×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انتخاب: یومِ حساب واحتساب
Dated: 11-May-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بالآخر پانچ سالہ حکمرانی کے حساب کا دن آ گیا۔ کارکردگی آج پاکستانیوں کے شعور سے ووٹ کی پرچی میں منتقل ہو جائے گی۔ میری پارٹی کو اپنی کارکردگی کا ادراک تھا۔ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے انتخابی مہم کو اپنے جلسے، جلسوں اور ریلیوں سے گرما دیا۔ پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں میاں نوازشریف، عمران خان اور شہباز شریف لاکھوں کے اجتماعات سے خطاب کرتے رہے۔ کراچی خیبر پی کے اور بلوچستان میں وہ سماں نہ بندھ سکا جو الیکشن کمپین کا خاصا ہے۔ ان علاقوں میں اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی کو دہشتگردوں کی کارروائیوں اور دھمکیوں کا سامنا تھا۔ پنجاب میں تو کوئی ایسی صورت حال نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت پنجاب میں بھی غائب رہی۔ مجھے یقین ہے کہ پیپلزپارٹی پوری کوشش کے باوجود پی ٹی آئی اور نواز لیگ جیسے بڑے اجتماعات کے انعقاد سے قاصر رہی۔ اس کی کارکردگی سے عوام اور جیالے یکساں مایوس ہیں۔ یہ جلسوں میں جا کر مہنگائی، بے روزگاری، گیس و بجلی کی قلت کے ذمہ داروں پر ٹماٹر اور انڈے پھینکتے ،ڈنڈوں سے حملے کرتے۔ پی پی پی کی دوسرے درجے کی لیڈر شپ نے یہ سب کچھ بھانپ لیا تھا۔ اور اپنا پورا زور میڈیا پر اشتہارات کی مہم پر لگا دیا۔ جس کے لیے کارکنوں کی ضرورت پڑتی ہے نہ جیالوں کی۔ پارٹی میں پہلے درجے کی قلت کا فقدان ہے دوسرے درجے کی لیڈرشپ عوامی ردعمل سے خائف ہو کر دبک گئی۔ کارکن اور جیالے بھی کنارا کش ہو گئے۔ پارٹی کے پلے باقی کیا رہ گیا؟ صرف اشہارات رہ گئے۔ان اشتہارات میں بھی اپنی کارکردگی کا کوئی تذکرہ نہیں۔ کارکردگی کوئی ہو تو اس کا تذکرہ ہو، اگلے پانچ سال کے لیے پروگرام کی بھی تشہیر نہیں کی گئی۔ پورا زور مسلم لیگ ن کو ہدف تنقید بنانے پر ہے۔ جس کا فائدہ تیسرے فریق کو پہنچے گا۔ اور بار بار ہر انتخاب میں پارٹی کے شہیدوں کو بیچنے کی کوشش کی گئی اور سارا زور نوح خوانی پر رہا۔ اب تو سندھ سے بھی پی پی پی کے خاتمے کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ آج شام تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے قائدین اقتدار میں تھے تو ان کی آنکھیں اختیارات کی چکاچوند سے چندھیا گئی تھیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ یہ اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتے تھے۔ شیشے کے گھروہ بنائے جو کسی پر سنگ باری نہیں کرتا۔ انہوں نے تو دہشتگردوں کو باقاعدہ للکارا۔ ان کے خلاف فوج کو کھڑا کرکے سب کچھ بھول گئے۔ دہشتگردی کے خلاف کوئی قانون سازی سرے سے کی ہی نہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پانچ سال کے دوران پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے اتحاد کی حکومت میں ملک کو دہشت گردی کی بدترین قسم کا سامنا رہا لیکن نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو کام کرنے نہیں دیا گیا۔ اسے ناپسندیدہ بیوروکریٹس یا پھر سیاسی بھرتیوں کی آماجگاہ بنا دیا گیا۔ وزارت داخلہ نے ناکٹا حکام کو بتائے بغیر کم از کم 40 افراد کو اس ادارے میں بھرتی کردیا۔ ادارے کے چیفس کو نہیں بتایا گیا کہ ناکٹا میں کس طرح کی بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ ایک ماہ بعد انہیں بتایا گیا ۔ادارے نے ان افراد کو تلاش کیا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ اپنے گھروں پر تنخواہیں وصول کر رہے تھے۔ 2008ء میں ناکٹا کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت قائم کیا گیا تھا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت مل کر کام کرتا۔جس معاونت یا کو آرڈی نیشن کے لئے یہ ادارہ قائم ہواوہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اپنی جان کے تحفظ کی اس لیے پروا نہیں تھی کہ شیشے کے گھروں پر سرکاری پہرے داربیٹھے تھے۔ اقتدار ہاتھ سے گیا تو جن پر سنگ باری کی گئی اور ان کا کوئی مستقل بندوبست نہ کیا تو انہوں نے موقع پاتے ہی شیشے کے محلات پر گولہ باری شروع کر دی۔ چنانچہ گذشتہ حکومت کے اتحادی دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں۔گذشتہ روز سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو اپنی انتخابی مہم کے دوران ملتان میں بھرے جلسے سے اغوا کر لیا گیا۔ 11اگست 2011ء کو گیلانی کے دورِ حکومت میں سلمان تاثیر مرحوم کے بیٹے شہباز تاثیر کو اغوا کیا گیا تھا۔ اس کی اب تک کوئی خیر خبر نہیں ہے۔ علی حیدر گیلانی کے اغوا پر راجہ پرویز اشرف نے وزیراعلیٰ نجم سیٹھی کو فون کرکے اپنے بیٹوں کے لیے سکیورٹی مانگی تو ان کا پُرملال جواب تھا کہ 4گھنٹے بعد انتخابی مہم ختم ہو رہی ہے۔اس مدت کے لیے سکیورٹی مانگنے کے بجائے اپنے بچوں کو گھر بٹھائیں۔ویسے بھی حکومت ہر امیدوار کو سکیورٹی فراہم کرے تو پوری فوج اور پولیس اسی کام کے لیے وقف کرنا ہو گی۔پروٹوکول پر تنقید پر ناک بھوں چڑھانے والے گیلانی کے پاس 4سو سرکاری محافظ ہیں۔ خادم پنجاب بھی ایسا ہی پروٹوکول انجوائے کرتے ہیں۔ سابق گورنرز ،وزرائے اعلیٰ ، سپیکرز، سابق صدور اور وزرائے اعظم کو بھی پروٹوکول کی ضرورت رہتی ہے۔ ان کی تعداد اور ان کے پروٹوکول عملے کا اندازہ لگا لیں ۔ پروٹوکول ڈیوٹیاں دینے والے اس طرف سے فارغ ہو تو کسی دوسرے کو سکیورٹی دی جائے۔ گذشتہ پانچ سال میں 60سالہ کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ افسوس کہ ان لوگوں کو پھر الیکشن لڑنے کا موقع دے دیا گیا۔ شاید الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے پاس سکروٹنی کا وقت کم تھا۔ انتخابات کے بعد بدعنوانوں پر ہاتھ ڈلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جس کا پانچ سال میں لوٹ مار کرنے والوں کو احساس ہے۔ وہ انتخابی نتائج کے منتظر ہیں۔ شکست کی صورت میں پہلی فلائٹ پکڑیں گے اور جہاں جہاں اپنی د ولت رکھی ہے وہاں پہنچ جائیں گے۔ اکثر کی فیملیز وہیں ہیں۔ جن کی پاکستان میں ہیں وہ ساتھ لے جائیں گے۔ اس موقع پر میری تجویز ہے کہ فوج عارضی ایمرجنسی نافذ کرے۔ گذشتہ پانچ سال میں تمام ایم این ایز ،ایم پی ایز ، سینیٹرز،وزراء ،وزیروں،مشیروںاور جو اشخاص مختلف محکموں کے چیئرمن گذشتہ پانچ سال میں رہ چکے ہیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے، یہ سلسلہ چالیس دن تک برقرار رہے، ایئرپورٹس کی کڑی نگرانی کی جائے، 40دن میں لوگ کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف کیس عدالتوں میں درج کرا دیں گے۔ جن کے خلاف کوئی کیس نہ ہو اور جو کلیئر ہو جائیں ان کو جہاں چاہیں جانے دیا جائے۔ کسی ایک کو بھی ایک بھی پائی معاف نہیں کی جانی چاہیے۔ انتخاب یقینا یومِ حساب ہے اور اس کے ساتھ ہی احتساب کا عمل شروع ہو جانا چاہیے۔ گذشتہ حکمرانوں کی بدنیتی کا اندازہ لگا لیں کہ الیکشن سے ایک روز قبل اوورسیز پاکستانیوں کو وٹ کا حق دے دیا گیا۔ اس پراسیس میں ایک ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ گویا پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے پاکستانی اگلے الیکشن میں ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے۔ اگر ایک ماہ قبل صدر صاحب آرڈیننس جاری کر دیتے تو آج ایک کروڑ تارکین وطن کتنے خوش ہوتے۔لیبیا کے سابق حکمران کرنل محمد قذافی کے اطراف نوجوان کمانڈو خواتین کا حصار رہتا تھا ۔سنا ہے کہ وہ خواتین ہی قذافی کی بربادی کا سبب بنیں۔اور اسی طرح صدرِمملکت کے اردگرد بھی خواتین کا حصار قائم ہے ۔ مجھے ڈرلگتا ہے کہ کہیں ان کا حشر بھی قذافی جیسا نہ ہو؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus