نذر گوندل، قمرالزمان کائرہ ،احمدمختار، منظور وٹو، صمصام بخاری اور ثمینہ خالد گھرکی جیسے بڑے لیڈر شکست کے طوفان میں خش و خاشاک کی طرح بہہ کر سیاسی کارکنوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔پارٹی کو اپنی وراثت سمجھنے والے ہی اس کے وارث نہ بنیں تو پارٹی کی کارکردگی وہی ہو گی جو ہمیں نظر آ رہی ہے۔ 97کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا ووٹر گھر سے نکلا ہی نہیں تھا۔لیکن اس دفعہ جو مجموعی ٹرن آئوٹ رہا ہے اس سے ثابت ہوتا کہ پیپلزپارٹی کا ووٹر گھر نہیں بیٹھا اس نے پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دیا مگر کسی کو تو دیا ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ ٹرن آئوٹ60فیصد رہا۔ 5جنوری 1928ء کو پیدا ہونے والے بھٹو کی شہادت تو 4اپریل 1979ء کو ہوئی لیکن پارٹی نے ان کو 11مئی 2013ء کو دفنا کر خودکشی کر لی۔ اب قیادت کو نئی پارٹی تشکیل دینا ہو گی۔ اس کے لیے آصف علی زرداری ایوانِ صدر سے نکلیں،پارٹی کی قیادت سنبھالیں۔ جیالوں کو اکٹھا کرکے ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ زرداری صاحب کے گرد سے جاہ پرستوں اور خوشامدیوں کا حصار ٹوٹ رہا ہے۔ کل تک جان نچھاور کرنے کے دعویدار اب ہوا کا رخ بھانپ کر ’’نیویں نیویں‘‘ ہو کر نکل رہے ہیں۔ اب صاحب صدر کو تنہائی کا احساس ہوگا۔ پی ٹی آئی کو توقعات سے کہیں کم پذیرائی مل سکی۔ لیکن اسے دلبرداشتہ ہونے کے بجائے اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہوگا۔ عمران خان کا سٹیج سے گرنا ان کے لیے ہمدردی کا کتنا ووٹ لا سکتا تھا؟ اس سے زیادہ نقصان دو روز انتخابی مہم لاوارث رہنے سے ہو گیا۔ نوجوان اور خواتین پوری قوم تک عمران کا پیغام نہ پہنچا سکے۔اس نے مہم کے لیے انٹرنیٹ، فیس بُک، ای میل اور موبائل کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا تک رسائی ہی کتنے پاکستانیوں کی ہے؟ دس سے پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں او ران میں سے بھی ہر کوئی عمران کو ووٹ دینے پر مائل تو نہیں ہو سکتا تھا۔ اور سوشل میڈیا ،الیکٹرانک میڈیا کا انحصار تو بجلی پر ہے جو روزانہ 18سے20گھنٹے بند رہتی تھی۔ پی ٹی آئی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں شکست بھی کھیل کا فتح کی طرح ہی حصہ ہے۔ جس سے عمران سے زیادہ کوئی اور شناسا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پانچ سو کرکٹ میچ کھیلے ان میں کئی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔سیاست میں جیت کے لیے مستقل مزاجی اور فعالیت کا اہم کردار ہے۔ عمران خان یاد رکھیں کہ حصولِ مقاصد کے لیے اقتدار کا تڑکا بھی ضروری ہے ،وہ موقع بھی اسے مل رہا ہے۔پی ٹی آئی خیبر پی کے میں حکومت بناتی نظر آتی ہے۔ اس صوبے میں وہ کارکردگی دکھا کر آئندہ انتخابات میں اسے کیش کرا سکتی ہے۔ اس مرتبہ ٹکٹوں کی تقسیم میں جو کوتاہیاں ہوئیں ان کا جائزہ لینے کا بھی عمران کے پاس وقت ہوگا۔ یوتھ دل آزردہ ہونے کے بجائے اگلے میچ کی تیاری اور انتظار کرے۔ اور سب سے مشکل آزمائش کی گھڑی میاں برادران کے لیے اب شروع ہوئی ہے کہ ان کے پاس مینڈیٹ بھی ہے اور عوامی خواہشات اور تقاضوں کی ایک طویل فہرست بھی ان کے سامنے ہے ۔اب وہ پورے ملک میں میٹروبس اور بُلٹ ٹرین چلا سکیں گے کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ مگر بجلی کا بحران ختم کرنے کا انتخابی وعدہ اس وقت سرفہرست ہے ۔ ان اندھیروں نے جس نے پیپلزپارٹی کی نیّا کو ڈبویا اس کا ’’میاں جی‘‘ آپ کو سدِ باب کرنا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus